بلوچستان کے کاشت کار ایرانی سیب سے پریشان

صوبے کے زمیندار اور ٹھیکے دار اس بات سے نالاں ہیں کہ ان کے سیب کے سیزن کے دوران ایران سے سیب آنا شروع ہوجاتے ہیں، جو مقامی سیبوں کے نرخ گرا دیتے ہیں۔

بلوچستان میں سیب کا سیزن جاری ہے اور سرد علاقوں میں واقع باغات سے سیب اتار کر مارکیٹ میں بھیجے جارہے ہیں، جن کا ذائقہ منفرد ہے اور اس میں رس بھی زیادہ ہوتا ہے۔

تاہم صوبے کے زمیندار اور ٹھیکے دار اس بات سے نالاں ہیں کہ ان کے سیب کے سیزن کے دوران ایران سے سیب آنا شروع ہوجاتے ہیں، جو مقامی سیبوں کے نرخ گرا دیتے ہیں۔

ایسے ہی ایک ٹھیکے دار حیات اللہ بھی ہیں جو  گذشتہ دس برس سے یہ کام کر رہے ہیں اور  آج کل کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں ایک باغ میں سیب اتارنے میں مصروف ہیں۔

حیات اللہ اس بات سے خوش ہیں کہ ان کے باغ میں پیداوار اچھی ہوئی ہے لیکن وہ نرخوں میں کمی سے نقصان ہونے کے خوف میں مبتلا ہیں۔

حیات اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ہم باغ کا ٹھیکہ اس وقت لیتے ہیں جب اس میں پھول لگ جاتے ہیں اور پھر پھل کے پکنے تک اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’یہ بہت مشکل اور وقت طلب کام ہے جس میں ہم نہ صرف اس کی باقاعدہ خیال رکھتے ہیں بلکہ کیڑوں سے حفاظت کے لیے سپرے وغیرہ بھی کرتے ہیں۔‘

حیات نے بتایا کہ کوئٹہ اور بلوچستان کے سرد علاقوں کا سیب پسند تو کیا جاتا ہے لیکن اس کو سب سے بڑا خطرہ ایران سے آنے والے سیب سے رہتا ہے۔

’یہ ہمارا سیزن ہے اور یہ طور کولو سیب ہے، لیکن اس کے نرخ بہت حد تک گرگئے ہیں، کیونکہ ایران سے سیب آنا شروع ہوگئے ہیں۔‘

حیات اللہ نے بتایا کہ مارکیٹ میں پہلے ہم سیب کے کریٹ کی جوڑی ڈھائی ہزار میں فروخت کررہے تھے لیکن ایران سے سیب کے آنے کے بعد اس کے نرخ 1300 سے 1400 روپے تک آگئے ہیں۔

سیب کے ٹھیکے داروں اور زمینداروں کو گلہ ہے کہ بلوچستان کا سیب اچھا اور کوالٹی کا ہونے کے باوجود ایکپسورٹ نہیں ہوتا لیکن ایران کا سیب یہاں آجاتا ہے۔

حیات اللہ نے بتایا کہ ایک خالی کریٹ وہ 120 روپے میں خریدتے ہیں، بھرائی کرنے والا مزدور تین ہزار روپے لیتا ہے جبکہ درخت سے پھل اتارنے والے کو سات سے آٹھ سو روپے دیتے ہیں، اس طرح وہ منافعے کی بجائے نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان چیمبر آف کامرس کے اراکین بھی سمجھتے ہیں کہ ایران سے سیب کے سیزن میں برآمد کی اجازت یہاں کے عوام کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔

چیمبر آف کامرس کے نائب صدر اختر کاکڑ بھی ہر فورم پر اس مسئلےکو اجاگر کرنے میں مصروف ہیں، جن کا مطالبہ ہے کہ حکومت سیزن میں سیب کی ایران سے برآمد بند کرکے اس کا وقت مقرر کرے۔

اختر کاکڑ کے بقول: ’بلوچستان میں 75 فیصد لوگوں کا ذریعہ معاش زمینداری سے جڑا ہوا ہے اور یہاں پر روزگار کے دوسرے ذرائع محدود ہیں۔ ایسے میں یہ مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ہم اس کے حوالے سے چیئرمین ایف بی آر اور دیگر متعلقہ لوگوں سے بار بار رابطہ کرکے ان کی توجہ دلانے کی کوشش کررہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اختر کاکڑ نے بتایا کہ ’ہماری کوششوں سے تفتان سرحد کے راستے سے ایرانی سیب کی برآمد بند ہوگئی ہے، لیکن اب بھی بعض لوگ ایرانی سیب افغانستان کے راستے طورخم سرحد سے یہاں سمگل کر رہے ہیں۔‘

واضح رہے کہ تفتان کی سرحد سے آنے والے ایک کلو سیب پر 56 روپے ٹیکس عائد ہوتا ہے  جبکہ طورخم سرحد سے یہ ٹیکس صرف آٹھ روپے لیا جاتا ہے۔

اخترکاکڑ کے مطابق: ’ہمارا موقف یہ ہے کہ جب ایران میں چاول کا سیزن ہوتا ہے تو یہاں سے درآمد بند کردی جاتی ہے۔ اسی طرح ہمارے یہاں سیب کے سیزن میں ایرانی سیب کی برآمد پر پابندی لگائی جائے۔‘

حیات اللہ اور ان جیسے دیگر ٹھیکے دار اور زمینداروں کا پورے سال کا انحصار باغوں کی کمائی پر ہوتا ہے۔

لیکن صورت حال یہ ہے کہ بلوچستان میں ٹیوب ویلوں کی بہتات اور زیر زمین پانی کی کمی سے ایک طرف تو سیب کی پیداوار میں کمی ہو رہی ہے، تو دوسری جانب ایران سے آنے والا سیب ان کی امیدوں پر پانی پھیر رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا