ہند صبری سعودی فلمی صنعت کے فروغ کے لیے کوشاں

ریڈ سی فلم فیسٹیول میں شامل تیونس کی اداکارہ کہتی ہیں کہ فیسٹیول میں جوش و خروش بہت زیادہ ہے۔‘

 ہند صبری جدہ کے علاقے البلاد کی گلیوں میں 11 دسمبر، 2021 کو ایک فوٹو شوٹ کرا رہی ہیں جو ریڈ سی فلم فیسٹیول کا حصہ ہے (تصویر اے ایف پی / ریڈ سی فلم فیسٹیول)

کئی افراد کا کہنا ہے کہ ریڈ سی فلم فیسٹیول میں تیونس کی اداکارہ ہند صبری کا ہفتے کو ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے سیشن ’آپس میں بات چیت‘ میں سعودی اداکار بارا علیم کے ساتھ زیادہ تر سعودی سامعین کے سامنے اپنے فنی سفر کے اتار چڑھاؤ پر تبادلہ خیال کرنا غیر معمولی بات ہے۔

عرب نیوز کے مطابق صبری اطالوی ہدایت کار جوزیپے تورناٹورے کی زیر صدارت فیچر فلم مقابلے کے لیے جیوری کی ممبر ہیں۔

انہوں نے 28 فلموں اور متعدد سیریز میں کام کیا اور کئی ایوارڈز جیتے جن میں مختلف فلم فیسٹیولز میں بہترین اداکارہ کے طور پر آٹھ عرب اور بین الاقوامی انعامات شامل ہیں۔

انہوں نے 2008 میں عرب فلم فیسٹیول میں اپنی فلم ’جینیٹ الاماسک‘ میں اداکاری پر بہترین اداکارہ کا انعام جیتا۔

اس کے علاوہ انہوں نے اپنی فلم سما میں اپنے کردار پر مورکس ڈی اوور میں بہترین عریبین سینیما ایکٹریس کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

صبری نے کہا کہ ’میری آنکھوں میں چمک ہے اور میں متاثر ہوں۔ میں جو کچھ دیکھ رہی ہوں اس پر یقین کرنا مشکل ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس فیسٹیول میں جوش و خروش بہت زیادہ ہے۔‘

انہوں نے سعودی نوجوانوں کی سینیما کے بارے میں معلومات کی تعریف کرتے ہوئے کہا:’ان کی تخلیقی توانائیاں متعدی ہیں۔‘

انہوں نے سعودی خواتین کی طاقت کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ’جو پیار میں نے جدہ میں محسوس کیا اس کا کوئی متبادل نہیں۔‘

پرجوش سامعین نے جواب دیا: ’ہم آپ کو پسند کرتے ہیں۔‘

گفتگو کے دوران اداکارہ کی ایک تصویر پیش کی گئی جو ان کی پہلی فلم ’دی سائلنس آف دی پیلس‘ (1994) کے پردے کے پیچھے سے لی گئی تھی جس میں انہوں نے تیونس کی معروف ہدایت کار مونفیدا تلاتلی کے ساتھ کام کیا تھا۔

انہوں نے اس فلم کو ’بیسویں صدی کی سب سے اہم فلموں میں سے ایک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے انہیں سینیما کی دنیا سے متعارف کرایا۔

کئی مصری فلموں میں نظر آنے والی اداکارہ نے وضاحت کی کہ مصری ہدایت کار ایناس الدیغیدی کے ساتھ ایک ہنگامی انٹرویو نے ان کا فنی سفر شروع کرنے میں مدد کی۔

صبری اپنے آبائی ملک سے ایک مضبوط تعلق محسوس کرتی ہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ سینیما کے ذریعے وہ وہاں کی صنعت کی مدد کر سکتی ہیں، خاص طور پر حالیہ برسوں میں ملک کو متاثر کرنے والی سیاسی ہلچل کے بعد۔

اداکارہ نے وضاحت کی کہ تیونس کے انقلاب کے بعد وہ سینیما کے نئے ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ 2019 میں ان کی فلم ’نؤراز ڈریم‘ اس جانب پہلا قدم تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اپنے سعودی سامعین کو بتایا کہ اداکاروں کو اپنے آپ کو ایک مخصوص قسم کے سینیما تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، صرف معاشی یا بڑے آزاد فلمی کرداروں کے لیے جانا جانا یا ’بڑی فلموں تک اپنے آپ کو محدود کرنا ایک بڑا نقصان ہے۔‘ اپنے آپشنز تلاش کریں ... یہ ایک فائدہ مند صورتحال ہے۔‘

صبری اپنے حقوق نسواں کے لیے سرگرم کرداروں کے ذریعے مختلف نسلوں کی تیونس اور عرب خواتین کو متاثر کرنے کے لیے جانی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی خواتین اپنے حقوق مانگنے سے ڈرتی ہیں۔ مجھے عورت ہونے پر افسوس کیوں ہوگا؟ جب آپ کی آواز کو سنا نہ جائے تو دوسروں کو متاثر کیے بغیر مشہور ہونے کا کیا فائدہ؟

صبری نے سعودی عرب میں سینیما کے مستقبل کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’میں فلم سازی کی صنعت میں تبدیلی کی لہر اور  سعودی عرب کے سینیما گلیمر کو محسوس کر سکتی ہوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فلم