جوکووچ کووڈ 19 کی طبی رعایت ملنے کے بعد آسٹریلین اوپن میں شامل

سربیا کے کھلاڑی نے بار بار اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے کہ انہوں نے ویکسین لگوا لی ہے یا نہیں۔

سربیا کے ٹینس سٹار نواک جوکووچ 22 فروری 2021 کو آسٹریلین اوپن جیتنے کے ایک دن بعد اپنی ٹرافی کے ساتھ۔  وہ میلبرن میں منعقد ہونے والے رواں سال کے آسٹریلین اوپن میں شرکت کررہے ہیں جہاں وہ اپنے ٹائٹل کا دفاع کریں گے (تصویر: اے ایف پی فائل)

ٹینس میں عالمی نمبر ایک کھلاڑی نواک جوکووچ نے منگل کو کہا کہ وہ کھیلنے کے لیے کووڈ 19 سے متعلق طبی چھوٹ ملنے کے بعد اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنے کے لیے آسٹریلین اوپن میں شامل ہو رہے ہیں۔

17 جنوری سے شروع ہونے والے سال کے ابتدائی گرینڈ سلیم میں تمام شرکا کو کووڈ 19 کے خلاف ویکسین لگوانے کی ضرورت ہے یا پھر انہیں چھوٹ حاصل ہے، جس کا تعین ماہرین کا ایک آزاد پینل کرتا ہے۔

سربیا کے کھلاڑی نے بار بار اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے کہ انہوں نے ویکسین لگوا لی ہے یا نہیں۔ میلبرن پارک میں ان کی شرکت کے ساتھ ہی سڈنی میں جاری اے ٹی پی کپ سے ان کے باہر ہونے کے بارے میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔

نو بار آسٹریلین اوپن میں فتح حاصل کرنے والے کھلاڑی نے انسٹاگرام پر کہا: ’میں نے وقفے کے دوران اپنے پیاروں کے ساتھ شاندار معیاری وقت گزارا ہے اور آج میں چھوٹ ملنے کے بعد ڈاؤن انڈر جا رہا ہوں۔ چلو 2022 چلتے ہیں!‘

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Novak Djokovic (@djokernole)

ان کی پوسٹ میں ایک ہوائی اڈے پر تصویر بھی شامل تھی جس میں وہ پر سکون نظر آرہے ہیں اور ان کے بیگز ٹرالی پر رکھے ہوئے ہیں۔

ٹینس آسٹریلیا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’جوکووچ نے طبی چھوٹ کے لیے درخواست دی تھی جو طبی ماہرین کے دو علیحدہ آزاد پینلز پر مشتمل ایک سخت جائزے کے بعد دی گئی۔‘

حقیقی وجہ

ٹورنامنٹ کے ڈائریکٹر کریگ ٹائلی نے جوکووچ کا نام لیے بغیر گذشتہ ہفتے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ متعدد کھلاڑیوں کو چھوٹ دی گئی ہے اور انہوں نے اس عمل کی وضاحت کی تھی۔

انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ ’دو میڈیکل پینل ہیں جو کسی بھی درخواست کا جائزہ لیتے ہیں اور وہ اندھیرے میں رہتے ہوئے اس کا جائزہ لیتے ہیں کیوں کہ وہ نہیں جانتے کہ درخواست دہندہ کون ہے۔‘

ٹورنامنٹ کے ڈائریکٹر کریگ ٹائلی نے بتایا کہ ’آسٹریلین ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ آن امیونائزیشن کے رہنما اصولوں کے خلاف چھوٹ دی جاتی ہے یا نہیں دونوں صورتوں میں چھوٹ دینے کی وجہ پینل اور درخواست دہندہ کے درمیان خفیہ رہتی ہے۔‘

انہوں نے منگل کو کہا کہ استثنیٰ دینے کے لیے ایک ’حقیقی وجہ‘ ہونی چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں کے مطابق: ’اس عمل کا محور یہ تھا کہ فیصلے آزاد طبی ماہرین کے ذریعے کیے جائیں اور ہر درخواست دہندہ پر مناسب غور کیا جائے۔‘

عالمی نمبر ایک نواک جوکووچ نے اپریل 2020 میں کووڈ 19 سے بچاؤ کی ویکسین کی مخالفت کا اظہار کیا تھا جب یہ تجویز کیا گیا تھا کہ وہ ٹورنامنٹ کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے ویکسین لازم ہو سکتی ہے۔

جوکووچ نے کہا تھا: ’ذاتی طور پر میں ویکسین کا حامی نہیں ہوں۔ میں یہ پسند نہیں کروں گا کہ کوئی مجھے ویکسین لگوانے پر مجبور کرے تاکہ میں سفر کر سکوں۔ لیکن اگر یہ لازمی ہوگئی تو کیا ہوگا؟ میں اس وقت کوئی فیصلہ کروں گا۔‘

یہ پہلا موقع نہیں جب جوکووچ نے کسی مروجہ طبی عمل کی مخالفت کی ہو۔ وہ اس سے قبل 2017 میں کہنی کی تکلیف کے وقت سرجری کی مخالفت کر رہے تھے۔ یہ فیصلہ اس وقت ان کے کوچ آندرے اگاسی سے ان کی علیحدگی کا باعث بنا تھا۔

تاہم جب متبادل علاج سے انہیں آرام نہیں ملا تو انہوں نے 2018 میں سرجری کا انتخاب کیا حالانکہ انہیں ذاتی طور پر ایسا کرنے پر افسوس تھا۔

جوکووچ نے ڈیلی ٹیلی گراف کو بتایا کہ ’ہر بار جب میں سوچتا ہوں کہ میں نے کیا کردیا تو مجھے لگتا ہے کہ میں خود ناکام ہو گیا ہوں۔‘

جوکووچ کو ان کے خاندان کی طرف سے بھی آسٹریلوی تنازعے کے دوران حمایت حاصل رہی ہے۔

ان کے والد سردجان نے نومبر کے آخر میں منتظمین پر ’بلیک میلنگ‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا بیٹا شاید میلبرن میں نہیں کھیلے۔

آسٹریلین اوپن کی میزبانی کرنے والی ریاست وکٹوریہ کے سرکاری اہلکار مہینوں سے اس بات پر بضد تھے کہ صرف ویکسین شدہ کھلاڑی ہی ٹورنامنٹ کھیل سکیں گے۔

ریاست کے ڈپٹی پریمیئر جیمز مرلینو نے حال ہی میں کہا کہ ’یہ قواعد ہیں۔ طبی چھوٹ ان کا حصہ ہے۔ مراعات یافتہ ٹینس کے کھلاڑیوں کے لیے کوئی خلا پیدا نہیں کیا گیا ہے۔‘

اس بات کی تصدیق، کہ سربیا کے سپر سٹار آسٹریلین اوپن میں شرکت کے لیے راستے میں ہیں، نے روایتی حریف رافیئل ندال کے ساتھ مقابلے کی فضا پیدا کر دی ہے۔ دونوں فریق ریکارڈ 21 ویں گرینڈ سلیم ٹائٹل کے حصول کے لیے پر امید ہیں۔

ہسپانوی سپر سٹار پہلے ہی میلبرن میں کرونا (کورونا) وائرس سے صحت یاب ہونے کے بعد ٹورنامنٹ کی تیاری کر رہے ہیں۔

20 بار گرینڈ سلیم کے فاتح راجر فیڈرر زخمی ہونے کی وجہ سے آسٹریلیا کا سفر نہیں کر رہے ہیں۔

آسٹریلیا کے شہریوں کی تنقید

سربیا کے ٹینس سٹار کو ملنے والی طبی چھوٹ یا رعایت پر آسٹریلیا کے شہریوں نے اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔

ران ولسن میلبرن کے رہائشی ہیں انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ’میرے خیال میں یہ انتہائی برا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ انہیں اس سے قبل ہی اپنا ذہن بنا لینا چاہیے تھا اور انہیں شامل کرنے کا فیصلہ آخری لمحات میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘

ایک اور شہری مرتضی یاری کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں جب تک استثنیٰ حاصل ہے اور ان کے پاس درست وجوہات ہیں مجھے اس میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا۔‘

میلبرن کے رہائشی برنارڈ کیرنزنے کہا کہ آسٹریلیا میں سب سخت پابندیوں میں رہے ہیں اور شاید ان کا ماننا ہے کہ باہر سے آنے والے کھلاڑی بھی ایک دو ہفتوں کے لیے رہ سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹینس