کشمیر: بے موسمی برف باری سے سیب کے کاشت کار پریشان

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے شوپیاں میں رواں سال 24 اکتوبر کو ہونے والی بے موسمی برف باری نے باغبانی اور زراعت کی صنعت کو شدید متاثر کیا ہے۔

کشمیر میں موسم خزاں اگست سے شروع ہوتا ہے اور نومبر کے آخر یعنی برف باری کے موسم تک جاری رہتا ہے لیکن پچھلے تین سالوں سے وادی میں موسم خزاں میں برف باری ہو رہی ہے، جس سے نہ صرف فصلوں بلکہ سیب کے باغات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ 

خصوصاً بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے شوپیاں میں رواں سال 24 اکتوبر کو ہونے والی برف باری نے باغبانی اور زراعت کی صنعت کو شدید متاثر کیا ہے۔

کشمیر میں بے موسمی برف باری کی وجہ سے درخت اکھڑ گئے، ان کی شاخیں ٹوٹ گئیں اور مجموعی پیداوار متاثر ہوئی۔ اس برف باری نے ان کسانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے جنہوں نے ابھی تک اپنی فصل کی کٹائی نہیں کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس خطے میں ہزاروں کسان پریشان ہیں، جو جاری تباہی کے باعث امید کھو چکے ہیں۔ زراعت سے وابستہ لوگ انہی خیالات کی گردان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے پچھلے کچھ سالوں سے دھان کی پیداوار میں کمی دیکھی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ دھان کی فصل خزاں کے آخر تک کچی رہی، جس سے نہ صرف پیداوار کم ہوئی بلکہ برف باری کی وجہ سے بھی متاثر ہوئی۔

ماہرین موسمی حالات جیسے کہ بے موسمی برف باری، خشک سردیوں اور خطے میں مجموعی درجہ حرارت میں اضافے کو گلوبل وارمنگ کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ تاہم، انتباہات کے باوجود زمینی طور پر کچھ بھی تبدیل نہیں ہوتا دکھائی دے رہا اور مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ آلودگی جس میں پولیتھین کا استعمال بھی شامل ہے، کشمیر میں بلا روک ٹوک جاری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا