کیا لتا نے واقعی 25 ہزار گانے گائے؟

بھارت کے دو مشہور چینلز نے اپنی طویل دورانیے کی نشریات کے دوران بار بار یہ دعویٰ دہرایا کہ 1948 سے 1987 تک لتا نے 25 ہزار گانے گائے۔ انہی کی تقلید میں دوسرے چینلز نے بھی کہنا شروع کر دیا کہ لتا نے پوری زندگی میں 30 ہزار گانے گائے تھے۔

7 فروری 2022 کو لی گئی اس تصویر میں لتا منگیشکر کے فین گورو شرما، اپنے گھر کے میوزیم میں اپنا ایک مجموعہ دکھا رہے ہیں جہاں انہوں نے لتا کی ہزاروں کمپیکٹ ڈسکس، فلموں اور کتابوں کو بڑی احتیاط سے کیٹلاگ کیا ہے (تصویر: اے ایف پی)
 

پاک و ہند کے فلم بینوں اور موسیقی کے متوالوں نے گذشتہ ہفتہ لتا منگیشکر کی یاد میں گزارا۔

ان کے بچپن کی دکھ بھری کہانی سے لے کر شہرت اور خوشحالی تک کی یادیں دہرائی گئیں۔ ان کے بھولے بسرے ابتدائی گیتوں سے لے کر شہرت عام اور بقائے دوام پانے والے سدا بہار نغموں تک سبھی کچھ ریڈیو کی لہروں اور ٹی وی کی سکرین پر نمودار ہوا۔

 ایسے موقعوں پر فن کار کے چاہنے والے اس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیں تو اسے جوش عقیدت کا تقاضہ سمجھ کر قبول کر لیا جاتا ہے لیکن اگرسنجیدہ تجزیہ کار بھی مبالغہ انگیز بیانات اس مقابلے میں شامل جائیں تو پھر ریکارڈ کی درستی کے لیے غیرجانبدار مبصرین کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

بھارت کے دو مشہور چینلز نے اپنی طویل دورانیے کی نشریات کے دوران بار بار یہ دعویٰ دہرایا کہ 1948 سے 1987 تک اپنے مصروف ترین دور میں لتا نے 25 ہزار گانے گائے۔ انہی کی تقلید میں دوسرے چینلز نے بھی کہنا شروع کر دیا کہ لتا نے پوری زندگی میں 30 ہزار گانے گائے تھے۔

اب حساب لگایے کہ ایک فنکار اگر ہر روز ایک گانا ریکارڈ کروائے۔ جی ہر روز! عید، شب برات، ہولی، دیوالی پر بھی چھٹی نہ کرے تو سال بھر میں وہ 365 گانے ہی ریکارڈ کروا پائے گا۔

روزانہ مشقت کا یہ سلسلہ اگر 10 سال تک جاری رہے تو تین ہزار چھ سو پچاس گانے ریکارڈ ہو جائیں گے۔ 20 برس میں یہ تعداد سات ہزار تین سو تک پہنچ جائے گی اور 1948 سے 1987 تک کے 39 برسوں میں یہ تعداد 14 ہزار سے کچھ اوپر چلی جائے گی۔

چنانچہ اگر ہر روز ایک نئی ریکارڈنگ کے ناقابل عمل معرکے کو درست مان بھی لیا جائے تو مذکورہ عرصے میں 25 ہزار گانوں کی ریکارڈنگ ناممکن ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اصل میں یہ سارا قضیہ اس وقت شروع ہوا جب لتامنگیشکر نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران یونہی اندازے سے کہہ دیا کہ میں نے اب کوئی 25 ہزار نغمے ریکارڈ کروائے ہیں۔ اس بیان کی بنیاد پر لتا کا نام گنیز بک آف دا ورلڈ ریکارڈ میں’سب سے زیادہ ریکارڈ ہونے والی مغنیہ‘کے طور پر درج ہو گیا۔ (بعد میں گنیز بک کو یہ دعویٰ خارج کرنا پڑا۔)

لتا کے اس بیان پر محمد رفیع نے طنزاً تبصرہ کیا کہ اگر لتا نے 25 ہزار گانے گائے ہیں تو میں نے 26 ہزار گائے ہیں۔

اس طنز کو بھی پاک و ہند کے فلمی پریس نے ایک دعوے کے طور پر پیش کیا اور یوں گانوں کی تعداد کے بارے میں ایک گرما گرم لیکن لاحاصل بحث شروع ہو گئی۔

غیرجانبدار محققین کی ریسرچ کے مطابق لتا نے اپنی گلوکاری کے مصروف تیس برسوں کے دوران جو گانے گائے ان کی تعداد ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ نہیں ہے اور زندگی بھر میں گائے ہوئے ان کے گانوں کی کل تعداد سات ہزار سے کم ہے۔

محض گانوں کی تعداد کی بنیاد پر گلوکار کے مقام کا تعین کیا جائے تو ان کی بہن آشا بھوسلے کہیں بڑی فن کارہ قرار پائیں گی جنہوں نے اب تک 13 ہزار سے زیادہ گانے ریکارڈ کروائے ہیں۔

موسیقار او۔ پی نیّرکے ساتھ آشا کی دوستی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔ لتا کو ان دونوں کے تعلقات پر سخت اعتراض تھا چنانچہ عرصہ دراز تک دونوں بہنیں ناراض رہیں اور او۔ پی نیّر نے بھی ساری عمر لتا سے کوئی گیت نہیں گوایا۔ اگرچہ سرعام اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ لتا کی آواز میں’باڈی‘نہیں ہے۔ یعنی جو قوت اور دم شمشاد بیگم، آشابھوسلے اور گیتا دت کی آوازوں میں ہے، لتا اس سے محروم ہیں۔ لیکن یہ محض ایک موسیقار کی ذاتی رائے تھی۔

بھارت کی اتنی بڑی فلم انڈسٹری میں کسی اور میوزک ڈائریکٹر نے لتا کے بارے میں ایسی بات نہیں کی۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم