ٹڈی دل کے حملے سے بلوچستان میں سنگین غذائی قلت کا خدشہ

ایک سروے رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی 50.3 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے اور ٹڈی دل کے حملے سے اس میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ٹڈی دل انسانوں اور مویشیوں دونوں کی غذا کھا رہے ہیں(اے ایف پی)

غذائی قلت کے حوالے سے قومی ادارہ صحت کے ایک سروے کے مطابق بلوچستان کی50.3 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے جبکہ ہر10 میں چار بچوں کو نشوو نما کی کمی کا سامنا ہے۔

پاکستان میں کرونا وبا کے بعد ٹڈی دل کے حملے نے غذائی قلت کی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے اور ماہرین خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ ملک میں خوراک کے حوالے سے قحط کی صورتحال پیش آسکتی ہے۔ 

ضلع قلا ت کی تحصیل منگیچر کے ایک گاؤں کے کاشت کارمحمد یوسف گندم کی کٹائی سے قبل بوریوں کے حصول اور گندم کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے حوالے سے منصوبہ بندی کررہے تھے لیکن ٹڈی دل کے حملے نے سب کچھ بدل  دیا اور ان کے کھیت صاف ہوگئے۔

یوسف بتاتے ہیں کہ ٹڈی دل کا حملہ ایسے تھا جیسے کوئی سالوں کا بھوکا کھانے پر ٹوٹ پڑے ۔' ٹڈی دل ہماری فصلوں کو چٹ کر گئے اور ہم دیکھنے کے علاوہ کچھ نہ کرسکے۔' 

یوسف اور ان کے گاؤں کے باقی چھوٹے کاشت کاروں کی خوراک اور سال بھر کے خرچے کا ذریعہ یہی فصلیں ہیں، گندم ایک نقدآور فصل ہے جو خوراک اور مالی مسائل دونوں حل کرتی ہے۔ 

یوسف کے گاؤں میں سڑک کی عدم  سہولت  کے ساتھ ساتھ مواصلاتی رابطےبھی ناپید ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ'ہم پہلے ہی  دنیا سے کٹے ہوئے تھے،  اب ٹڈی دل نے ہماری خوراک او ر دیگر مسائل کے حوالے سے بھی رابطہ کاٹ دیا ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یوسف کو  گندم کی چند بوریاں ملی ہیں لیکن علاقے کے دیگر کاشت کار اس سے بھی محروم ہیں، ٹڈی دل ان کی فصلیں اور سبزیوں کے ساتھ سبزہ بھی چٹ کر گئے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک اور زراعت، نیشنل فوڈ سکیورٹی اور ایگری کلچر ورکنگ گروپ کے اسسٹنٹ کوآرڈینیٹر حبیب وردگ بھی حالیہ صورتحال کو تشویش ناک قرا ر دیتے ہیں۔ 'پاکستان میں خوراک کی قلت کی صورتحال پہلے سے موجود ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق چار سےچھ کروڑ لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں۔' 

حبیب کے بقول، پاکستان میں 34 اضلاع ایسے ہیں، جن میں 40 فیصد لوگ شدید غذائی عدم تحفظ یا درمیانے درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، لیکن اب معاملہ مزید سنگین ہوگیا ہے کیونکہ اب ٹڈی دل انسانوں اور مویشیوں دونوں کی غذا کھا رہے ہیں۔ 

پاکستان میں دو قسم کی فصلیں کاشت ہوتی ہیں جن کو ربیع اور خریف کہا جاتا ہے ۔حبیب وردگ کے مطابق ٹڈی دل کے حملے سے کاٹن انڈسٹری سمیت قومی زرمبادلہ پر بھی برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ' اگر ٹڈی دل ربیع کی 25 فیصد فصلوں کو نقصان پہنچاتی ہے تو 400 ارب  روپےکا نقصان ہوگا اور خریف میں یہ 600 ارب  روپےاور 50 فیصد ہونے پر ربیع میں 700 ارب اور خریف میں 900 ارب  روپےسے زائد کا نقصان کا خدشہ ہے۔ 

فوڈ سکیورٹی کیا ہے؟ 

حبیب وردگ کے مطابق ،ہم فوڈ سکیورٹی اسے کہتے ہیں جب سب لوگوں کے لیے خوراک موجود اور ان کی دسترس میں ہو۔ 'ہماری اہم  پیداواری اور نقد آور فصلوں کو خطرہ ہے جو ہماری خوراک او رآمدنی کے علاوہ ملکی زرمبادلہ کا  بھی ذریعہ ہیں۔' 

ادھر ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے ادارے پلانٹ پروٹیکشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عارف شاہ کاکڑ پرا مید ہیں وہ زمینداروں کے ساتھ مل کر کر ٹڈی دل کا حملہ روک دیں گے۔ 

ڈاکٹر عارف کے مطابق صوبائی حکومت نے انہیں تمام وسائل فراہم کرنے اور ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے ضروریات پوری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہےجس کے بعد وہ  آپریشن تیز کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے سرد اضلاع میں ٹڈی دل کے حملوں سے فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچ رہا ہے، جس کے خاتمے کے لیے ان کی ٹیمیں متحرک ہیں۔ 

ڈاکٹر عارف کو خدشہ ہے کہ چونکہ بلوچستان میں لوگوں کو میڈیا تک رسائی نہیں اور زمیندار حکومتی اقدامات سے بے خبر ہیں اس لیے بعض جگہوں کے زمیندار وں تک آپریشن کے فوائد نہیں پہنچ رہے۔ 'جو زمیندار ہم تک پہنچ رہے ہیں ان کو ہم سپرے کے لیے مفت زہر دے رہے ہیں لیکن اب بھی ایسے زمیندار موجود ہیں جن کو معلوم نہیں کہ کہاں جانا ہے اور کس سے رابطہ کرنا ہے، جو ایک بڑا مسئلہ ہے۔' 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان