پاکستان میں کنٹونمنٹ بورڈز کیسے بنتے اور کام کرتے ہیں؟

ملک بھر میں قائم 44 کنٹونمنٹ بورڈز کینٹ ایریا میں صفائی، صاف پانی کی فراہمی، سیوریج کے نظام، صحت، تعلیم، تفریحی پارکوں اور کھیل کے میدان جیسی سہولیات فراہم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کی عمارت کا بیرونی منظر (چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ فیس بک اکاؤنٹ)

پاکستان کی وزارت دفاع کی جانب سے 24 نومبر کو جاری ہونے والے مراسلے کے مطابق ملک بھر کے تمام 44 کنٹونمنٹ بورڈز کو چار سالہ مدت مکمل ہونے پر تحلیل کر دیا گیا ہے۔

 بورڈز کے منتخب ارکان سبکدوش کر دیے گئے اور تمام چیف ایگزیکٹیو آفیسرز (سی ای اوز) سے کنٹونمنٹ بورڈز کا نظام چلانے کے لیے 26 نومبر تک نگران بورڈ کے ارکان کی نامزدگیوں کے لیے نام بھی مانگے گئے۔ کنٹونمنٹ بورڈز کے نئے انتخابات 120 میں کروائے جانے ہیں جب کہ آئندہ منتخب ہونے والے ارکان کی حلف برداری ایک ہی دن کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

لاہور کنٹونمنٹ بورڈ کے سینیئر رکن کرنل ریٹائرڈ اکبر بٹ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہمارے انتخاب کو چار سال ہو چکے ہیں لہٰذا وزارت دفاع نے اب بورڈز تحلیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے نگران سیٹ اپ بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اب مقررہ مدت میں دوبارہ انتخاب ہوگا اور نئے بورڈز تشکیل دیے جائیں گے۔‘

پاکستان میں کنٹونمنٹ بورڈز ایک خاص انتظامی نظام ہے جو ملک کی چھاؤنیوں میں بلدیاتی خدمات فراہم کرتا ہے۔ ان بورڈز کا بنیادی مقصد ان علاقوں میں شہری سہولتیں فراہم کرنا اور ان کی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ بورڈز پاکستان کی وزارت دفاع کے زیر انتظام ہوتے ہیں۔ یہ سیٹ اپ ویسے تو عوامی نمائندوں کے انتخاب سے قائم کیے جاتے ہیں لیکن ان کی سربراہی سٹیشن کمانڈر اور انتظامی اختیار سی ای او کینٹ کے پاس ہوتا ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈز کا انتظامی ڈھانچہ کیسے بنتا ہے؟

وزارت دفاع کے مراسلے میں بتایا گیا کہ نگران سیٹ اپ کے لیے کنٹونمنٹس (ترمیمی) ایکٹ 2023 کے سیکشن 19 (دو) کے مطابق ایک سویلین رکن اور ایک فوجی افسر (جو سٹیشن کمانڈر کی طرف سے نامزد کیا جائے) اور دوسرے نامزد کردہ سویلین رکن جو آئندہ کنٹونمنٹ بورڈز کے الیکشن میں امیدوار نہیں ہونا چاہیے، کے نام بھجوائے جائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کنٹونمنٹ بورڈز کا انتظامی ڈھانچہ مختلف قواعد و ضوابط پر مبنی ہوتا ہے، جو عام شہری انتظامیہ سے مختلف ہوتا ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈز میں عام طور پر ایک چیف ایگزیکٹیو آفیسر ہوتا ہے، جو بورڈ کے روزمرہ کے امور کو چلانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈ کے ارکان کا باقاعدہ انتخاب ہوتا ہے جو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذریعے کروایا جاتا ہے۔ ہر بورڈ میں منتخب نمائندوں کی نشستوں کی تعداد مختلف ہے۔ لاہور میں دو کینٹ بورڈ ہیں والٹن کینٹ اور لاہور کینٹ۔ ان میں منتخب ممبران کی تعداد 10,10 رکھی گئی ہے۔

قواعد کے مطابق جتنے ارکان منتخب ہوتے ہیں اتنے ہی مقامی فوجی افسر بھی ممبر نامزد کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کینٹ ایریا میں تعینات اسسٹنٹ کمشنر، پولیس افسر، محکمہ صحت، محکمہ تعلیم سمیت متعلقہ انتظامی افسر بھی بورڈ کا حصہ ہوتے ہیں۔

کنٹونمنٹ بورڈ کے ایک ریٹائرڈ افسر ملک تنویر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’بورڈ تشکیل دیے جانے کے بعد منتخب ہونے والے ممبران اپنا وائس چیئرمین منتخب کرتے ہیں، تاہم اس کا سربراہ سٹیشن کمانڈر فوجی افسر ہی ہوتا ہے۔ یہ ایک مقامی حکومت جیسا نظام ہوتا ہے جس کی ذمہ داری کینٹ ایریا میں صفائی، صاف پانی کی فراہمی، سیوریج کا نظام، صحت، تعلیم، تفریحی پارک، کھیلوں کے میدان جیسی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔‘

ملک بھر کے 44 کنٹونمنٹ بورڈز کو کل 219 وارڈز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر وارڈ سے ایک ممبر منتخب ہوتا ہے۔ ان میں سے لاہور، کراچی، فیصل آباد، ملتان سمیت 14 بورڈز میں 10,10 وارڈز ہیں جبکہ چھوٹے بورڈز ٹیکسلا، اوکاڑہ و دیگر میں چار سے سات تک وارڈز بنائے گئے ہیں۔

بورڈز کا مالیاتی نظام

لاہور کنٹونمنٹ بورڈ کے سینیئر رکن اکبر بٹ کے بقول: ’کنٹونمنٹ بورڈز کے مالی وسائل حکومت کے فنڈز، مقامی ٹیکسوں، فیس اور دیگر ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں۔ بورڈ کا ہر سال بجٹ بنتا ہے۔ اخراجات اور آمدن کی بنیاد پر بورڈ اجلاسوں میں مسائل کا حل اور ترقیاتی منصوبوں کی منظوری لی جاتی ہے۔ منتخب ارکان کے ساتھ فوجی ارکان اور انتظامی افسر بھی رائے دینے کا حق رکھتے ہیں۔ تاہم تمام معاملات باہمی مشاورت سے چلائے جاتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’بورڈ کو زیادہ تر آمدنی زمینوں کے کرائے، پراپرٹی ٹیکس، پانی اور سیوریج کے بل اور کاروباری فیس سے ہوتی ہے۔ کچھ کنٹونمنٹ بورڈز میں چھوٹے کاروبار یا تجارتی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں۔ یہ بورڈز نہ صرف فوجی اہلکاروں کے لیے رہائشی سہولتیں فراہم کرتے ہیں بلکہ شہریوں کے لیے بھی ایک محفوظ اور صاف ستھرا ماحول مہیا کرتے ہیں۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان