اب اخروٹ کے کام میں مزا نہیں رہا: کشمیری کاشت کار

کشمیر میں اخروٹ کی کاشت سے وابستہ کسان بیرون ملک سے آنے والے اخروٹ اور دیگر مسائل کی وجہ سے مایوس نظر آتے ہیں۔

امریکہ، چلی اور چین سمیت دیگر ممالک سے بھارتی منڈیوں میں اخروٹ کی آمد سے کشمیر میں اخروٹ کی صنعت کو نقصان کا سامنا ہے۔

بھارت میں اخروٹ کی پیداوار کا 98 فیصد ریاست جموں و کشمیر سے آتا ہے۔ 89 ہزار ہیکٹر اراضی پر کاشت ہونے والے اخروٹ کی سالانہ پیداوار تقریباً 2.66 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔ 

کشمیر میں اخروٹ کے باغات میں ناکافی سائنسی سہولیات کے علاوہ طلب اور رسد میں تاخیر نے اس کے کاشت کاروں کے لیے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔

جنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے اخروٹ کے تاجر پیر اظہر کو ہر گزرتے سال کے ساتھ اخروٹ کی پیداوار میں کمی پر تشویش ہے۔

انہیں خدشہ ہے کہ اگر کم پیداوار کا یہ رجحان مزید چند سالوں تک جاری رہا تو ان کی آنے والی نسل اس کام کو جاری رکھنے سے قاصر رہے گی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ لیبر سیکٹر میں بھاری افراط زر کی وجہ سے کم از کم لاگت کی قیمتوں کو پورا کرنے کے قابل نہیں۔

جموں و کشمیر کے علاوہ بھارتی ریاستوں اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور اروناچل پردیش میں بھی اخروٹ کاشت ہوتا ہے لیکن اس کی زیادہ تر برآمد کشمیر سے ہوتی ہے۔

بھارت سے اخروٹ کی زیادہ تر  پیداوار جرمنی، فرانس، نیدرلینڈز، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کو جاتی ہے۔

2019-20 میں بھارتی اخروٹ کی برآمدی پیداوار 1648.26 میٹرک ٹن (52.77 کروڑ روپے) تھی۔ یہ 16-2015 سے کم تھی جب بھارت نے تقریباً 117.92 کروڑ روپے مالیت کے 3292 میٹرک ٹن اخروٹ برآمد کیے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اخروٹ کے ایک بڑے درخت کو فصل تیار کرنے میں تقریباً 13 سے 15 سال لگتے ہیں، جس کی وجہ سے نئے کاشت کار بھی اس کی پیداوار میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

کسانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو انہیں زیادہ پیداوار دینے والے پودے فراہم کرنے چاہییں۔

2017 میں بھارتی حکومت نے تجارت پر گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) عائد کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بھی مسائل کا سامنا ہے۔

اخروٹ کی لکڑی کو دنیا کی بہترین لکڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اسے کشمیر میں مختلف نوادرات اور گھر کی سجاوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا