صوابی کشتی حادثہ: انتظامیہ کیا اقدامات اٹھا رہی ہے؟

حکومت مستقبل میں کنڈل ڈیم کو ایک سیاحتی مقام بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، لہذا اچھے معیار کی کشتیاں اور دیگر حفاظتی سازوسامان مہیا کر کے ملاحوں کو لائسنس دیے جائیں گے۔

(تصویر انیلا خالد)

صوابی میں چھ جون کو عید کے دوسرے دن حالیہ تعمیر شدہ کنڈل ڈیم میں تین لڑکیوں کے ڈوب کر ہلاک ہونے کے واقعے کے باوجود یہاں سیاحوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔

اس افسوس ناک حادثے کے بعد سیاح غیر ذمہ درانہ رویہ اپناتے ہوئے گھرے پانی کے قریب تفریح کر رہے ہیں اور ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکار انہیں روکنے سے قاصر ہیں۔

گذشتہ جمعرات کو ایک ملاح نے آٹھ لوگوں کے لیے بنی کشتی میں32 لوگوں کو بغیر لائف جیکٹ کے بیٹھا لیا، جس کے باعث کشتی ڈوب گئی۔

کچھ ڈوبنے والوں کو قریبی ایک کشتی نے بچا لیا جب کہ باقی خود تیرتے ہوئے کنارے پر پہنچ گئے، البتہ ایک گھر کی تین بہنیں (منزہ دس سال، انسا آٹھ سال اور تقوی پانچ سال ) جو اپنے دادا کے ساتھ  سیر کو آئی تھیں، کی لاشوں کو دو دن بعد ریسکیو ٹیموں نے منجمد حالت میں نکالا۔

کنڈل ڈیم میں غیر قانونی کشتیاں چلانے پر انڈپینڈنٹ اردو نے صوابی کے ڈپٹی کمشنر سلمان لودھی سے استفسار کیا کہ وہ کیوں کر اس لاپرواہی سے لاعلم

رہے؟ اور اس حوالے سے کیوں ٹھوس اقدامات نھیں اٹھائے گئے؟ تو انھوں نے کہا: ہم نے عید سے پہلے پورے ضلعے میں دفعہ144 نافذ تھی جو تاحال برقرار ہے۔ اس دفعہ کے تحت کنڈل ڈیم، کنڈ پارک، پیہور کنال میں نہانے پر پابندی تھی لیکن عید کے دنوں میں ان مقامات پر آئے ہجوم کو روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

’کنڈل ڈیم ایک دور افتادہ جگہ ہے۔ ہم وہاں چوبیس گھنٹے پولیس کی ڈیوٹی نہیں لگا سکتے۔‘

غیر قانونی طور پر ڈیم میں کشتیاں چلانے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ وہ مکمل طور پر خود کو اس معاملے سے بری الذمہ نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ نے کسی کو فی الحال اجازت نہیں دی کہ ڈیم میں کشتیاں چلانے کا کاروبار کریں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ یہ ڈیم مقامی لوگوں کی زمینوں پر بنا ہے لہذا ایک طرح سے وہ اس ڈیم کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔

تاہم ڈپٹی کمشنر کے مطابق، ڈیم کے پاس وارننگ بورڈز کے ساتھ بیرئرز وغیرہ جیسے ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

کنڈل ڈیم کے پراجیکٹ مینیجر انجینئر زین اللہ نے بتایا کہ اس ڈیم کا کنٹرول فی الحال ایک پرائیویٹ کمپنی کے پاس ہے جو بہت جلد اس کو محکمہ ایرگیشن کے سپرد کرنے والا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پچھلے کئی مہینوں سے کچھ مقامی لوگ اس ڈیم  میں غیر قانونی طور پر کشتیاں چلا رہے تھے، جس  پر ان کی کمپنی نے ایریگیشن حکام کو آگاہ کر دیا تھا۔

اگرچہ کنڈل ڈیم سانحے کے بعد ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے شہرام ترکئی اور دوسری سیاسی شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا لیکن سنجیدہ طبقے کو اس طرح کے حادثات کی مستقبل میں روک تھام پر تحفظات ہیں۔

سلمان لودھی نے بتایا کہ ان کی انتظامیہ نے کشتیوں کو ضبط کرتے ہوئے مفرور ملاح کے خلاف مقدمہ درج کر دیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت مستقبل میں کنڈل ڈیم کو ایک سیاحتی مقام بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، لہذا اچھے معیار کی کشتیاں اور دیگر حفاظتی سازوسامان مہیا کر کے ملاحوں کو لائسنس دیے جائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان