ایبٹ آباد: 40 سال سے جنگل میں رہنے والے تنہا شخص کی داستان

55 سالہ محمد ابراہیم اپنی مخصوص طرز زندگی کے تحت گاؤں سے دور گلیات کے جنگل میں قائم ایک خستہ حال پناہ گاہ میں چند مویشیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

بہت سے لوگوں کو جانوروں سے لگاؤ ہوتا ہے اور وہ گھر میں جانور پالتے ہیں لیکن خیبرپختونخوا کی ہزارہ ڈویژن میں ایک ایسا شخص بھی بستا ہے، جس نے مویشیوں کی محبت میں گھر بار چھوڑ کر پچھلے 40 برس سے گلیات کے جنگل میں تنہا بسیرا کر رکھا ہے۔

گھر والوں کی مخالفت اور لوگوں کے مذاق کا نشانہ بننے کے باوجود 55 سالہ محمد ابراہیم اپنی مخصوص طرز زندگی کے تحت گاؤں سے دور گلیات کے جنگل میں قائم ایک خستہ حال پناہ گاہ میں چند مویشیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

خستہ حال کپڑے، بڑھے ہوئے بال اور ناخن، جو انہوں نے زندگی میں کبھی نہیں کاٹے، ان کی شخصیت کا خاصا ہیں۔ بغیر دروازے اور دیواروں کے لکڑی کی ایک جھونپڑی، جس کی چھت پر پلاسٹک کے ٹکڑے رکھے گئے ہیں اور چند بھیڑ بکریاں ہی ابراہیم کی کُل کائنات ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ گرمیوں میں وہ جھونپڑی کے اوپر جبکہ سردیوں میں اس کے اندر بکریوں کے درمیان ہی سوتے ہیں۔

میرا جانی چوٹی کے نشیبی علاقے میں آباد گاؤں کھن کلاں کے باسی ثاقب طارق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’محمد ابراہیم جانوروں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے روایتی زندگی کو ترک کرکے بچپن ہی سے جنگل میں اپنے مویشیوں کے ساتھ ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔‘

ابراہیم کے اس انوکھے مگر منفرد شوق کے بارے میں ثاقب کا کہنا تھا: ’جانوروں سے محبت کا عنصر تو بچپن سے ہی ان میں موجود تھا کیوں کہ ابراہیم کے والد نے گھر کے قریب ہی ایک بھیڑ بکریوں کا باڑہ بنایا ہوا تھا، جنہیں چرانے کے لیے وہ جنگل میں لے جایا کرتے تھے۔‘

ابراہیم کی نہ تو بیوی ہے اور نہ ہی اولاد، تاہم ان کے والد ابھی زندہ ہیں جبکہ ان کے سوتیلے بھائی بھی ہیں، مگر اپنے جداگانہ طرزِ زندگی کے باعث وہ ان کے ساتھ رہنے اور میل جول سے گریزاں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محمد ابراہیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’مجھے جانوروں سے محبت ہے خاص کر بھیڑوں اور بکریوں سے، یہی وجہ ہے کہ مجھے ان کے ساتھ وقت گزارنا اور انہیں جنگل کی سرسبز چراگاہوں میں چرانا اچھا لگتا ہے۔‘

ثاقب کے بقول مویشیوں سے مانوس ہو کر ان کے ساتھ وقت گزارنا ابراہیم کا معمول بن چکا تھا اور یہ شوق بتدریج بڑھتے ہوئے جنون کی شکل اختیار کرتا گیا، جس سے ان کی زندگی میں مسائل پیدا ہونا شروع ہوگئے اور انہوں نے نہانا اور لباس تبدیل کرنا چھوڑ دیا۔

سادگی کا پیراہن پہنے جنگل کی سرسبز چراگاہوں میں بھیڑیں اور بکریاں چرانا ہی ابراہیم کا شوق اور مقصدِ حیات ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آس پاس گاؤں والے ان کے کھانے پینے کا خیال نہیں رکھتے لیکن وہ بے نیازی سے دنیا کی رنگینیوں سے ناآشنا اپنی دھن میں مگن رہتے ہیں۔ ان کی خوراک سوکھی روٹی اور قہوہ ہے۔

آبادی سے دور رہنا اور لوگوں سے کم میل جول ابراہیم کی طبیعت کا خاصہ ہے۔ وہ اپنے مویشیوں کو ہی اپنا خاندان سمجھتے ہیں اور اس لیے ان کی خرید و فروخت بالکل نہیں کرتے۔ وہ اپنے جانوروں کے آس پاس کسی کو جانے نہیں دیتے اور نہ ہی ان کی تصاویر بنانے دیتے ہیں کیونکہ انہیں اندیشہ رہتا ہے کہ ان کے جانوروں کو لوگ نقصان نہ پہنچا دیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی