پاکستان مصر بزنس کونسل اور بزنس فورم قائم کیے جائیں گے: اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے بتایا کہ مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبد العاطی سے ملاقات میں بزنس ٹو بزنس تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

30 نومبر 2025 کو مصر کے وزیر خارجہ  ڈاکٹر بدر احمد محمد عبد العاطی کی اسلام آباد میں دفتر خارجہ آمد کے موقعے پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کے موقعے پر لی گئی تصویر (دفتر خارجہ)

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو کہا ہے کہ پاکستان اور مصر کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پاکستان مصر بزنس کونسل اور بزنس فورم قائم کیے جائیں گے۔

اتوار کو پاکستان کے دورے پر آئے مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبد العاطی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اسحاق ڈار نے کا کہ اسلام آباد مصر کو مسلم دنیا کا اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مصر کے درمیان دفاع اور معیشت سمیت تمام شعبوں میں تعاون فروغ پا رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ شراکت داری اور بھائی چارہ قائم ہے۔

مصر کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مشترکہ اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی مصری وزیر خارجہ سے ملاقات میں ’شراکت داری کے نئے مواقع تلاش کرنے‘ پر بات چیت ہوئی۔

اسحاق ڈار کے مطابق بزنس ٹو بزنس تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس کے دوران 250 پاکستانی بزنس ہاؤسز کی فہرست مصر کو فراہم کی جائے گی اور اگلے مرحلے میں اس فہرست کو 500 بزنس ہاؤسز تک بڑھایا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ فہرست فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پاکستان چیمبرز آف کامرس کے اشتراک سے بنائی جائے گی۔

جس کے بعد پاکستان مصر بزنس کونسل کی تشکیل کی جائے گی اور بعدازاں بزنس فورم بھی قائم کیا جائے گا، جس کی پہلی میٹنگ 2026 کے دوسری سہ ماہی میں قاہرہ میں منعقد ہو گی۔

انہوں نے بتایا کہ مصری وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں ’دوطرفہ تجارت کے لیے دستیاب مواقع بروئے کار لانے پر اتفاق ہوا ہے۔‘

اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ملکوں میں سیاسی، معاشی، دفاعی، ثقافتی اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے جبکہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر اور افغانستان سمیت عالمی فورمز پر تعاون پر تبادلہ خیال ہوا۔

نائب وزیراعظم کے مطابق ملاقات میں غزہ کی صورت حال بھی زیر غور آئی۔ ’غزہ جنگ بندی میں مصر کا کردار قابل تعریف ہے۔‘

مصر کے شہر شرم الشیخ میں رواں برس اکتوبر میں امریکہ، مصر، قطر اور ترکی کی ثالثی میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کا مقصد اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان لڑائی کا خاتمہ اور تباہ حال فلسطینی علاقے کی بحالی کے لیے طویل المدتی حکمتِ عملی تیار کرنا تھا۔

اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے موقعے پر مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی نے کہا کہ پاکستان اور مصر کو ایک جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ’پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے اسلام آباد اور پشاور میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے حملوں میں جانی نقصان پر پاکستانی عوام اور حکومت سے تعزیت کی۔

 ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور مصر کے درمیان تاریخی تعلقات قائم ہیں اور دونوں ملکوں کا رشتہ دوستی اور باہمی مفاد پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا: ’پاکستان کے ساتھ سیاسی ڈائیلاگ معاشی شراکت داری اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کریں گے۔‘

غزہ کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی معاہدے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مصر فلسطین تنازعے کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتا ہے۔ تنازعے کا دو ریاستی حل ہی پائیدار اور قابل عمل ہے۔‘

پاکستان اور مصر میں معاشی تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ دوطرفہ تجارتی حجم بڑھانے اور مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت