تالے بان اور ان کی چابیاں

ان 20 سالوں میں کوئی گھر ایسا نہیں جس نے طالبان کی وجہ سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہ اٹھایا ہو۔ ایسے میں اگر بالفرض طالبان کابل پہ قابض ہو بھی جائیں تو وہ زیادہ دیر نہیں رہ سکتے۔

کابل میں ایک شخص  چار اگست، 2021 کو ہوئے بم دھماکے سے تباہ عمارت کی صفائی کر رہا ہے (اے ایف پی)

افغانستان میں جنگ  کی ہولناکی اور تباہی عروج پہ پہنچ چکی ہے۔ امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو جلد از جلد افغانستان چھوڑنے کا عندیہ دیا۔ اگلی صبح بی 52 طیاروں نے شبرغان پہ حملہ کر دیا۔ اس اطلاع نے عوام کو بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کیا ہے۔

ٹرمپ کے دور حکومت میں عمران خان سے ملاقات کے دوران جب صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر ہم افغانستان کی جنگ کو جنگ سے جیتنا چاہتے، تو میں ایک ہی ہفتے میں ایسا کر سکتا تھا۔

’لیکن مجھے صرف ایک کروڑ عوام کی فکر ہے، میں انہیں مارنا نہیں چاہتا ورنہ ایسا کرنا مشکل نہیں تھا پر پھر افغانستان سطح ہستی سے مِٹ چکا ہوتا، جو میں کبھی نہیں کروں گا۔ ورنہ صرف دس دن میں یہ ممکن ہے، پر میں ہرگز یہ راستہ اختیار نہیں کروں گا۔‘

یہ بات بذات خود بہت گہری  تھی۔ عمران خان کا اس وقت کیا ردعمل تھا نہیں معلوم لیکن اس بات کا یقین ہو گیا کہ عمران خان کی شرائط نے امریکی حکومت کو اتنا زچ کر دیا کہ وہ آخر میں کہہ اٹھے ’نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔‘

افسوس کہ ’ڈو مور‘ کے مشترکہ مفاد میں افغانستان کی تباہی کا کسی نے نہ سوچا بلکہ پاکستان ابھی تک شاید یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان کی بدامنی پاکستان کے مفاد میں ہے جس کی وجہ سے وہ کبھی بھی حقیقی امن کے راستے ہموار نہ کر سکا۔

طالبان میں تو عوام کا ذرا برابر خیال نہیں۔ وہ جنگ جیتنے کے جنون میں دین، مذہب، پشتون ولی اور جنگی اصول تک بھول چکے ہیں۔ طالبان کا جہاد گریٹ گیم کا ایک حصہ ہے۔

اس جنگ کی ساری کڑیاں 1839 کی اینگلو افغان وار سے جا ملتی ہیں جب دو بڑی قوتیں روس اور برطانیہ ایک دوسرے کے خوف میں مبتلا تھیں۔

روس اور برطانیہ چاہتے تھے کہ افغانستان انہی کی شرائط پہ ان کا حمایتی بنے۔ تب افغانستان نے روس کے ساتھ الحاق کیا۔ برطانیہ نے اسی پاداش میں تین بار افغانستان پہ حملے کیے مگر ہر بار کامیابی نہ ملنے کے باعث آخر کنگ امان اللہ خان کے دور میں افغانستان کو آزاد چھوڑ دیا۔

ظاہر شاہ کے شاندار دور حکومت کے بعد یہ آزادی ایک بار پھر ڈانواں ڈول ہو گئی۔ اس کے بعد افغانستان کا سیاسی منظرنامہ تیزی سے بدلتا رہا۔

روسیوں کے بعد امریکی آئے اور اب امریکیوں کے بعد اس خطے پہ چین کی نظریں ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ افغان جنگ میں ایک سہولت کار کا کردار ادا کیا۔

افغانستان میں طالبان دور کے دوران یہی طالبان امریکہ کے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ وہ اپنی من مانیاں کرنے لگے تھے۔ تب بھی پاکستان نے حالات کو سازگار کرنے میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا۔

اسامہ بن لادن اور اس کی گمشدگی ساری دنیا کے لیے ایک معمہ بنی رہی، وہی اسامہ بعد میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد سے برآمد ہوا۔

2001 کے امریکی حملے نے طالبان کو بہت پیچھے دھکیل دیا لیکن اس عرصے کے دوران کبھی بھی طالبان نے افغانستان کو سکون کا سانس نہیں لینے دیا۔

اس دوران دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ اپنے انتہا کو پہنچ گئی۔ دوسری جانب امریکہ، افغانستان کا انفراسٹرکچر کھڑا کر رہا تھا۔ ملبے اور راکھ کے شہروں میں نئی روح پھونک رہا تھا۔

دیکھتے ہی دیکھتے افغان کرنسی کی قدر بہتر ہوئی۔ دنیا بھر کے سرمایہ داروں نے افغانستان کا رخ کرنا شروع کر دیا۔

حامد کرزئی کے 12 سال خوشحالی کی دہائی کہلائے جا سکتے ہیں لیکن اشرف غنی کے دوسرے صدارتی دور میں ایک طرف سرکاری سطح پہ کرپشن انتہا کو پہنچ گئی تو دوسری طرف حکومت کی غیرسفارتی زبان اور غیرذمہ دارانہ رویے سوہانِ روح بنتے گئے۔

اسی اثنا طالبان ایک بار پھر قوی ہو کر سامنے آ گئے۔ پانچ ہزار سے زائد طالبان قیدیوں کو آزاد کرانے کے بعد بھی امن مذاکرات ناکام رہے۔

اشرف غنی اپنی انتخابی مہم کے دوران سے ہی پاکستان کے لیے ناپسندیدہ رہے صرف اس غلط فہمی کی بنا پر کہ وہ ہند نواز ہیں۔

اب جب طالبان قیدی بھی رہا ہو چکے تو صلح ہو جانی چاہیے تھی مگر طالبان کی شرط ہے کہ اشرف غنی حکومت سے دست بردار ہوں تو وہ صلح کے لیے آمادہ ہوں گے۔

ان کی ایسی شرائط عوام کو کھٹکنے لگیں۔ پاکستان اور طالبان کے خدشات، مطالبات اور احساسات سبھی ایک جیسے ہی کیوں ہیں؟

پاکستان بھی چین کا خیر خواہ اور طالبان نے بھی حال ہی میں چین کے ساتھ حمایت کا اعلان  کر دیا۔ چین ایک کمیونسٹ ملک ہے اور یہی طالبان روس جیسے کمیونسٹ کے خلاف لڑ چکے ہیں۔

جب یہ ظاہر ہوا کہ امن مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہو رہی اور نہ ہی ہونے کا امکان ہے تو امریکہ نے انخلا میں ہی عافیت سمجھی۔ اس اعلان کو پوری دنیا میں طالبان کی فتح قرار دیا جانے لگا جس سے طالبان کو اور بھی شہ ملی۔

طالبان نفسیاتی برتری کی وجہ سے ایک طرف تو ملی اردو (نیشنل آرمی) کے ساتھ لڑ رہے ہیں تو دوسری طرف شہری آبادی میں جنگی جرائم میں بھی ملوث ہیں۔

قندوز جو 1997 میں وہ آخری شہر تھا جس پہ طالبان نے قبضہ کیا تھا اس بار پہلے فتح ہوا۔ آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا شہر افغان فورس کے ہاتھ سے نکل گیا یا یوں کہہ لیں کہ افغان فورسز نے ہتھیار ڈال دیے۔

ان کے مطابق ایسے علاقوں میں جنگ کرنا انتہائی مشکل ہے جہاں طالبان مقامی آبادی کو یرغمال بنا رہے ہیں اور ان کے مکانوں میں زبردستی پناہ لے رہے ہیں۔

80 ہزار طالبان کا مستقبل تو معلوم نہیں لیکن افغانستان کے اکھاڑے میں اب امریکہ اور چین مدمقابل ہیں۔ پاکستان جو پہلے امریکہ کا سہولت کار تھا اب چین کے ساتھ ہے۔

چین گوادر، بلوچستان سے قندھار اور شاہراہ ریشم سے ہوتے ہوئے یورپ تک رسائی چاہتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ امریکہ نے انخلا کیا ہے مگر اس نے افغانستان کی سرزمین کو چھوڑ دیا ہو، یہ غلط ہے۔

عمران خان کے پاس طالبان کا پتہ اب امریکہ کو ڈرانے کے کام کا نہیں رہا۔ ٹرمپ کی دی گئی دھمکی کے اثرات سامنے آنے لگے ہیں۔ طالبان کا ٹارگٹ عام عوام ہیں۔

ہلمند مکمل طور پہ جل چکا ہے، لشکر گاہ میں آگ سلگ رہی ہے ، نیمروز جس کی سرحد ایران اور قندوز کی تاجکستان سے ملتی ہیں، وہاں بدترین جنگ جاری ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترکی نے الگ دیوار کھڑی کر کے افغان پناہ گزینوں کا راستہ روک دیا ہے۔ پاکستان کی طرف جانے والے زمینی راستے بند ہیں۔ افغانستان ایک سینڈوچ بن چکا ہے۔

روز بروز آئی ڈی پیز کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جنگ زدہ علاقوں میں سڑکوں پہ عام شہریوں کی لاشیں پڑی ہیں جنہیں کوئی اٹھانے والا نہیں۔ بےشمار بچے گم ہو گئے اور عورتوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔

طالبان اسلام کو بدنام کرنے والی پراکسی وار کا حصہ ہیں۔ یہ بات اب افغانستان کے عوام کی سمجھ میں آ چکی ہے۔

ان 20 سالوں میں کوئی گھر ایسا نہیں جس نے طالبان کی وجہ سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہ اٹھایا ہو۔ ایسے میں اگر بالفرض طالبان کابل پہ قابض ہو بھی جائیں تو وہ زیادہ دیر نہیں رہ سکتے۔

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سویت وار میں عوام حکومت کے خلاف کھڑی تھی لیکن اس بار عوام اپنی سرکاری فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔

ہر گھر سے اللہ اکبر کی صدا بلند ہونا دراصل اس بات کی یقین دہانی ہے کہ 1980 کا زمانہ گزر گیا، پانی اب طالبان کے سر سے گزر چکا ہے۔


نوٹ: کالم نگار کابل کی رہائشی ہیں۔ ان کی آرا سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ