سکون ہی سکون ہے

وہ غریب جن کی آمدنی مختصر ہو انہیں اپنی چادر کو روز ناپنا چاہیے کیا پتہ کب چھوٹی ہو جائے۔ ایسے لوگوں کو ماہوار بجٹ بنا لینا چاہیے کہ روزانہ جو اجرت ملے گی اس کا کتنا فیصد کہاں خرچ کرنا ہے۔

16 جنوری 2020 کی اس تصویر میں پنجاب کے شہر لاہور میں شدید سردی اور دھند کے دوران ایک شخص گدھا گاڑی پر سامان لادے جا رہا ہے(اے ایف پی)

سردیاں جانے کو ہیں، جو گرم کپڑے استعمال کر چکے اب وہ اگلے برس ہی نکلیں گے، سو انہیں دھو کر، فینائل کی گولیوں اور نیم کے خشک پتوں کے ساتھ پیٹی میں رکھ دیں یا مچان پہ چڑھا دیں۔

ایسا کیا تو اگلے برس بڑی آسانی ہو گی۔

گندم میں موجود کاربوہائیڈریٹس غیر ضروری مٹاپا لاتے ہیں، دو کی بجائے ایک روٹی کھائیں، فاقہ کشی کوئی آفت نہیں، امیر گھروں کی لڑکیاں تو اسے بڑی دقت سے کرتی ہیں، اللہ نے آپ کو قدرتی طور پر یہ موقع فراہم کر دیا اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

ہمیں غیروں کے پراپگنڈے کو نہیں صرف اپنوں کی بات کو سننا چاہیے کیونکہ مشہور کہاوت ہے ’اپنا مارتا ہے تو ڈالتا بھی چھاؤں میں ہے۔‘ چھاؤں ویسے بھی اللہ کی نعمت ہے اور یہ نعمت صرف درختوں کی مرہون منت ہے۔ کل کو مار پڑنے کے بعد چھاؤں ملے اس کے لیے اپنا درخت آج اگائیں۔

درخت سے یاد آیا کہ وہ غریب جن کی آمدنی مختصر ہو انہیں اپنی چادر کو روز ناپنا چاہیے کیا پتہ کب چھوٹی ہو جائے۔ ایسے لوگوں کو ماہوار بجٹ بنا لینا چاہیے کہ روزانہ جو اجرت ملے گی اس کا کتنا فیصد کہاں خرچ کرنا ہے۔ جیسے کہ بچوں کی چاکلیٹ پاپڑ پر روزانہ ہزار روپے سے زیادہ پیسہ لٹانا ٹھیک نہیں، خیال رہے کہ بچے انٹرنیشنل برانڈز پہ نہ لپکیں، ہمیں پاکستانی برانڈز کو فروغ دینا چاہیے۔

’جن کے کرتوت کالے ہوں وہ بدشکل ہو جاتے ہیں،‘ اس قدیم یونانی کہاوت کو اپنا مشعل راہ بنا لیں۔ خوش شکل ہو تو ولن بھی برداشت ہو جاتا ہے۔ بس یہی جذبہ ملک خداداد کے خوب صورت حکمرانوں سے اندھی محبت پہ آپ کو مجبور کرد ے گا۔ ویسے بھی مجبوری کا نام شکریہ ہے، اس لیے شکریہ ادا کرتےرہنا چاہیے۔

اب میں ایک اہم مسئلے کی جانب آپ کی توجہ چاہتی ہوں۔ مہنگائی نے سب کا حال برا کررکھا ہے میچنگ کے دوپٹے بھی اب پہنچ سے باہر ہو رہے ہیں۔ اس کا موزوں حل یہی ہے کہ پرانے دوپٹوں کو گھر میں رنگنے کا اہتمام کر لیں۔ خواتین کو معاشی اور معاشرتی درستگی کے لیے اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔

طالبعلموں، کتابیں پڑھنے کے شوقینوں، کالم کا مطالعہ کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، ہم 23 کروڑ ہونے والے ہیں اس لیے کم از کم 23 لاکھ لکھنے والے ہوں گے تب کہیں جا کر یہ کھپت پوری ہو سکے گی۔ اس ٹارگٹ کو پورا کرنے کے لیے ریاستی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

یہاں میرا مخاطب نوجوان ہیں۔ یہ قوم کا مستقبل ہیں، انہیں مونگ پھلیاں کھا کر اس کا کچرا سمیٹ کر کچرے دان میں پھینکنا چاہیے، امی تو خیر بھگت لیں گی مگر بات ابو تک پہنچی تو خواہ مخواہ بڑھے گی۔ گھرکا ماحول خوشگوار رکھنا چاہیے۔

ابو کا ذکر نکلا ہے تو سب کو سمجھنا چاہیے کہ ابو کا دست شفقت انسان کو زندگی کے ہر مرحلے میں کامیاب رہنے کے لیے ضروری ہوتا ہے، ایک ابو تو وہی ہو گئے جو گھر میں ہوتے ہیں تاہم ہمارے ملک کے بڑے بھی والد کی طرح ہوتے ہیں ان کی عزت کرنا چاہیے اور حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے کہ وہ آپ سے راضی ہوں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مزید اچھی باتیں بھی ہیں جیسے کہ یہ دنیا آج ہے کل نہیں، یہاں میں ایک بھارتی شاعر کے الفاظ پیش کرنا چاہوں گی، بھارت کا انتخاب یوں کہ ادب کی سرحد نہیں ہوا کرتی۔ سو شعر ہے

اک دن بِک جائے گا ماٹی کے مول
جگ میں رہ جائیں گے پیارے ترے بول

یہاں شاعر نے بکنے بکانے کی جو بات کر ڈالی وہ ایک طرح سے ملک کی پھلتی پھولتی معیشت کی جانب اشارہ ہے، اشارے ہمیشہ اچھے ہونے چاہیے۔

عوام کو معاشی اشاریوں اور احتساب کے نعرے کی کیا سمجھ، سیدھے لوگ ہیں انہیں یہ بتانا چاہیے کہ خرچوں کا حساب رکھیں تو مہینے کے آخر میں گھر والی کا احتساب کیا جا سکتا ہے۔

ہر گزرتا دن طبقاتی کشمکش کی رسہ کشی کو دیکھ رہا ہے کہ کیسے پسا طبقہ بار بار یہ بازی ہار جاتا ہے مگر لوگوں کو یہ بتانا بہت اہم ہے کہ یہ اللہ کے کھیل ہیں کسی کو تاج دے کسی رول دے۔ آپ اور ہم کیا کر سکتے ہیں۔

لوگوں کو ان کے جمہوری حق کا شعور دینے میں خود لوگوں کی کم علمی حائل ہے، 75 برس تو یہ سمجھانے میں لگ گئے کہ بیلٹ پیپر بیلٹ باکس میں ڈالیں، آمروں کی جیب میں نہیں۔

 بہتر ہے کہ پبلک کو سمجھایا جائے کہ راہ چلتے کینو کے چھلکے یہاں وہاں نہیں پھینکا کرتے، اس سے پیچھے آنے والوں کے پھسلنے کا خدشہ ہے۔

وہ جو روتے ہیں کہ ہمیں کیوں نکالا، وہ جو کہتے ہیں کہ اب میں نے کیا کہہ دیا، وہ جو دھمکاتے ہیں کہ ہمیں سب پتہ ہے ہماری زبان نہ کھلوائیں اور پھر چپ ہو رہتے ہیں اور وہ صحافی جو مانتے نہیں، اپنی سی کہہ جاتے ہیں اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ سارے تیر ہماری جانب کیوں، وہ سب بھی ایسی اچھی اچھی باتیں کیوں نہیں کرتے؟

کس نے کہا کہ چمگاڈر بن کر سیہ راتوں کی گواہی دیں؟ آئیں کیوں نہ وہ بھنورا بن جائیں جو دھوپ سینکے، پھولوں کا رس چوسے، چمن چمن منڈلائے۔

جو گھپ گہری رات میں جاگا کرتے ہیں، تاریک شب ٹٹولا کرتے ہیں، اور سناٹوں کو سننے کی کوشش کرتے ہیں وہ الو ہوتے ہیں۔ کیوں نہ وہ بکری بن جائیں جسے ہرے چارے کی جگالی سے فرصت نہیں۔

نہ اعتبار حرف ہے، نہ آبروئے خون ہے
سکون ہی سکون ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر