25 لاکھ 80 ہزار سال پرانے ہتھیار اور اوزار دریافت

ایک نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ زمانہ قبل از تاریخ کے انسانوں نے کئی مواقعوں پر پتھر کے اوزار ایجاد کر لیے تھے۔

(ڈیوڈ  آر براؤن)

ایک نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ زمانہ قبل از تاریخ کے انسانوں نے کئی مواقعوں پر پتھر کے اوزار ایجاد کر لیے تھے۔

آریزونا سٹیٹ یونیورسٹی اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی قیادت میں ہونے والی نئی تحقیق کے دوران پتھروں سے تراشے گئے 327 اوزاروں اور ہتھیاروں کا ایک ذخیرہ ہاتھ لگا ہے جو لگ بھگ 25 لاکھ 80 ہزار سال پرانے ہیں۔

یہ تحقیق اس لحاذ سے اہم ہے کہ اس بارے میں پہلی بار شواہد ملے ہیں کہ قدیم ابتدائی نسل کے انسان پتھروں کو تراش کر مختلف اوزار اور ہتھیار بنانے کا ہنر جانتے تھے۔

پتھر سے تراشے گئے اوزاروں کا یہ ذخیرہ ایتھوپیا کے شمال مشرقی علاقے آفار سے دریافت ہوا ہے۔ تحقیق کرنے والوں کا ماننا ہے کہ ہمارے اجداد ان اوزاروں کو شکار اور گوشت کو کاٹنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہوں گے۔

اس تازہ ترین دریافت سے قبل پتھروں کے قدیم اوزار ایتھوپیا ہی کے علاقے گونا سے ملے تھے جو 25 لاکھ 60 ہزار سال پرانے تھے جس سے یہ گمان پیدا ہوا کہ پتھر تراشنے کا یہ ہنر ایک علاقے میں ایجاد ہوا تھا جہاں سے یہ پورے براعظم تک پھیل گیا۔

لیکن پروسیڈنگ آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق اس نظریے کو مسترد کرتے ہوئے نیا نظریہ پیش کرتی ہے جس کے مطابق قدیم پتھروں کے اوزار اور ہتھیار ابتدائی نسل کے انسانوں کے گروہ مختلف ادوار میں انفرادی طور پر ایجاد کرتے رہے تھے اور بعد میں پتھر کے یہ اوزار اور ہتھیار بنی نوع انسان کی بقا کے لیے عام ہوتے چلے گئے۔

ایرزونا یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ہیومین اوریجنز سے وابسطہ ڈاکٹر کیے ریڈ نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’ہم یہ پہلی بار یکھ رہے ہیں کہ ابتدائی نسل کے انسانوں نے اپنا ذہن استعمال کرتے ہوئے کیسے پتھروں کے کناروں کو تراش کر اوزار بنانا شروع کیے تھے۔ یہ نامکمل ہیں، ان کو صرف دو یا تین ضربوں سے تراشا گیا ہے جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ صحیح طریقے سے نہیں کیا گیا۔‘

’نئے دریافت ہونے والے اوزار قدرے مختلف ہیں اور ان کو دوسرے نمونوں کو سامنے رکھتے ہوئے بہتر طریقے سے بنایا گیا ہے۔‘

یہ اوزار ایتھوپیا کی سب سے قدیم فوسل سائٹ ’بوکول ڈورا ۔ ون‘ کے قریب سے دریافت ہوئے ہیں جہاں کھدائی کا کام جاری تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محققین گذشتہ پانچ سالوں سے قدیم انسانوں کے علاقوں اور ان کے پتھر سے اوزار بنانے کے آغاز کے درمیان تعلق کو جاننے کی کوشش کر رہے تھے۔      

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اریزونا سٹیٹ یونیورسٹی سے وابسطہ ماہر ارضیات کرسٹوفر کیمپیسانو نے تیز دھار والے پتھروں کے اوزاروں کو کھدائی کے علاقے میں موجود ڈھلوان سے دریافت کیا۔

وہ یہاں پتھروں سے تراشے ہوئے سینکڑوں چھوٹے ٹکڑے تلاش کرنے کے لیے گئے تھے۔

پرتگال کی یونیورسٹی سے وابسطہ ماہر آثار قدیمہ ویرا ایلڈیاز کا کہنا ہے: ’یہ اوزار ابتدائی نسل کے انسانوں نے پانی کے کنارے گرا دیے تھے جو تیزی سے یہاں دفن ہو گئے۔ یہ جگہ لاکھوں برسوں سے یہاں اسی طرح موجود ہے۔‘

ہمارے آباؤ اجداد اس تازہ ترین دریافت سے لاکھوں سال قبل ایسے اوزاروں کا استعمال کرتے رہے تھے۔ ہتھوڑی نما یا ضرب لگانے والے اوزار 33 لاکھ سال پہلے کینیا سے پائے گئے تھے۔

بندر اور بن مانس کی طرح، ابتدائی نسل کے انسان ہتھوڑا نما اوزاروں کا استعمال گری دار میوے اور سمندری گھونگھوں کے خول توڑنے کے لیے کر رہے تھے تاہم 26 لاکھ سال قبل بہت کچھ تبدیل ہو گیا تھا اور ہمارے اجداد کے اوزار بنانے کی صلاحیت نکھر گئی تھی جو پتھروں کے کنارے تراش کر بہتر اور زیادہ درست اوزار بنانے کے قابل بن گئے تھے۔

یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن سے منسلک وِل آرچر نے کہا کہ ہم ان دو ادوار کے درمیان بنائے گئے اوزاروں کے حوالے سے ارتقاء کے بارے میں کچھ نشانیوں کی امید کر رہے تھے۔ تاہم جب ہم ان اوزاروں کی بناوٹ کو قریبی نظر سے دیکھتے ہیں تو آثار قدیمہ سے ملنے والے اوزار اور جدید دور کے انسانوں کے بنائے ہو اوزاروں میں بہت کم تعلق ظاہر ہوتا ہے۔

’اوزاروں کی بناوٹ میں تبدیلیاں ہمارے اجداد کے دانتوں کی ساخت میں تبدیلیوں کے ساتھ ہی وقوع پذیر ہو رہی تھیں۔‘

جیسا کہ ان کے دانتوں کا سائز چھوٹا ہوتا گیا انہوں نے خوراک کی تیاری کے لیے پتھر کے اوزار بنانا شروع کر دیے تھے۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے وابسطہ ماہر آثار قدیمہ ڈیوڈ برون جو اس تحقیق کی سربراہی بھی کر رہے تھے، کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بندر کی نسل سے تعلق رکھنے والی انواع  عام طور پر خوراک کے نئے وسائل کی تلاش کے لیے پتھر کو بطور اوزاراستعمال کرتے رہے ہیں اور عین ممکن ہے کہ پورے افریقہ میں بہت سی مختلف انسانی آبادیوں نے اپنے ماحول سے وسائل نکالنے کے لئے پتھر کو بطور اوزار استعمال کرنے کے نئے طریقوں کو تلاش کیا ہو۔

’اگر ہمارا یہ نظریہ صحیح ہے تو ہم انسانی فن کے اس تسلسل کی کھوج کرنے کی توقع کر سکتے لیکن 26 لاکھ سال سے پہلے کے دور کی نہیں۔ اس کے لیے ہمیں زیادہ آثار قدیمہ کی جگہوں کی تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔‘

جیسا کہ ڈاکٹر ریڈ کہتی ہیں: ’ہماری ٹیم اگلے سال پھر ان علاقوں میں جا رہی ہے، ہم دیگر علاقوں میں مزید کھدائی کریں گے اور ہم ابتدائی نسل کے انسانوں کے بنائے ہوئے مزید اوزار دریافت کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق