حکومت تسلیم کروانے کے لیے تمام شرائط پوری کیں:طالبان

طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد افغانستان کی پہلی اقتصادی کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم ملا حسن اخوند نے کہا کہ چوری، کرپشن اور بدامنی جیسے مسائل کا خاتمہ ہوگیا ہے اور دنیا کو ان کی حکومت تسلیم کرنی چاہیے۔

افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے سربراہ ملا محمد حسن اخوند کا کہنا ہے کہ اسلامی امارات نے اپنی حکومت کو تسلیم کروانے کے لیے دنیا کی تمام شرائط پوری کی ہیں اور اب بالخصوص اسلامی ممالک کو طالبان حکومت کو تسلیم کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔

سرکاری میڈیا ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن افغانستان (آر ٹی اے) کے مطابق اگست 2021 میں افغانستان کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد بدھ کو دارالحکومت کابل میں ملک کی پہلی اقتصادی کانفرنس سے خطاب میں وزیر اعظم ملا حسن اخوند نے ان خیالات کا اظہار کیا۔

ملا حسن کا کہنا تھا کہ جو طاقتیں انسانی حقوق کے تحفظ کے دعویدار ہیں، انہی کی پابندیوں اور افغانستان کے فنڈ منجمد کرنے سے افغان عوام معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’پوری دنیا ایک قدم اٹھائے اور افغانستان کو تسلیم کرکے اس مسئلے کا خاتمہ کردے۔‘

حکومتی سربراہ کا کہنا تھا کہ عارضی امداد سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے، ہمیں مل کر ایسے ذرائع تلاش کرنے چاہییں جو ہمیشہ کے لیے عوام کے مسائل کا حل کریں۔

ملا حسن نے کہا: ’اقتصادی پروگرام صحیح طریقے سے چلائے جائیں تو بہت جلد مسائل سے نکل جائیں گے۔ اگر ہم مل کر تعاون کریں، یہ مسائل خود بخود ختم ہوجائیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سابق انتظامیہ میں چوری، کرپشن اور بدامنی تھی مگر اسے تسلیم بھی کیا گیا تھا اور اس کی مدد بھی کی جارہی تھی۔ ’اب ان سارے مسائل کا خاتمہ ہوچکا ہے مگر پھر بھی کہا جارہا ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔‘

انہوں نے اصرار کیا کہ حکومت تسلیم کروانے کے لیے دنیا کی شرائط پوری کی گئی ہیں اور اب اسلامی ممالک کو اس میں پہل کرنی چاہیے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طالبان وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں کرپشن ختم ہوگئی ہے، سکیورٹی کو یقینی بنایا گیا ہے اور سرمایہ کاری کا ماحول پوری طرح سے سازگار ہے، تو اب عالمی اداروں کو آ کر افغانستان میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔  

آر ٹی اے کے مطابق کانفرنس سے خطاب میں وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ افغانستان تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی اچھے تعلقات قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

بقول امیر خان متقی: ’افغانستان تمام ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات چاہتا ہے۔‘

دوسری جانب نائب وزیر اعظم عبدل سلام حنفی نے کہا کہ افغانستان کا 20  سالہ اقتصادی نظام بیرونی امداد پر منحصر تھا اور جیسے ہی وہ بند ہوئی نظام بکھر گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب افغان حکومت صرف امداد پر انحصار نہیں کرنا چاہتی اور بین الاقوامی برادری سے مل کر ترقیاتی منصوبوں کا دوبارہ آغاز کرنا چاہتی ہے۔

وزیر خزانہ ہدایت اللہ بدری نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مدد کی ضرورت ہے اور ’اب جب انتظامیہ سے کرپشن ختم ہوگئی تو طویل مدتی منصوبوں پر کام کیا جاسکتا ہے۔‘  

انہوں نے کہا: ’ہم نے پہلی بار ملکی ریوینیو سے مکمل بجٹ بنایا ہے۔ ہم بجٹ میں ضروری شفافیت لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ہدایت اللہ بدری کا کہنا تھا کہ حکومت انسانی امداد کے لیے اقوام متحدہ سے اچھے تعلقات قائم کر رہی ہے، مسائل کے حل کے لیے ماہر معاشیات اور کاروباری شخصیات سے ملی ہے اور ٹیکس کم کرنے اور غیر قانونی ٹیکس ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آر ٹی اے کے مطابق اس کانفرنس میں اقوام متحدہ کی افغانستان میں خصوصی نمائندہ ڈیبرا لیونز نے بھی شرکت کی اور کہا کہ اقتصادی بحران افغان عوام کے لیے سنجیدہ مسئلہ ہے اور اقوام متحدہ پابندیاں ختم کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا