سعودی عدالت کا تنہا رہنے والی خاتون کے حق میں فیصلہ

سعودی عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ خاتون کا کسی الگ گھر میں رہنا قابل سزا جرم نہیں کیونکہ وہ عاقل اور بالغ ہیں اور ان کو یہ فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے کہ وہ کہاں رہنا چاہتی ہیں۔

ریاض میٹرو کی ایک خاتون ملازم سٹیشن پر نصب ٹکٹ مشین کے سامنے سے گزر رہی ہے (اے ایف پی)

سعودی عرب کی ایک عدالت نے دارالحکومت ریاض میں اپنے والد کی اجازت کے بغیر تنہا رہنے اور آزادانہ سفر کرنے والی خاتون کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

 خاتون کے خلاف ان کے والد نے عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس مقدمے میں وکیل صفائی عبد الرحمٰن اللہیم نے ایک ٹویٹ میں کہا: 'آج عدالت نے ایک تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے توثیق کردی ہے کہ کسی بالغ، عاقل عورت کا الگ تھلگ کسی گھر میں رہنا کوئی قابل سزا جرم نہیں۔ مجھے اس فیصلے سے بہت خوشی ہوئی ہے، اس سے سعودی خواتین کی الم ناک کہانیوں کا اختتام ہوگا۔'

نیوز ویب سائٹ العربیہ  اردو کی ایک رپورٹ میں سرکاری دستاویز کے حوالے سے بتایا گیا کہ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ خاتون کا کسی الگ گھر میں رہنا قابل سزا جرم نہیں سمجھا گیا کیونکہ وہ عاقل اور بالغ ہیں اور ان کو یہ فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے کہ وہ کہاں رہنا چاہتی ہیں۔

وکیل اللہیم نے 'العربیہ' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے خیال میں یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے کیونکہ یہ سعودی عرب کے عدالتی نظام میں رونما ہونے والی اہم تبدیلی کا آئینہ دار ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا: 'اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جج صاحبان کی ایک نئی نسل وجود میں آچکی ہے اور وہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن کے عین مطابق سعودی عرب کی حقیقت موجودہ کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اس فیصلے کا زمینی حقیقت سے تعلق ہے اور یہ معاشرے کی حقیقت اور پوری دنیا کی حقیقت ہے۔'

اللہیم نے مزید کہا: 'عدالت کا حکم خواتین کے عالمی حقوق اور انسانی حقوق کے عین مطابق ہے۔'

ان کے اس بیان کے بعد اس مقدمے میں خاتون نے اپنی شناخت مریم العتیبی کے نام سے ظاہر کی ہے اور انہوں نے بھی ٹوئٹر پر ایک بیان جاری کیا ہے۔

مریم لکھتی ہیں: '2017 سے طویل مسائل ومشکلات جھیلنے کے بعد آج میں عدالت کے ہیرو جناب عبدالرحمٰن اللہیم کی معاونت سے اپنی آزادانہ نقل وحرکت کا حق واپس لینے میں کامیاب ہوگئی ہوں۔ اس حق کی سعودی عرب کے آئین میں بھی ضمانت دی گئی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ ہر شہری کو نقل وحرکت اور استحکام کی آزادی حاصل ہے۔'

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ان کا تجربہ کوئی آسان نہیں تھا لیکن یہ سُودمند رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین