فائیو جی سگنل فضائی پروازوں کو کیسے متاثر کرتے ہیں؟

گذشتہ ہفتے تصدیق کی گئی کہ اس ٹیکنالوجی سے بوئنگ 787 جہاز بالخصوص متاثر ہیں ’طیارے کے فضائی بلندی ناپنے والے آلات میں فائیو جی کی مداخلت انجن اور بریکنگ سسٹم کو لینڈنگ موڈ میں منتقل ہونے سے روک سکتی ہے، جس سے ایک طیارہ رن وے پر نہیں رک سکتا۔‘

کیلیفورنیا میں 18 جنوری 2022 کو سان فرانسسکو بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ٹیک آف کرتے وقت ایک طیارہ (تصویر: اے ایف پی)

امریکہ میں تیز رفتار فائیو جی انٹرنیٹ کی شروعات میں تاخیر کے متعلق خبروں کی  بھرمار کے بعد بہت سے مسافروں کو پروازوں پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں خدشات ہیں۔

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق جنوری کے اوائل میں امریکی موبائل نیٹ ورکس ویریزون اور اے ٹی اینڈ ٹی نے ہوابازی سے متعلق خدشات پر امریکی ٹرانسپورٹیشن سیکرٹری پیٹ بوٹیگیگ اور فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) کی درخواست پر فائیوجی سروس شروع کرنے کے متعلق دسمبر کے لیے کی گئی اپنی منصوبہ بندی کو19 جنوری تک موخر کر دیاتھا۔

تاہم اس ہفتے ایف اے اے کے اعلیٰ حکام نے ٹرانسپورٹیشن سیکرٹری اور دیگر وفاقی حکام کو ایک خط بھیجا جس میں واضح الفاظ میں کہا گیا کہ اگر منصوبہ بندی کے مطابق اس ہفتے فائیو جی ٹیکنالوجی رول آؤٹ آگے بڑھتا ہے تو یہ ہوابازی کی صنعت کے لیے ’تباہ کن‘ ہوسکتا ہے۔ 18 جنوری کو اے ٹی ٹی اور ویریزون دونوں نے کہا کہ وہ موبائل ٹاورز لگانے کے لیے منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھیں گے نیز ہوائی اڈوں کے قریب فائیو جی ٹاورز کو فعال کرنے میں تاخیر کی جائے گی۔

تو کیا ہمیں فائیو جی کی شروعات کے متعلق فکر مند ہونا چاہیے؟ تاحال دستیاب معلومات ذیل میں ہیں:

فائیو جی پروازوں اور طیاروں کو کیسے متاثر کرسکتی ہے؟

ہائی سپیڈ فائیو جی انٹرنیٹ ’سی بینڈ فریکوئنسی‘ استعمال کرتا ہے جو اس انٹرنیٹ کی طرح ہے جسے جدید طیاروں میں اونچائی کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ایئر لائن مالکان کا دعویٰ ہے کہ فائیو جی ہوائی جہازوں کے آلات میں مداخلت کر سکتی ہے اور پروازوں میں خلل کا سبب بن سکتی ہے۔ بلندی ماپنے والے آلات کے بارے میں خاص طورپر انہیں خدشات ہیں، بالخصوص جب پائلٹ کم حد نظر کے ساتھ جہاز اڑا رہے ہوتے ہیں۔

امریکہ میں ایئر ایمبولینسوں کے آپریٹرز نے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے کیونکہ کمرشل ہیلی کاپٹر اکثر محفوظ لینڈنگ کو یقینی بنانے کے لیے ریڈار الٹی میٹر نامی ڈیوائس کا استعمال کرتے ہیں۔

اس کے جواب میں موبائل نیٹ ورکس کا مؤقف ہے کہ ہوابازی کی صنعت کے پاس اپنے آلات کو اپ گریڈ کرنے کے لیے کئی سال تھے۔

کچھ ہوابازی رہنما امریکی ہوائی اڈوں کے آس پاس کے علاقوں میں فائیو جی کی فراہمی میں تاخیر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

خدشات کو پہلے ہی کم ازکم جزوی طور پر تو حل کیا جا چکا ہے۔ ایف اے اے نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ متعلقہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے فائیو جی کے آغاز کے بعد پہلے چھ ماہ تک ہوائی اڈوں کے قریب ٹرانسمیٹرز کی سگنل پاور کم رکھی جائے تو انہیں فائیو جی کے شروع ہونے پر اعتراض نہیں ہوگا۔

تاہم  انہوں نے دسمبر میں یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اگر فائیو جی کی مداخلت کا خطرہ ہوا تو ریڈیو الٹی میٹر پر انحصار کرنے والی پروازوں کو ری شیڈول کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔  جس سے موبائل نیٹ ورکس کو موثر طریقے سے ایئر لائن انڈسٹری کے مد مقابل لایا جا سکتا ہے۔

ایف اے اے نے گزشتہ ہفتے تصدیق کی تھی کہ اس ٹیکنالوجی سے بوئنگ 787 خاص طور پر متاثر ہیں: ’نئی فائیو جی سروس میں دو ہفتے کی تاخیر کے دوران حفاظتی ماہرین نے تعین کیا کہ طیارے کے ریڈیو الٹی میٹر میں فائیو جی کی مداخلت، انجن اور بریکنگ سسٹم کو لینڈنگ موڈ میں منتقل ہونے سے روک سکتی ہے، جس سے ایک طیارہ رن وے پر نہیں رک سکتا۔‘

اس کا مطلب ہے کہ اس قسم کے طیاروں کو اگر فائیو جی ٹرانسمیٹر کے قریب  محدود حد نظر والے حالات  میں لینڈ کرنا پڑا تو ان کی پرواز منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔

کون فائیو جی کی مزید تاخیر کا مطالبہ کر رہا ہے؟

ڈیلٹا ایئر لائنز، امریکن ایئر لائنز، یونائیٹڈ ایئر لائنز اور ساؤتھ ویسٹ کے چیف ایگزیکٹوز کے علاوہ چھ دیگر مسافر اور کارگو کیریئرز نے 17 جنوری کو ایک کھلا خط شائع کیا تھا۔

اگر سی بینڈ فائیوجی سروس کا 19 جنوری کو آغاز ہوتا ہے تو ’ممکنہ طور پر بیرون ملک ہزاروں امریکی پھنس سکتے ہیں‘ اس خط میں کہا گیا ہے کہ یہ خط ایئر لائنز فار امریکہ سے منسوب ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ فائیو جی ٹیکنالوجی کا آغاز امریکی ہوا بازی کے لئے ’افراتفری‘ کا سبب بنے گا۔

خط میں زور دیا گیا ہے کہ ہوائی سفر کرنے والوں، جہاز رانی کرنے والوں، سپلائی چین اور ضروری طبی سامان کی ترسیل میں نمایاں آپریشنل خلل سے بچنے کے لیے فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔

’ہوائی جہاز بنانے والی کمپنیوں نے ہمیں مطلع کیا ہے کہ جہازوں کے آپریٹنگ بیڑے کے بہت بڑے حصہ کو غیر معینہ مدت تک گراؤنڈ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، ہوائی جہازوں پر متعدد جدید حفاظتی نظام ناقابل استعمال ہو سکتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ گزشتہ روز جیسے دن میں 1100 سے زائد پروازیں اور ایک لاکھ مسافر پروازوں کی منسوخی، دوسرے ایئرپورٹ پر لینڈنگ یا تاخیر کا شکار ہوں گے۔

’دو ٹوک بات یہ ہے کہ ملک کی تجارت رک جائے گی‘

ہوابازی صنعت سے متعلق سربراہان نے مزید کہا کہ50بڑے امریکی ہوائی اڈوں کے دو میل کے دائرے میں فائیو جی ٹرانسمیٹروں کو فعال نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف اے اے کو یہ تحقیق کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے کہ ’تباہ کن خلل‘ سے بچنے کے لیے فائیو جی ٹرانسمیشن کو ایئرپورٹ کے کتنا قریب لگایا کیا جاسکتا ہے۔

نتیجہ کیا نکلا؟

ویریزون اور اے ٹی اینڈ ٹی کی جانب سے ماضی میں دو بار تاخیر کے بعد اس ہفتے اب تک نظر آرہا ہے کہ فائیو جی کا آغا ہونے والا ہے۔

ایف اے اے نے پیر کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ’جیسے ہی وائرلیس کمپنیاں فائیو جی لگائیں گی وہ سفر کرنے والے عوام کی حفاظت جاری رکھیں گے ‘ اور اس بات پر زور دیا کہ وہ ’ہوابازی کی صنعت اور وائرلیس کمپنیوں کے ساتھ مل کر فائیو جی کی وجہ سے پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کو محدود کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے ۔‘

یہ بھی اعلان کیا کہ انہوں نے امریکی طیاروں کے زیر استعمال دو قسم کے ریڈیو الٹی میٹر کو کلیئر کر دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک میں قائم تقریبا 45 فیصد تجارتی طیاروں کے پاس اب فائیوجی ٹرانسمیٹرز کے قریب ہوائی اڈوں پر کم حد نظر والی لینڈنگ کے لیے کلیئرنس ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایف اے اے کا کہنا ہے کہ نئی منظوریوں میں’ فائیوجی بینڈ کی مداخلت سے براہ راست متاثر ہونے والے 88 ہوائی اڈوں میں سے 48 کے قریب رن وے کھلے ہیں۔‘

تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ ’ان نئی منظوریوں کے باوجود کچھ ہوائی اڈوں پر پروازیں اب بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔‘

مسافروں کو اپنی ایئر لائنز سے معلوم کرنا چاہیے کہ کیا کسی ایسے مقام کے متعلق پیش گوئی کی گئی ہے جہاں فائیوجی مداخلت ممکن ہے۔

دی انڈپینڈنٹ نیوز کے مطابق منصوبہ یہ ہے کہ جیسے ہی ایئرلائن کمپنیاں یہ ثابت کردیں گی کہ سی بینڈ فریکوئنسی آن ہوتے ہیں ان کے الٹی میٹر کام کر سکتے ہیں تو  ایف اے اے ایک ایک کر کے طیاروں پر عائد پابندیاں ختم کر دے گا۔

موبائل نیٹ ورکس اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کئی ممالک میں پہلے ہی فائیو جی اور شعبہ ہوابازی بغیر کسی خلل کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں جبکہ فائیو جی ڈیوائسز 2019 سے مارکیٹ میں موجود ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی