کشمیری بمقابلہ ایرانی سیب

کشمیر سے اس وقت 20 لاکھ میٹرک ٹن سیب برآمد کیے جاتے ہیں جو بھارت کے سیبوں کی کل برآمدات کا 70 فیصد حصہ ہے۔

20 اگست 2004 کو لی گئی اس تصویر میں ایک کشمیری پھل فروش سری نگر میں اپنے سڑک کنارے لگے سٹال پر سرخ سیبوں کی نمائش کر رہا ہے (اے ایف پی/ سجاد حسین)

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 


جموں و کشمیر میں میوہ صنعت سے وابستہ تقریباً سات لاکھ کسان اس وقت حکومتِ ہند کی اس پالیسی کے خلاف آئے روز اجلاسوں، پریس کانفرنسوں یا سوشل میڈیا پر اپنی برہمی کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس نے ایران سے سیب درآمد کرنے کی اجازت دے کر ان کے پیٹ پر لات مار دی ہے۔

کشمیر سے اس وقت 20 لاکھ میٹرک ٹن سیب برآمد کیے جاتے ہیں جو بھارت کے سیبوں کی کل برآمدات کا 70 فیصد حصہ ہے۔

یونین ٹیریٹری میں میوہ صنعت آٹھ سے نو ہزار کروڑ بھارتی روپے کی مالیت کے برابر ہے، جس کے ساتھ خطے کی تقریباً 70 فیصد آبادی جڑی ہوئی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کے آٹھ ملکوں کے بیچ آزاد تجارت کے معاہدے یا SAFTA کے تحت ایرانی سیب بھارت کی منڈیوں میں درآمد کیے جا سکتے ہیں۔

تشویش یہ نہیں کہ ایرانی سیب بھارتی بازاروں میں کیوں ہیں بلکہ تشویش یہ ہے کہ اس کی قیمت فروخت کشمیری سیب سے انتہائی کم ہے۔

میوہ صنعت سے وابستہ بعض کشمیری کسان کہتے ہیں کہ ’ایرانی سیب اگر تجارتی قوانین کے تحت بھارت درآمد کیا جاتا تو اس پر باضابطہ ٹیکس عائد ہوتا اور اس کی قیمت کشمیری سیب کے مقابلے میں زیادہ ہوتی مگر ایرانی سیب افغانستان سے گزر کر پاکستان اور پھر بھارت میں واہگہ سرحد سے لایا جا رہا ہے۔ افغانستان سے آنے والی اشیا پر ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے، جو ایرانی سیب کی کم قیمت کی وجہ بھی ہے۔‘

کشمیر میں محکمہ باغبانی کے اعلیٰ عہدے دار نے اس بات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی سیب واہگہ سرحد سے نہیں بلکہ ایران سے براہ راست سمندری جہازوں میں بھر کر بھارت پہنچائے جا رہے ہیں لیکن کیا اس پر ٹیکس عائد ہوتا ہے؟ اس کا علم مرکزی حکومت کو ہے۔

شوپیاں کے تاجر غلام رسول کا خیال ہے کہ اصل میں ایران پر امریکی پابندیوں اور طالبان کی فتح کے بعد بھارت نے ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے عوض تجارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں، جس میں سیب کی بھاری مقدار میں ڈیوٹی فری درآمد بھی شامل ہوسکتی ہے۔

کشمیری سیب کے ایک ڈبے کی قیمت سات سو سے ایک ہزار بھارتی روپے ہے جبکہ ایرانی سیب کا ڈبہ تین سے چار سو روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔

اس وقت کشمیر کے کولڈ سٹورز میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ سیب کے ڈبے پڑے ہیں اور اسی تعداد میں گودام میں رکھے گئے ہیں جو نہ بکنے کی صورت میں میوہ صنعت کی زوال کا باعث بن سکتی ہے۔ جموں و کشمیر میں تجارتی ادارے پہلے ہی گذشتہ تین برسوں سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

تاجر برادری کو اب تک 50 ہزار کروڑ روپے تک کا خسارہ ہوا ہے اور تجارتی سرگرمیاں تین سال سے ٹھپ پڑی ہوئی ہیں۔

پانچ اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی اندرونی خودمختاری ختم کرنے اور اسے دو یونین ٹیریٹریز میں تبدیل کرنے کے بعد جہاں عوام کو مکمل طور پر محصور کرکے فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات سے ایک برس تک محروم رکھا گیا، وہیں سیبوں کی فصل نہ کاٹنے کے سبب میوہ صنعت کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔

سال 2020 میں ابھی میووں کی کاشت ہونے ہی والی تھی کہ موسم کی شدت اور برفباری نے کسانوں کی فصل کو تباہ کرکے انہیں تقریباً بےروزگار کر چھوڑا۔ اس برس میوہ کاشت کے فوراً بعد اسے کولڈ سٹورز اور گوداموں میں اس امید پر رکھا گیا کہ اس کی برآمدات سے نقصانات کو پورا کرنے کے علاوہ گھر کی روزی روٹی چلے گی لیکن بازاروں اور منڈیوں میں ایرانی سیبوں کی بھرمار دیکھ کر کسانوں کی اب ہمت ٹوٹ گئی ہے۔

کسانوں، میوہ صنعت اور کولڈ سٹور مالکان نے حکومتِ بھارت سے اپیل کی ہے کہ وہ ایرانی سیب کی درآمدات پر پابندی عائد کرے یا اس پر سو فیصد ڈیوٹی لگا کر جموں و کشمیر، ہماچل اور اتراکھنڈ کی میوہ صنعت کو بھاری نقصانات سے بچائے مگر حکومت کی جانب سے ابھی ایسا کوئی اقدام نہیں گیا گیا ہے، جس سے میوہ صنعت سے وابستہ لاکھوں کسانوں کی تسلی ہو جائے۔

کشمیر کے ایک فروٹ کے کاشت کار محمد شعبان کہتے ہیں کہ ’اگر مودی سرکار نے کوئی بروقت کارروائی نہیں کی تو وہ بھارت کے تمام کسانوں کی حمایت حاصل کرکے اس پر پورے ملک میں اسی طرح احتجاج شروع کریں گے جس طرح کسانوں نے زرعی قوانین کے خلاف کیا، جن کو ایک سال کے بعد مودی سرکار کو واپس لینا پڑا۔‘

ہماچل اور اتراکھنڈ سے بھی سیب اگانے والے بعض مالکان نے بازاروں میں ایرانی سیب کی بھرمار اور کم قیمت پر سوالات اٹھائے ہیں لیکن مرکزی حکومت اس پر خاموش ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

باغبانی سے منسلک درجنوں مالکان نے وزیراعظم کو خط میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے جو ان سے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔

ایران سے ابھی اس معاملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

کم قیمت کے باعث بھارتی بازاروں میں کشمیری سیب کے مقابلے میں ایرانی سیب کی خوب فروخت ہو رہی ہے۔

ترکی کے سیب بھی بھارت میں درآمد کیے جاتے رہے ہیں مگر ان پر باضابطہ ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ بھارت نے گذشتہ برس ترکی سے تقریباً 35 ہزار ٹن سیب درآمد کیے ہیں لیکن ان کی قیمت کی وجہ سے کشمیری سیب پر اتنا اثر نہیں دیکھا گیا ہے جتنا ایران کے سیب سے پڑا ہے۔

بقول ایک کشمیری کسان: ’کیا کریں ایران ہمارا برادر ملک ہے مگر جب بات پیٹ کی آگ بجھانے پر آجاتی ہے تو بھائی بھی خودغرض ہوجاتا ہے۔ کیا معلوم، اس کے پیچھے کوئی سیاست چل رہی ہو ورنہ ایران نے ہمیشہ کشمیریوں کا ساتھ دیا ہے۔‘

کشمیری ایران کے خلاف کچھ کھل کر بھی نہیں کہتے کیونکہ ان کی سیاسی جدوجہد کی ایران نے ہمیشہ حمایت کی ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ حکومتِ بھارت کشمیر کی میوہ صنعت کو بچانے کے لیے کیا اقدام کرتی ہے اور کیا وہ ایرانی سیب پر ڈیوٹی لگا کر حالات کے پس منظر میں ایران سے تعلقات میں رسہ کشی کا کوئی رسک لے سکتی ہے۔


نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی رائے پر مبنی ہے۔ ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ