کابل: حالات ’معمول‘ پر، لوگ گھروں میں بند

سوال یہ ہے کہ اگر عوام طالبان کے ساتھ ہوتے تو اس کے خوف سے گھروں میں خود کو نظر بند کرتے؟

کابل میں ایک بازار کا منظر جہاں افغان شہری کوٹے سانگی کے علاقے میں خریداری کر رہے ہیں (اے ایف پی)

آج کابل میں لوگوں کی اکثریت اپنے گھروں میں بند ہے۔ سب ہی دفاتر، بینک ادارے، ریڈیو سٹیشنز، کیبل بند ہیں۔ ملک کا ایسا حال ہے جیسے ڈوبتے ہوئے ٹائٹینک کا تھا۔ ہر کسی کو لائف بوٹ چاہیے۔

یہ بات صرف کابل تک محدود نہیں، جہاں جہاں بھی طالبان کنٹرول سنبھالتے گئے وہاں سے خبریں آنے لگیں کہ زیادہ تر لوگ باہر نہیں نکلتے۔

جب طالبان کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ ’ہمیں اطلاعات ملی ہیں کہ جن علاقوں پہ طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے وہاں عوام گھروں میں مقید ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟‘

ترجمان نے جواب دیا: ’یہ ان کا اپنا خوف ہے جبکہ ہم نے کسی کو منع نہیں کیا۔‘

سوال یہ ہے کہ اگر عوام طالبان کے ساتھ ہوتے تو اس کے خوف سے گھروں میں خود کو نظر بند کرتے؟

گو کہ طالبان کے ترجمان نے اپنی طرف سے مکمل تسلی دی اور عوام کو باور کروانے کی از حد کوشش کی کہ وہ پرامن رہیں مگر عوام کا اضطراب ختم نہیں ہو رہا۔

ہر ایک احتیاطی تدابیر اختیار کر رہا ہے۔ کابل میں طالبان کے گھر گھر چھاپے کی خبریں پھیل رہی ہیں۔ لوگ اپنا لائسنس شدہ اسلحہ بھی  چھپا رہے ہیں۔

حالات سے واضح ہوتا نظر آ رہا ہے کہ طالبان سیاسی پروٹوکول سے ناواقف ہیں۔ ارگ اور رشید دوستم کے گھر جس طرح طالبان  داخل ہوئے اور جو برتاؤ انہوں نے کیا اس سے عوام میں مزید بےچینی پھیلنے لگی ہے۔

ایسی وڈیوز اپ لوڈ کرنے کے بجائے طالبان کو چاہیے وہ عملی طور پہ مثبت اقدامات کریں۔

اس بدترین بد نظمی کو امریکہ اور طالبان دونوں ہی اپنی فتح قرار دے رہے ہیں اور امریکہ نے شکست کا سارا ملبہ ڈال دیا افغان فوج پر۔

کیا واقعی افغانستان کو ڈوبنے سے بچانے کی ذمہ داری ایک لاکھ سے بھی کم تعداد والی فوج پر عائد ہوتی تھی؟ 

اس صورت حال میں کسی ایک کو ذمہ دار ٹھہرانے سے قبل جو بائیڈن کی تقریر کی طرف دیکھتے ہیں۔ سب سے پہلے تو انہوں نے کہا وہ پچھلے 20 سال سے افغانستان میں لڑ رہے ہیں۔ لیکن درحقیقت امریکہ 20 سالوں سے نہیں بلکہ پچھلے 40 سال سے افغانستان میں براہ راست ملوث رہا ہے۔

ان 40 سالوں میں جتنی خطیر رقم امریکہ نے جنگ پر خرچ کی اس سے ایک ملک نئے سرے سے آباد ہو سکتا تھا۔

جو بائیڈن نے افغان ملٹری فورسز پہ حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پاس اسلحہ ہے، خوراک اور تنخواہیں بھی امریکہ کی ذمہ داری ہیں اس لیے وہ اپنی جنگ خود لڑیں۔

امریکہ کے پاس تو اس سے کہیں زیادہ اور بہترین وسائل تھے پھر وہ کیوں طالبانائزیشن کو ختم نہیں کر سکا؟

تقریباً 80 ہزار طالبان کس لیے افغان فورسز کے سہارے چھوڑے گئے جبکہ جنگ بھی ان کی اپنی تھی۔ پھر افغان فورسز کو جنگ لڑنے کا مشورہ دینے سے قبل کیا آئی ڈی پیز اور مہاجرین کے لیے کوئی بندوبست کیا گیا؟

نہیں بالکل نہیں۔ حتیٰ کہ امریکہ کے اپنے اہلکار پھنس چکے تھے۔ عین وقت پہ سفارت خانے کا عملہ ایئرپورٹ کی جانب بھاگا۔ جس وقت خفیہ دستاویزات کے جلنے کا دھواں آسمان کی جانب اٹھ رہا تھا اسی وقت طالبان  کابل کے اندر داخلے کی تیاری کر رہے تھے۔

طالبان نے امریکہ کو اتنا وقت تک نہیں دیا کہ سفارت خانے سے جانے والا آخری ہیلی کاپٹر ایئرپورٹ تک پہنچ جائے۔ یہاں امریکہ کا اثر و رسوخ مٹی میں مل گیا۔

جو بائیڈن نے یہ بھی کہا تھا وہ تعمیر کے لیے افغانستان نہیں آئے تھے بلکہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ اور ’جنگ برائے امن‘ کے نعرے کے ساتھ تو آئے تھے۔ لیکن وہ کیسا امن پیچھے چھوڑ کر گئے ہیں؟

ایسی صورت حال میں یہ بیان دینا کہ ہم القاعدہ کو مٹانے آئے تھے مٹا دیا۔ کیا واقعی وہ سمجھتے ہیں القاعدہ محض ایک جماعت تھی؟ جس کے امیر  کو راستے سے ہٹا کر جماعت کی کمر توڑ دی یا وہ ایک نظام ہے جو آج بھی اندر خانے  پل رہا ہے اور کبھی بھی سر اٹھا سکتا ہے؟

جو بائیڈن نے اپنی تقریر میں وزیر دفاع بسم اللہ خان پہ بھروسہ ظاہر کیا تھا جبکہ وزیر دفاع کے بارے میں کابل کے عوام کا کہنا تھا جو شخص اپنا گھر محفوظ نہیں رکھ سکا وہ ملک کا دفاع کیسے کر سکتا ہے؟ وہی ہوا بسم اللہ خان بھی ڈوبتی کشتی کو نہ بچا سکا۔

جو بائیڈن نے اپنی تقریر میں ہزاروں امریکی اہلکار کے کھونے کا ذکر تو کیا مگر افغانستان کے ان عوام کا ذکر نہیں کیا جو امن کی خاطر پچھلے 20 سالوں سے امریکہ کے ساتھ اس لیے کھڑی رہی کہ نہ صرف ان کے ملک بلکہ پوری دنیا میں امن آئے گا۔

خطے میں ترقیاتی کام شروع ہوں گے، روزگار بڑھے گا اور تعلیم کے دروازے کھلیں گے۔ مسائل کے حل کے لیے انہیں خطیر رقم خرچ کر کے دوسروں ملکوں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔

پناہ گزینوں کی واپسی ہو گی اور امن کی صورت حال اچھی ہو جائے گی۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ وقتی امن کا دورانیہ بھی عوام نے بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے دھڑکے میں گزار دیا۔

نائن الیون کے حادثے میں اتنی بےگناہ جانیں جڑواں ٹاورز میں ضائع نہیں ہوئی تھیں جتنی ان جانوں کا بدلہ لینے کی خاطر افغانستان کے عام عوام کی ضائع ہو گئیں۔

امریکہ نے دوران جنگ غلط ٹھکانوں پہ نشانے لگائے، ان آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں طالبان کا وجود ہی نہیں تھا۔ اس کے باوجود امریکی صدر نے کسی افغان کی قربانی کا ذکر تک نہیں کیا۔ نہ ان اہلکاروں کا جن کو امریکہ کے ساتھ کام کرنے کی پاداش میں طالبان نے چن چن کر مارا۔

جب طالبان نے کابل کو محصور کر رکھا تھا تب طالبان بار بار کہتے رہے ہم بنا تشدد کابل فتح کریں گے اور اس کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ اگر واقعی وہ جنگ و جدل سے بچنا چاہتے تھے تو قطر میں مذاکرات میز پہ کیوں حل نہ ہوئے؟

اگر افغان فوج مزاحمت کرتی تو کیا تب بھی عدم تشدد کی پالیسی پہ عمل پیرا ہوتے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کابل ایئرپورٹ پہ بے ہنگم رش ہے، ہر کوئی ملک سے جانے کی کوششوں میں ہے۔ ایئرپورٹ کے قریب گھروں میں مسلسل جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے چنگھاڑنے کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

ایئرپورٹ آنے والے ان لوگوں کو جن کے پاس کوئی سفری دستاویزات نہیں، انہیں ہوائی فائرنگ کر کے ڈرایا جا رہا ہے۔

اشرف غنی، دولت ساز یا تابوت ساز؟

اس بدنظمی کے ذمہ دار امریکہ کے علاوہ  اشرف غنی بھی ہیں جنہوں نے آخری وقت تک عوام سے غلط بیانی کی۔

جب پوری قوم ٹی وی کے سامنے اشرف غنی کے استعفے کی منتظر تھی تب اشرف غنی نے تسلی دی۔ لوگ ایک بار پھر امید لگا کر بیٹھ گئے اور آناً فاناً حالات ایسے بگڑتے گئے کہ عوام کو کسی بھی بات کا یقین نہ رہا۔

اشرف غنی اپنے دوسرے انتخابی دور سے پہلے ہی اپنی مقبولیت کھو چکے تھے۔ ان کی ٹیم ’دولت ساز‘ (حکومت تعمیر کرنے والی) کو لوگ ’تابوت ساز‘ کہنے لگے تھے۔

اشرف غنی کو پہلے عوام نے بابا کا خطاب دیا تھا۔ یاد رہے اس سے پہلے بابا کا خطاب افغانستان کے بانی احمد شاہ ابدالی کو دیا گیا تھا۔ اتنی عزت اور احترام کے بعد اچانک عوام کو بتائے بغیر ملک چھوڑ کر اپنی پوری ٹیم کے ساتھ بھاگنا ہمیشہ کے لیے عوام کے دلوں کو زخمی کر گیا۔

افغانستان کی صورت حال اس کرکٹ میچ جیسی ہو گئی جو پہلے سے فکس ہو چکا ہو اور عوام ٹیم کی کامیابی کے لیے خدا سے گڑ گڑا کر دعائیں مانگ رہی ہو۔ آخر میں اسے پتہ چلے کہ سارے کھلاڑی ہی بک چکے تھے۔

اس وقت حامد کرزئی عوام کی امیدوں کے اکلوتے وارث ہیں۔ طالبان چاہے جتنی بھی تسلی دے دیں اس وقت عوام ان پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔

طالبان کے پاس اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ ملک کے معاملات کو اکیلے سنبھال سکیں۔ انہیں عوام کو گھروں سے نکالنے کے لیے اور اعتماد دینے کے لیے عوام کا پسندیدہ نمائندہ حکومت میں لانا ہو گا۔

اس ساری صورت حال کو احسن طریقے سے نبٹایا جا سکتا تھا مگر نہیں، امریکہ، اشرف غنی اور طالبان تینوں نے مل کر افغانستان کو تماشا بنا دیا۔ اس افسوسناک حادثے کو دنیا کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ امریکہ اس انخلا کے بعد اپنا کھویا ہوا  اثر و رسوخ کبھی واپس نہیں لا سکتا۔

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ