امریکہ پہنچنے والی افغان خواتین، کسی کو تدفین تو کسی کو بیماریوں کا غم

’لوگ کہتے ہیں امریکہ اور یورپ میں تو سانولے سلونے بھی سفید ہو جاتے ہیں مگر یہاں سبھی بچوں کے بےرونق چہرے دیکھ کر دل میں ہول اٹھنے لگتے ہیں۔ خدا مسافری کی آنکھیں پھوڑے جس نے ہمیں دیکھ لیا۔‘

موسم بدلتے ہی نزلہ کھانسی بخار ہونا تو بچوں کی عادی بیماریاں ہیں مگرکیمپ میں  چیچک کے کیس سامنے آنے پرخود امریکی ڈاکٹر بھی حیران رہ گئے (تصویر: ثروت نجیب)

تعارف: اس سال اگست میں افغانستان سے ترک وطن کرنے والے ہزاروں افراد میں ثروت نجیب بھی شامل ہیں۔ وہ امریکی کیمپ سے انڈپینڈنٹ اردو کے لیے خصوصی تحریریں لکھ رہی ہیں۔ اس سلسلے کی یہ دوسری کڑی ہے۔


کچھ لوگ اپنے دکھ درد اور پرانی بیماریاں بھی ساتھ لائے اور کچھ یہاں آ کر بیمار پڑگئے۔ مختلف ممالک اور کیمپوں کی آب و ہوا اور کھانے انہیں راس نہیں آئے۔

انہیں پیٹ درد، گیس، اینٹھن، مروڑ اور اسہال کی شکایات ہونے لگی۔ کچھ مشترکہ بیت الخلا کے استعمال کی وجہ سے بیمار ہوگئے۔

موسم بدلتے ہی نزلہ کھانسی بخار ہونا تو بچوں کی عادی بیماریاں ہیں مگر چیچک کے کیس سامنے آنے پہ خود امریکی ڈاکٹر بھی حیران رہ گئے۔ وہ مرض جو پوری دنیا میں ختم ہو چکا تھا، افغانستان میں ابھی باقی ہے۔

ایسے مریض بچے خطرے کا ایک الارم ہیں جو ہمیشہ جنگ زدہ علاقوں میں بجتے ہیں اور پوری دنیا تک ان کی آواز کسی نہ کسی طریقے سے پہنچ جاتی ہے۔ وہ بچے جنہیں یورین انفیکشن ہوا وہ ٹوائلٹ تک جاتے جاتے پینٹ گیلی کر دیتے ہیں۔ میں نے تقریباً چھ، سات سال کے لڑکے کو بھاگتے بھاگتے ٹوائلٹ جاتے دیکھا۔ اس سے پہلے کہ وہ ٹوائلٹ میں داخل ہوتا اس کی پینٹ وہیں گیلی ہوگئی۔ وہ زور سے چلایا: ’مورے ے ے ے۔‘

پیچھے آتی اس کی ماں نے بیٹے کے قریب جا کر کس کے دو مکے اس کی کمر پہ مارے اور کہا: ’پھر پینٹ گیلی کر دی۔‘ میں نے کہا: ’مت مارو۔ ہوسکتا ہے بچے کا مثانہ کمزور ہو گیا ہو، کلینک لے جاؤ۔‘ وہ نہ مانی اور کہا: ’نہیں یہ کوئی چھوٹا بچہ ہے جسے پتہ نہیں چلتا۔ جب نکلنے لگتا ہے، تب بھاگتا ہے۔ پہلے کیوں نہیں بتاتا؟‘

دو دن بعد اسی عورت کا وضو بھی بار بار ٹوٹنے لگا۔ ٹوائلٹ کے چکر لگا لگا کر اس کا چہرہ زرد ہوگیا۔ پیٹ میں ایسا درد کہ درد سے دوہری وہ میرے پاس آئی کہ ’تم ٹھیک کہتی تھی۔ یہ تو بیماری ہے اور ہمارے گھر کے سارے لوگ اس میں مبتلا ہوچکے ہیں۔‘

’میرے ساتھ کلینک چلو، کہیں مثانے میں سوراخ تو نہیں ہو گیا؟‘ میں اسے کلینک لے گئی۔ ڈاکٹر نے ان کا معائنہ کیا اور یورین ٹیسٹ کے لیے دیا۔

ہم دونوں وہیں انتظار میں بیٹھے تھے کہ دوسرے بستر پہ مجھے سفید چادر اوڑھے بزرگ خاتون ملیں جو سر جھکائے اتنی خاموشی سے بیٹھی تھیں کہ ایک بار انہیں ٹوکنا مجھے اچھا نہ لگا لیکن پھر بھی میں نے ہمت کر کے سلام کیا۔ انہوں نے سر اٹھا کر خندہ پیشانی سے جواب دیا۔ ان کا چہرہ بہت نورانی تھا، نازک سی لمبی پتلی انگلیاں جن میں سونے کی انگوٹھیاں تسبیح پھرول رہی تھیں۔

ایک نرس نے آ کر ان کا شوگر لیول چیک کیا۔ میں نے دیکھا کہ شوگر 285 تک تھی۔ نرس کے جاتے ہی میں نے اس خاتون سے پوچھا: ’خالہ آپ کو کیا ہوا ہے؟‘ انہوں نے کہا: ’کچھ نہیں بیٹا ویسے ہی بس کل سے سر چکرا رہا تھا۔‘

باتوں باتوں میں انہوں نے مجھ سے پوچھا: ’کہاں سے آئی ہو؟‘ میں نے جواب دیا: ’کابل۔‘ تو کہا: ’میں بھی کابل کی ہوں۔‘ کہنے لگیں: ’40 سال شادی کو ہوگئے تین سال سے بیوہ ہوں۔ شوہر کی قبر وہاں رہ گئی اور خود یہاں آ گئی۔ اب یہ بوڑھی ہڈیاں امریکہ میں دفن ہوں گی۔‘ میں ان کی ساری پریشانی سمجھتے ہوئے بولی: ’خالہ چند سال کی بات ہے پھر وطن واپس جائیں گے۔ اس بات پہ آپ خفا نہ ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا: ’اللہ بخشے میرے والد نے بھی میری والدہ سے یہی کہا تھا، پھر اسے پشاور میں دفنا کر کابل آ گئے۔ کتنے سال بیت گئے ہم دوبارہ ماں کی قبر پر نہ جا سکے۔ اب میں امریکہ میں مروں گی تو میری قبر بھی ایسے ہی بےیارو و مددگار رہ جائے گی۔‘

اسی اثنا میں ان کا بیٹا وہاں آ گیا اور میں کھسک کر اپنی مریضہ کے پاس آ گئی۔ اس کی رپورٹ آ چکی تھی۔ اسے یورینری ٹریکٹ انفیکشن تھا۔ ڈاکٹر نے پلاسٹک کی تھیلی میں گن کر پانچ دن کے کیپسول دے دیے۔

یہاں حاملہ خواتین کی اپنی مشکلات ہیں، گو کہ ان کا باقاعدہ چیک اپ ہوتا ہے مگر میں سوچتی ہوں کہ ان کی کوکھ میں پلنے والے بچوں کی کیا نفسیات ہوگئی جو دنیا میں آنے سے پہلے ہی ہجرت پہ مجبور ہوگئے۔ وہ فوجی طیاروں کی گھن گرج میں کابل سے نکلے اور ماں کی گریہ زاری سن سن کر پرورش پا رہے ہیں۔

کئی خواتین کے بچے تو انہی راستوں کے دھکم پیل میں ہی ضائع ہوگئے۔ محض ماؤں کی خالی کوکھ اور بھیگی آنکھیں امریکہ آ گئیں۔

میں خود وہ ماں ہوں جس کے چاروں بچے ایک ساتھ بیمار ہیں۔ پچھلے ایک ہفتے سے میرے بیٹے نے کھانا چھوڑ دیا ہے۔ اس کو کھانا دیکھ کر الٹیاں آنے لگیں۔ ڈاکٹر نے کہا کہ ’کونسلنگ کرواؤ بچہ اپ سیٹ ہے۔‘ پھر اس کی نکسیر پھوٹ پڑی۔

مسلسل ہر روز کہیں بھی، کسی بھی وقت اس کی ناک سے خون آنے لگتا ہے۔ اگلے دن دوسرا بیٹا اور پھر بیٹی ایسی ہی کیفیت کا شکار ہوگئے۔ ان کے چہرے اور آنکھیں بھی زرد ہوگئیں اور سارا دن بستر پہ لیٹے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر نے بلڈ ٹیسٹ لیے۔ جب تک رپورٹ نہیں آتی میرے دماغ میں طرح طرح کی بیماریاں کا بسیرا رہا۔

لوگ کہتے ہیں امریکہ اور یورپ میں تو سانولے سلونے بھی سفید ہو جاتے ہیں مگر یہاں سبھی بچوں کے بےرونق چہرے دیکھ کر دل میں ہول اٹھنے لگتے ہیں۔ خدا مسافری کی آنکھیں پھوڑے جس نے ہمیں دیکھ لیا۔ آہ! ہمارے کابلی سیبوں کو ہجرت کی نظر لگ گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ