چاغی اور خاران میں  ٹڈی دل کا حملہ

4

ماہرین زراعت کے مطابق ٹڈی دل کا حملہ فصلوں، باغات اور سبزے کے لیے انتہائی خطرناک ہے، اور اگر اسے وقت پر روکا نہ جائے تو کسی بھی علاقے سے سبزہ سو فیصد ختم ہوجاتا ہے (بشکریہ فاروق بلوچ)

بلوچستان کے اضلاع گوادر اور کیچ میں تباہی پھیلانے کے بعد ٹڈی دل نے عید کے دنوں میں  ضلع چاغی اور خاران پر حملہ کردیا۔ رہائشیوں کے مطابق، علاقے میں ہر طرف ٹڈی دل ہی نظر آرہے ہیں جو آہستہ آہستہ درختوں اور فصلوں کا خاتمے کررہے ہیں۔

چاغی کے شہر دالبندین کے علاقے کلی ناوڑ کے زمیندار نور احمد اور امیرحمزہ  کی تربوز اور خربوزے کی  فصل تیار تھی کہ عید کے خوشیوں کے دوران ان کو بری خبر ملی کہ ٹڈی دل کا حملہ ہوگیا ہے۔

نور احمد کے مطابق ابھی تک انہیں اندازہ نہیں ہے کہ کتنا نقصان ہوا کیونکہ یہ کیڑے ابھی تک علاقے میں موجود ہیں اور سبزے اور درختوں کا خاتمہ کررہے ہیں۔

ایک اور زمیندار میر احمد محمد حسنی نے بتایا کہ انہوں نے ایسا حملہ 20 سال قبل دیکھا تھا جس کے نتیجے میں کرودک کے علاقے میں زمینداروں کو لاکھوں کا نقصان پہنچا تھا اور ٹڈیوں کو تلف کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سپرے کیا گیا تھا۔

بلوچستان کے پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عارف شاہ کے مطابق اس سے قبل ٹڈی دل کا حملہ مکران میں ہوا تھا جس سے کافی نقصان ہوا تاہم سروے اور سپرے کے بعد اس پر کسی حد تک قابو پالیا گیا۔  

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف شاہ نے بتایا کہ یہ تازہ حملہ شدید صحرائی علاقے میں ہے اور ابھی تک یہ جاننے کے لیے سروے بھی شروع نہیں ہوسکا کہ یہ کتنے رقبے تک پھیلے ہوئے ہیں اور کیا اقدامات لیے جا سکتے ہیں۔

اس سے قبل مکران کے علاقے گوادر، دشت، کولانچ اور پنجگور میں بھی ٹڈی دل حملہ آور ہوئے تھے جنہوں نے علاقے میں زمینداروں کی فصلوں کو لاکھوں کا نقصان پہنچایا تھا۔  

ڈاکٹر عارف شاہ کے مطابق اگر ہم نے اس کو روکنے میں تاخیر کی تو یہ مزید علاقوں تک پھیل سکتے ہیں اور پھر روکنا مشکل ہوجا ئے گا۔ ’یہ ٹڈی دل ہوا کے رخ کے ساتھ سفر کرتے ہیں اور بلوچستان  میں آنے والے ٹڈی دل یمن سے ایران اور پھر یہاں داخل ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ روک تھام میں تاخیر پر یہ ٹڈی دل نوشکی اور اس کے بعد مستونگ تک پھیل سکتے ہیں اور اگر بارش ہوگئی تو ان کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوجائےگا۔ پھر یہ پرندوں کی طرح غول کی شکل میں سفر کریں گے اور جس علاقے سے گزریں گے وہاں سبزے کا نام ونشان مٹ جائے گا۔  

انہوں نے مزید کہا کہ ٹڈی دل بلوچستان کے بعد وڈھ اورشہداد کوٹ کے راستے سندھ میں بھی داخل ہوگئے ہیں جس سے خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ ’اس کو روکنے کے لیے فوری طور پر سروے کرکے فضائی اور زمینی سطح پر سپرے کا کام شروع کیا جائے تو اس کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔‘

ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے جہاں ایک طرف ٹڈی دل سبزے اور انسانی خوراک کا دشمن ہے وہیں اس علاقے کے لوگ اس کو پکا کے کھاتے بھی ہیں، چاول کے ساتھ  اس کی بار بی کیو بھی بناتے ہیں اور اس کو جمع کرکے خوراک کا حصہ بھی بناتے ہیں۔

ٹڈی دل کو بلوچی میں ’مدگ اور ملخ‘ بھی کہتے ہیں۔ ماہرین زراعت کے مطابق ٹڈی دل کا حملہ فصلوں، باغات اور سبزے کے لیے انتہائی خطرناک ہے، اور اگر اسے وقت پر روکا نہ جائے تو کسی بھی علاقے سے سبزہ سو فیصد ختم ہوجاتا ہے۔  

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان