بلوچستان: قیمتی میوہ فراہم کرنے والا علاقہ بنیادی سہولیات سے محروم

بلوچستان کے کوہ سلیمان سے منسلک علاقوں میں ٹنوں کے حساب سے چلغوزہ پیدا ہوتا ہے، مگر یہاں کے لوگ اب بھی پانی، بجلی، اور سڑک جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

کوہ سلیمان کے دامن میں بکھرے قبائل یوں تو پاکستان اور ہمسایہ ملک چین سمیت خلیجی ریاستوں کو بھی مہنگا ترین خشک میوہ چلغوزہ ہزاروں من کے حساب سے ہر سال برآمد کیا جاتا ہے، تاہم اس سخت کاروبار سے وابستہ لوگ اس دور جدید میں بھی تمام تر بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔

پتھروں، مٹی اور نشتر کی لکڑی سے بنے گھروں میں رہائش پزیر درجنوں دیہات کے لوگوں کے لیے سڑک، بجلی، تعلیم اور طبی سہولتیں تو کیا پینے کا صاف پانی تک دستیاب نہیں۔ نہ تو چلغوزے کا کاروبار ان کی معیارزندگی میں تبدیلی لاسکا اور نہ ہی حکومت اور غیرسرکاری تنظیموں کی جانب سے ان علاقوں کو توجہ دی گئی ہے۔

کوہ سلیمان بلوچستان کے نوزائیدہ ضلع شیرانی میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے تین سو بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ضلع ژوب اور خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل کے سنگم پر واقع ہے۔ شیرانی ژوب کی ایک تحصیل تھی، جسے 2006 میں ژوب سے الگ کرکے نئے ضلع کا درجہ دیا گیا۔

کوہ سلیمان کے آغوش میں بے شمار راز پوشیدہ ہیں۔ یہ علاقہ حضرت سلیمان، قیس عبدالرشید بیٹ نیکہ سمیت غازیوں اور شہیدوں کا بھی مسکن رہا ہے۔ یہاں مغل اور بابر حکمرانوں نے بھی پڑاو ڈالا تھا۔ کوہ سلیمان میں دنیا کا سب سے بڑا خالص چلغوزے کا جنگل ہے اور عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے اعدادو شمار کے مطابق گذشتہ سال میں یہاں سے 675 ٹن چلغوزہ برآمد کیا گیا، جس کی کل مالیت  114.7 کروڑ روپے ہے۔

کرونا (کورونا) وائرس کی عالمی وبا کے باعث معیشت پر منفی اثرات سے چلغوزے کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا۔ اگرچہ 2019 کے مقابلے میں امسال کی پیداوار زیادہ تھی، لیکن بین الاقوامی شاہراہوں اور مارکیٹس کی بندش کے باعث قیمتیں گرگئیں۔ چلغوزے کی فی ٹن قیمت 41.2 لاکھ سے گر کر 17 لاکھ پر پہنچ گئی۔

کوہ سلیمان میں چلغوزے اور زیتون کے گھنے جنگلات یہاں کا قدرتی حسن ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل برٹش دور میں کوہ سلیمان کا راستہ استعمال کیا گیا اور ایک کچی سڑک تعمیر کی گئی تاہم اب یہ بلوچستان کو خیبرپختونخوا سے ملانے والی قومی شاہراہ ہے۔ یہ راستہ ژوب کے تفریحی مقام سیلیازہ سے ہوتا ہوا کوہ سلیمان کے دامن تک جاتا ہے۔ بل کھاتی یہ سڑک، خوبصورت پہاڑوں، قدرتی چشموں، پھل دار درختوں کے باغات اور لہلہاتے کھیتوں سے نکل کر دہانہ سر کے پہاڑوں سے ہوتا ہوا ڈیرہ اسماعیل خان پہنچتی ہے۔ تاہم کوہ سلیمان پہنچنے کے لیے یہی راستہ احمدی درگہ ملاراغہ اور چچوبی کی جانب سرلکی کے مقام پر الگ ہوجاتا ہے۔ جبکہ ڈیرہ اسماعیل کے راستے سے آنے کے لیے درازندہ پرواڑہ کا راستہ استعمال کرنا پڑتا ہے۔

حکومتی عدم توجہ کے باعث کوہ سلیمان کا سفر انتہائی مشکل اور کٹھن ہے۔ گہری کھائیوں سے ہوتا ہوا یہ راستہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے اور کوہ سلیمان کے مرکز تخت سلیمان کی چوٹی تک پہنچنے کے لیے 10 سے 12 گھنٹے پیدل درکار ہوتے ہیں۔

قدیم تاریخی اہمیت کا حامل تخت سلیمان سطح سمندر سے 11400 فٹ کی بلندی پر واقع کوہ سلیمان کی بلند ترین چوٹی ہے۔ کوہ سلیمان ہندوکش پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے۔ حضرت سلیمان کے نام سے منسوب کوہ سلیمان کی چوٹی تخت سلیمان کے بارے میں ایک مشہور کہانی یہ ہے، کہ یہاں حضرت سلیمان کا تخت اتارا گیا تھا۔ جو آج بھی ہوا کے دوش پر موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قوم سبا کی ملکہ بلقیس نے یہاں سے گزرتے ہوئے اس پہاڑ پر اترنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور یوں جنات نے ہوا میں اڑتے تخت سلیمان کو یہاں اتارا تھا، جس کے بعد اس پہاڑ کو تخت سلیمان کا نام دیا گیا۔

پتھر کے بنے تخت پر انسانی قدموں کے نشانات اور نماز پڑھنے ے لیے ایک چھوٹی سی مگر پرخطر جگہ آج بھی موجود ہے جہاں آنے والے سیاح اور کوہ پیما نفلی نماز ادا کرتے ہیں۔ کوہ سلیمان سر کرکے قدموں میں بادل دیکھ کر انسان کا دل دہل جاتا ہے۔

تخت سلیمان سے متصل علاقے درازندہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں جنات کا قیدخانہ قائم کیا گیا تھا۔ کوہ سلیمان کو یہاں کے مقامی لوگ قسے غر یا قیسا غر  کے نام سے پکارتے ہیں۔ غر پشتو زبان میں پہاڑ کو کہا جاتا ہے۔ اس کی چوٹی پر مشہور پشتون صحابی قیس عبدالرشید کا مزار بھی موجود ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت ایف اے او کے اعدادوشمار کے مطابق کوہ سلیمان میں 26 ہزار ہیکٹر پر پھیلا جنگل سالانہ چھ لاکھ 40 ہزار کلوگرام چلغوزہ پیدا کرتا ہے۔ پاکستان چلغوزے کی پیداوار سے حوالے دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ دنیا میں چلغوزے کی مانگ کا 15 فیصد حصہ پاکستان پورا کرتا ہے اور کوہ سلیمان میں پیدا ہونے والا چلغوزہ پورے ملک کا 74 فیصد بنتا ہے۔ کوہ سلیمان سے متصل قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان، چترال اور گلگت میں بھی چلغوزے کے جنگلات موجود ہیں، تاہم خالص چلغوزے کا جنگل صرف کوہ سلیمان رینج میں ہے۔

چلغوزے کے درخت اوسطاً عمر سو سال ہے، اور چلغوزے کی فصل کی تیاری میں کئی مہینے لگتے ہیں۔ چلغوزے کی کلیاں یعنی کونز تیاری سے 20 دن قبل درختوں سے اتاری جاتی ہیں۔ اس خشک میوے کو خواتین اور بچوں کی مدد سے بیضوی نما کونز سے نکال کر چائے کی پتی کی خالی بوریوں میں ڈال کر مارکیٹ پہنچایا جاتا ہے۔ تاہم پہاڑوں سے کندھوں، اونٹوں اور گدھوں کی مدد سے اتارا جاتا ہے۔

ویلیو چین سپیشلسٹ ایف اے او یحییٰ خان موسیٰ خیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہاں چلغوزہ خام مال کی صورت میں ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، پشاور اور لاہور کے مارکیٹوں میں بھیجا جاتا تھا، جہاں اس کی پراسیسنگ اور پیکنگ کی جاتی تھی۔ تاہم دوسال قبل ایف اے او نے گلوبل انوائرنمنٹ فیسلیٹی (جی ای ایف) کے مالی تعاون سے کوہ سلیمان اور ملک کے دیگر علاقوں میں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد چلغوزہ جنگلات کا تحفظ، شجرکاری، محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کا استعداد کار بڑھانا، ایندھن کے لیے متبادل کے طور پر ایگرو فارسٹری، جنگل مالکان کی تکنیکی معاونت اور مقامی تاجروں کو عالمی مارکیٹ سے منسلک کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مختلف اقسام کے درخت لگائے جائیں گے۔ تاکہ فارسٹ کور بحال ہونے کے ساتھ ساتھ جلد بڑھنے والے درختوں کی لکڑی مقامی لوگ ایندھن کے لیے متبادل کے طور پر استعمال کرسکیں۔ مختلف علاقوں میں 75 ایکڑ پر بلاک شجرکاری کی جارہی ہے۔ چلغوزہ پودوں کی نرسری کے قیام سمیت کاشتکاروں کے لیے سمال گرانٹ بھی پراجیکٹ کا حصہ ہیں۔  جبکہ اونچے پہاڑوں سے چلغوزے اتارنے والے افراد میں ان کی حفاظت کے لیے ٹول کٹس بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔

 انہوں نے مزید بتایا کہ منصوبے کے تحت امسال کے سیزن میں ژوب میں چلغوزہ پراسیسنگ یونٹ لگایا گیا جس میں چلغوزے کی دھلائی، روسٹنگ اور پیکیجنگ کی جاتی ہے۔ پراسیسنگ یونٹ کے قیام سے چار سو افراد بالواسطہ اور ایک ہزار افراد بلاواسطہ طور پر مستفید ہوئے۔ یونٹ میں تاحال 15 ٹن چلغوزہ پراسیس کیا گیا ہے جس کی کل بچت 2.4 کروڑ روپے ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ عنقریب چلغوزے کو کلیوں (کونز) سے نکالنے کی مشین گریڈنگ پلانٹ بھی لگایا جائے گا تاکہ یہاں کے مقامی تاجر مستفید ہوسکیں۔

یحییٰ کے مطابق یہاں عموماً لوگ چلغوزہ روایتی طریقوں سے تیار کرتے ہیں۔ اس کی مکمل تیاری میں ایک سے ڈیڑھ ماہ کا وقت درکار ہوتا ہے۔ ستمبر میں درختوں سے اتار کر چلغوزے کی بند کلیاں 15 سے 20 دن تک زمین میں چپھاتے ہیں۔ یہ علاقہ چونکہ مون سون کی رینج میں واقع ہے، بعض اوقات زمین کی نمی کی وجہ فصل خراب ہوجاتی ہے۔ لیکن پراسیسنگ یونٹ میں دنوں کا کام منٹوں میں ہوجاتا ہے۔ کاشتکاروں کو نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ فصل بھی محفوظ ہوجاتی ہے۔ یحییٰ خان نے کہا کہ چلغوزے کے بیج میں تیل، کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین ہوتے ہیں۔

 عبدالودود کا تعلق کوہ سلیمان کے دامن میں واقع کلی منڑہ سے ہے۔ وہ گذشتہ 20 سال سے چلغوزے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چلغوزہ قیسا غر، منڑہ، شین غر، اوبشتہ سوکہ، زرغون زور، تورغر، نرئی پونگہ اور پارئی کے علاقوں سے ژوب شہر آتا ہے، جہاں سے لاہور، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور پشاور سے ہوتا ہوا چین پہنچتا ہے۔ ایک زمانے میں چلغوزے کے 40 کلوگرام کی قیمت نو ہزار دو سو روپے تھی لیکن آج مارکیٹ میں 40 کلوگرام یعنی ایک من کی قیمت ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ روپے ہے۔ اس کاروبار میں نفع کے ساتھ نقصان بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال ساڑھے چار ہزار سے لے کر پانچ ہزار روپے تک فی کلو فروخت کی گئی، تاہم امسال کرونا وائرس کے پھیلاو، مارکیٹس اور راستوں کی بندش کے باعث قیمتیں کافی حد تک گرچکی ہیں۔

لعل محمد کا تعلق شیرانی کے علاقے کلی ژڑ سے ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہ سارا سال فصل کا انتظار کرتے ہیں کیونکہ ان کا متبادل کوئی روزگار نہیں۔ فصل کی کٹائی کے دوران جان لیوا حادثات بھی پیش آتے ہیں۔ اونچے درختوں اور پہاڑ سے گرنے کی صورت میں زخمی کو ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے کندھوں پر شہر جانے والی سڑک تک پہنچایا جاتا ہے۔ ان کے گاؤں کے لوگ چلغوزے کی آمدنی سے اپنی ضروریات زندگی پوری کرتے ہیں۔

کلی سمزئی سے تعلق رکھنے والے تاج نور کے مطابق چلغوزے کی کٹائی ایک خطرناک عمل ہے۔ سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے ان کا شہر پہنچنا مشکل ہے۔ چلغوزہ روایتی طریقوں سے درختوں سے اتارا جاتا ہے۔ ان کے بچے تعلیم سے محروم ہیں، علاقے میں نہ تو سکول ہے اور نہ ہی کوئی  بنیادی طبی مرکز۔  انہوں نے حکومت سے درخواست کی انہیں سہولیات فراہم کی جائیں۔

 ضعیف العمر محراب خان کوہ سلیمان کے دامن میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صحابہ کرام جیسی سادہ مگر مشکل زندگی بسر کررہے ہیں۔ ان کے مطابق یہاں بچوں کے لیے نہ تو سکول ہے اور نہ ہی کوئی مدرسہ۔ علاقے میں پینے کا پانی موجود نہیں، خواتین اور بچے دور دراز علاقوں سے جانوروں کے چمڑوں سے بنے مشکیزوں اور گھی کے خالی ڈبوں میں پانی لاتے ہیں۔ لوگ بارشوں کے بعد جوہڑوں کا پانی پینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

محراب نے بتایا کہ چلغوزہ درختوں سے اتار کر اسے گدھوں اور اونٹوں پر پہاڑوں سے اتارا جاتا ہے۔ ایک گڑھا کھود کر کلیوں کو زمین میں دو ہفتوں تک دبانے کے بعد ایک چھوٹی لکڑی کی مدد سے چلغوزے کے بیج کو نکالا جاتا ہے۔ زمین سے نکال کر اسے دھوپ میں رکھتے ہیں۔ کلیاں حرارت ملنے کے بعد کھل جاتی ہیں۔ جس کے بعد مرد، بچے اور خواتین چلغوزے کو کلیوں سے نکالتے ہیں۔ خواتین گھروں میں نہ صرف گھر کا کام اور بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں بلکہ سیزن میں مردوں کی مدد بھی کرتی ہیں۔

 قسمت خان شیرانی کوہ سلیمان کے دامن میں واقع کلی احمد درگہ میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، کہ یہاں کے لوگ غربت کی چکی میں پیس رہے ہیں اور گذشتہ 70 سالوں میں علاقے کو کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔

کوہ سلیمان سے متصل درجنوں دیہات کے لوگوں کا کہنا ہے، کہ اگرعلاقے میں سڑکیں تعمیر کی جائیں، چلغوزے کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کو سہولیات دی جائیں اور سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں تو اس سے نہ صرف لوگوں کی تقدیر بدلے گی، بلکہ جنگلات کی کٹائی کی روک تھام سے ساتھ کوہ سلیمان کا حسن بھی بحال ہوجائے گا اور ملک کے مختلف حصوں سے سیاحت کے شوقین آسانی سے یہاں آسکیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان