بھارت کی نامور گلوکارہ لتا منگیشکر کرونا کے باعث چل بسیں

سال 1929میں پیدا ہونے والی 92 سالہ گلوکارہ کو کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے نو جنوری کو ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جس کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت یونٹ منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ تادم مرگ زیر علاج رہیں۔

گذشتہ روز لتا منگیشکر کی طبیعت بگڑنے کے باعث انہیں دوسری مرتبہ آئی سی یو منتقل کیا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں(اے ایف پی)

معروف بھارتی گلوکارہ لتا منگیشکر کرونا سے متاثر ہونے کے بعد چل بسیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سال 1929میں پیدا ہونے والی 92 سالہ گلوکارہ کو کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے نو جنوری کو ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جس کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت یونٹ منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ تادم مرگ زیر علاج رہیں۔

گذشتہ روز لتا منگیشکر کی طبیعت بگڑنے کے باعث انہیں دوسری مرتبہ آئی سی یو منتقل کیا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لتا منگیشکر کی وفات پر مختلف سیاسی اور فلمی شخصیات کی جانب سے اظہار افسوس کیا جا رہا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’میرے غم کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ رحم دل اور خیال رکھنے والی لتا دیدی ہمیں چھوڑ کر جا چکی ہیں۔ انہوں نے ایسا خلا چھوڑا جسے پر کرنا ممکن نہیں۔‘

بھارتی اداکار سنی دیول کا اپنی ٹویٹ میں کہنا تھا کہ ‘لتا جی اب نہیں رہیں۔ یہ خبر مجھے غمزدہ کر رہی ہے۔‘

بھارتی سیاست دانوں اور فلمی ستاروں کے علاوہ بھارتی کرکٹرز اور صحافیوں نے بھی لتا منگیشکر کی وفات پر اظہار افسوس کیا ہے۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا اپنی ٹویٹ میں کہنا تھا کہ ’لتا منگیشکر کا انتقال موسیقی کے ایک عہد کا خاتمہ ہے، لتا جی نے عشروں تک سر کی دنیا پر حکومت کی اور ان کی آواز کا جادو رہتی دنیا تک رہے گا۔‘

سابق بھارتی کرکٹر وریندر سہواگ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’بلبل ہندوستاں، جن کی آواز نے لاکھوں لوگوں کو خوشی اور فرحت بخشی چل بسیں۔ ان کے خاندان سے دلی تعزیت۔‘

اس خبر میں مزید تفصیل شامل کی جا رہی ہے

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی