پشاور زلمی برینڈ کیسے بنا؟

پشاور زلمی کے چیف کمرشل آفیسر نوشیرواں آفندی کہتے ہیں کہ جب ہم پشاور میں کھیلیں گے تو ایک بہت مختلف پشاور زلمی وہاں جائے گی اور اسے دس گنا زیادہ شہرت ملے گی۔

پاکستان سپر لیگ کا ساتواں ایڈیشن آئندہ سال 27 جنوری سے شروع ہونے جا رہا ہے اور پی ایس ایل سکس کے فائنل کی رنر اپ ٹیم پشاور زلمی ایک بار پھر کڑے مقابلے کی تیاری کر رہی ہے۔

پشاور زلمی کی تیاریوں اور اس کی برینڈ ویلیو میں اضافے سے متعلق جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے پشاور زلمی کے چیف کمرشل آفیسر نوشیرواں آفندی سے بات کی ہے۔

پشاور زلمی کا معاشی ماڈل کیا ہے؟

نوشیرواں آفندی: ’کسی بھی سپورٹس فرینچائز کی طرح ہمارا معاشی ماڈل یہ ہے کہ آپ ایک فرینچائز فیس دیتے ہیں اور اس کے بعد آپ ٹورنامنٹ میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔‘

’اس میں بہت سے ریوینیو ماڈل شامل ہوتے ہیں۔ جس میں ایک سینٹرل پول ہوتا ہے جو ساری فرینچائز میں تقسیم ہوتا ہے۔ اس میں آپ کو براڈکاسٹنگ رائٹس کے پیسے ملتے ہیں۔ سینٹرل سپانسرز کے پیسے ملتے ہیں اور ساتھ ہی ٹکٹ سیل کے پیسے بھی ملتے ہیں۔ یہ کافی وسیع ہوتا ہے۔‘

’اس کے علاوہ کچھ انفرادی ریوینو کے ذرائع ہوتے ہیں جیسے ایک انفرادی ٹیم کی اپنی سپانسرشپ اور مرچنڈائز سیل۔‘

کیا ابھی تک آپ کو پی ایس ایل میں منافع ہوا ہے؟

نوشیرواں  آفندی: ’سب جانتے ہیں کہ فرینچائز مالکان یا فرینچائزز ابھی اس کو منافع بخش کاروبارمیں تبدیل نہیں کر سکے ہیں، جس کی مختلف وجوہات ہیں۔‘

’جب پی ایس ایل پاکستان آیا تو پہلے سکیورٹی کے مسائل تھے۔ میچز دبئی میں ہو رہے تھے، ٹکٹوں کی فروخت کا بھی وہ اثر نہیں تھا اور مجموعی طور پر بھی ایونٹ کی کوئی ہائپ نہیں تھی اور پھر کوویڈ آگیا اس کے علاوہ بھی پی ایس ایل کا جو مجموعی بزنس ماڈل ہے اس میں بھی کچھ فرینچائزز چاہتی ہیں کہ کچھ تبدیلیاں ہوں اور کچھ ہوئی بھی ہیں، لیکن فی الحال پشاور زلمی یا دیگر فرینچائزز بھی منافع نہیں کما رہیں۔‘

شروع میں پشاور زلمی سستی ٹیم تھی۔ بہتری کس طرح آئی؟ پی ایس ایل کے اگلے ایڈیشن میں برینڈ ویلیوو کس حد تک بڑھ سکتی ہے؟ 

نوشیرواں  آفندی: ’جو بھی شہر کوسموپولیٹن سٹی کے شیڈو میں رہے ہوتے ہیں ان کی سپورٹس ٹیم کی ایک بہت پرجوش فالوئینگ ہوتی ہے۔ جب ہم نے جنوبی افریقہ میں بھی ٹیم خریدی۔ ’بینونی‘ وہ بالکل جوہانسبرگ کے ساتھ تھی اور ہم نے اسی لیے خریدی تھی کیونکہ لوگوں کو ایک برینڈڈ لیول پر نمائندگی چاہیے ہوتی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نوشیرواں کہتے ہیں کہ ’آپ ان کو نمائندگی دیتے ہیں تو آپ کی فالوئینگ بہت پرجوش ہو جاتی ہے۔ جیسے کہ آپ دیکھتے ہیں کہ پشاور زلمی کے فینز بہت زیادہ پرجوش ہیں نہ صرف پشاور بلکہ پورے ملک اور دنیا بھر میں۔ ‘

’اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم ایک چیز کو ایک مخصوص جگہ پر لے کر جاتے ہیں اور پھر آپ اس کے اندر ایک برینڈ کے طور پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ہماری فرینچائز فیس مقابلتاً سستی تھی۔ اب جب ہم پشاور میں کھیلیں گے تو ایک بہت مختلف پشاور زلمی وہاں جائے گی، اور میرے خیال میں جہاں ہمارا برینڈ ابھی کھڑا ہے اسے دس گنا زیادہ شہرت ملے گی۔‘

پشاور زلمی نے اچھے نتائج دیے جس کے باعث فرینچائز کو کتنا مالیاتی فائدہ ہوا؟

نوشیرواں  آفندی: ’ساری فرینچائزز ایک مشکل مالیاتی صورت حال سے گزر رہی تھیں لیکن ہم نے اسے بھی ایک موقع کی طرح لیا۔ ہم نے اپنے برینڈ میں سرمایہ کاری کی، جس طرح کا ہمارا مواد ہوتا ہے ہم اسے بہت مختلف رکھتے ہیں۔ میرے خیال میں عالمی طور پر بھی جو ہمارے ترانے بنتے ہیں۔ ہمارا ڈیجیٹل ہے اس طرح کا مواد وہاں بھی نہیں ہے۔‘

’ہم کوشش کرتے ہیں اچھی کارکردگی دکھائیں۔ ہمیں ہمارے سپانسرز کا بھی بہت تعاون ہوتا ہے جو کہ بہت گنے چنے ہیں اور وہ ان چیزوں میں بہت دلچسپی لیتے ہیں۔‘

’نیویارک کی ایک کمپنی نیلسنز جو کہ ایک بہت بڑی ایولوایشن کمپنی ہے اور دنیا کے میڈیا نمبرز پر تحقیق کرتی ہے۔ انہوں نے بھی ہمارے نمبرز دیکھے ہیں اور ان کی تحقیق میں بھی یہ معلوم ہوا ہے کہ ہم سب سے بڑی فرینچائز ہیں۔ ان کے مطابق پی ایس ایل فور سے پی ایس ایل سات تک ہماری ڈیجیٹل کی ویلیو ایک ملین ڈالر سے سات ملین ڈالر تک گئی ہے جو کہ ان کے مطابق آئی پی ایل جوکہ سب سے بڑی ایک کمرشل لیگ ہے ان کے ڈیجیٹل سے بھی زیادہ نمایاں ہے۔ میرے خیال میں ہماری مجموعی برانڈ ویلیو بڑھتی گئی ہے۔‘

کیا آمدنی اور اخراجات کا آڈٹ ہوتا ہے؟

نوشیرواں  آفندی: ’ہمارے پارٹنرز اور سپانسرز کا پینل ملٹی نیشنل ہے۔ جتنے بھی قانونی تقاضے یا کاغذی کارروائی ہوتی ہے ہم اسے بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ اس لیے ہر چیز کا آڈٹ ہوتا ہے۔‘

پشاور زلمی فلاح و بہبود کا کام بھی جاری رکھے ہوئے ہے جیسے آرمی پبلک سکول کے بچوں کے لیے آپ نے میچ کی ٹکٹیں دیں تو کیا ایسے کام آؤٹ آف دی باکس ہوتے ہیں یا آپ کے بزنس پلان کا پہلے سے حصہ ہوتے ہیں؟ 

نوشیرواں  آفندی: ’پشاور زلمی کی ہمیشہ سے کوشش رہی کہ وہ معاشرے کو کچھ واپس دیں۔ زلمی فاؤنڈیشن رجسٹرڈ این جی او ہے جو اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرتی ہے۔ ان کے مل کر ہم قابل تجدید مقاصد اور دیگر کاموں پر کام کرتے ہیں۔ جس میں بین المذاہب ہم آہنگی اور خواتین کو بااختیار بنانا شامل ہے۔‘

نوشیرواں کے مطابق ’ہمارا مقصد سرحدوں کے پارلوگوں کو کھیل کے ذریعے جوڑنا ہے۔ ہم شاید واحد این جی او ہیں جوچندہ اکٹھا نہیں کرتی ہم معاشی طور پر جو سرمایہ کاری کر رہے ہوتے ہیں وہ سیلف فائنانسڈ ہوتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ