’ٹڈی دل سے کچھ بچے گا تو ہم بیچیں گے‘: کوئٹہ کے پریشان کاشت کار

کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک کے کاشت کار محمد ایوب کی چادر کے ذریعے اپنی فصل کو ٹڈی دل سے بچانے کی ساری کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور ٹڈیاں ان تمام کی فصل کھا گئیں۔

کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک کے کاشت کار محمد ایوب چادر کے ذریعے اپنی فصل کے بڑے حصے کو کھانے والے ٹڈی دل کو بھگانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔

اس کوشش میں ان کے بچے بھی ان کا ساتھ  دے رہے ہیں لیکن ٹڈیاں اڑ کر دوبارہ واپس آجاتی ہیں۔ 

ایوب مایوسی میں کہتے ہیں: 'اب تو کچھ نہیں بچا۔ یہ رات سے میری فصل کو کھانے میں لگے ہیں۔ ٹڈی دل کو یہاں سے نکالنا میرے بس سے باہر ہے۔' 

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پاکستان کے 51 اضلاع میں ٹڈی دل کے حملے جاری ہیں، جن میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 33 اضلاع  بھی شامل ہیں۔  

 ایوب نے رواں سال اپنی زمینوں پر بھنڈی ،ٹماٹر اوربینگن کاشت کرنے کے علاوہ درختوں کی نرسری بھی لگائی تھی تا کہ سبزیوں کے ساتھ  ساتھ وہ پھل فروخت کرکے اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکیں۔ 'ایسا لگتاہے کہ ہمیں اس سال فصل سے کوئی  فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ ٹڈی دل سے کچھ بچے گا تو ہم بیچیں گے۔' 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلوچستان میں  ٹڈی دل گذشتہ سال ایران سے آئے اور سرحدی علاقوں چاغی اور دیگر صحراہوں میں انڈے دے کر آگے بڑھ گئے، جن کی دوسری نسل اب پورے صوبے پر حملہ آور ہے۔ ٹڈی دل اتنا بڑا ہے کہ فصل میں ہر طرف ٹڈیاں ہی نظر آتی ہیں۔ ایوب سمجھتے ہیں کہ ان کا خاتمہ سپرے وغیرہ سے ممکن نہیں۔

ایوب کی فصلوں کے علاوہ صوبے کے دوسرےعلاقوں  کے باغات بھی ٹڈی دل کے نشانے پر ہیں۔ ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے سپرے کرنے والے محکمہ زراعت بلوچستان کے پلانٹ پروٹیکشن حکام کا کہنا ہے کہ وہ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ٹڈی دل کا سپرے کے ذریعے خاتمہ کردیا جائے۔ 

محکمہ کے حکام کے مطابق بلوچستان کے ہر ضلعے میں سپرے جاری ہے اور گذشتہ دنوں ضلع پشین میں فضائی سپرے  کیا گیا جس سے ٹڈیوں کی بڑی تعداد تلف ہو گئی۔

ایوب کی طرح اس علاقے میں دیگر زمین داروں کو بھی ٹڈی دل کے اس حملے کا سامنا ہے۔ ایوب بتاتے ہیں کہ علاقے میں اکثر لوگوں کا ذریعہ معاش زمین داری ہے اور وہ اسی سے گزر بسر کرتے ہیں لیکن اب لگتا ہے کہ کسی کو فصلوں سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔

اپنی فصلوں کو ٹڈی دل کے ہاتھوں تباہ ہوتے دیکھ کر ایوب افسردہ ہیں کہ وہ ان کو کسی بھی طرح روکنے کی سکت نہیں رکھتے اور ان کی سال بھر کی کمائی ٹڈیوں کی خوراک بنتی جارہی ہے۔ 

ادھر ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹڈی دل کے حالیہ  حملے سے فصلوں اور باغات کو شدید خطرات لاحق ہیں  اور صورت حال کو کنٹرول نہ کیا گیا غذائی قلت کی صورت حال پیش آسکتی  ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا