مساجدمیں غیرحاضری پرجرمانےکی خبریں غلط:طالبان

جوزجان امر بالمعروف کے سربراہ مولوی یاسین وقاص نے کہا ’مسلمان اپنی حاضری اللہ کو دیتا ہے، اس پر ہمیں کسی جرمانے کی ضرورت نہیں، ہمارے ادارے کا کوئی کارکن کسی شخص کے نجی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا۔‘

خواتین 23 نومبر 2021 کو ہرات کی مسجد سے گزرتے ہوئے (فائل تصویر: اے ایف پی)

افغانستان حکومت کی صوبائی وزارت برائے امر بالمعروف ونہی عن المنکر سے تعلق رکھنے والے علما، قبائلی عمائدین، سماجی کارکنوں اور صحافیوں کی موجودگی میں آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبہ جوزجان کے امر بالمعروف کے سربراہ مولوی یاسین وقاص نے واضح کیا کہ مساجد میں غیر حاضری یا داڑھی کاٹنے پر جرمانے کی خبریں غلط ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کی تعلیم پر پابندی، لوگوں کے نجی معاملات میں مداخلت، باجماعت نماز نہ پڑھنے پر جرمانہ، داڑھی کٹوانے اور ہیئر کٹس پر پابندی کے حوالے سے ادارہ امربالمعروف ونہی عن المنکر سے منسوب احکامات کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

جوزجان امر بالمعروف کے سربراہ مولوی یاسین وقاص کا کہنا تھا کہ ’اس وقت سوشل میڈیا پر وزارت امربالمعروف سے منسوب طرح طرح کے جعلی ہدایت نامے گردش کررہے ہیں جن کا ہمارے ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ ’مساجد میں عدم حاضری یا داڑھی کاٹنےپر جرمانے کا کوئی حکم ہمارے ادارے نے جاری نہیں کیا۔ ہمارے 128 کارکن جوزجان میں کام کررہے ہیں جن کے پاس ادارے کے کارڈ موجود ہیں۔‘

مولوی یاسین وقاص نے کہا ’مسلمان اپنی حاضری اللہ کو دیتا ہے، اس پر ہمیں کسی جرمانے کی ضرورت نہیں، ہمارے ادارے کا کوئی کارکن کسی شخص کے نجی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا۔‘

انہوں نے واضح کیا کہ ’کسی فرد کو اجازت نہیں کہ کسی کے گھر کی جاسوسی کرے یا کسی کے نجی معاملات میں تجسس سے کام لے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا