موٹر سائیکل پر تھر کی خواتین کو تعلیم دیتی دو بہنوں کی کہانی

عروج کہتی ہیں کہ موٹر سائیکل سیکھنے کا عمل تو آسان ہے لیکن بھرے بازار میں مردوں کی نظروں اور کسی جانے والی آوازیں سننا نہایت مشکل ہے۔

اگر کچھ کرنے کی لگن ہو تو کوئی کام ناممکن نہیں ہے اور یہ ثابت کیا ہے صحرائے تھر کے پسماندہ علاقے کی ایک نوجوان لڑکی عروج فاطمہ نے جو لڑکیوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے مشن پر گامزن ہیں۔

صحرائے تھر، جہاں خلق خدا آج بھی بنیادی ضروریات کے مسائل کے حل کے لیے مصروف ہے وہیں تھر کے ٹیلوں میں بسنے والے بچے بچیوں کے لیے معیاری تعلیم کی دستیابی ایک دیرینہ خواب ہے۔

اسی خواب کی تکمیل کے لیے عروج فاطمہ اور ان کی بہن خانزادی مٹھی کے دور دراز علاقوں اور دیہاتوں میں موٹر سائیکل پر سفر کرتی ہیں۔

کم عمری کے باوجود دونوں بہنیں چیمپیئن فار چینج نامی مشن پر تھری خواتین میں تعلیم کے حصول اور فروغ کے لیے عملی کام کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

عروج فاطمہ کا کہنا ہے کہ ’صحرائے تھر کے دیہی علاقوں سے وابستہ خواتین کو بھی اگر تعلیم اور مواقع ملیں تو وہ معاشرے میں دیگر خواتین کی اصلاح فلاح و بہبود کے لیے ناقابل فراموش کردار ادا کر سکتی ہیں۔‘

صحرائے تھر میں خواتین کے پردے اور گھونگھٹ میں رہنے کے رائج رواج کے برعکس موٹر سائیکل پر آمدو رفت عروج فاطمہ اور ان کی بہن کے لیے آسان عمل نہ تھا۔

عروج فاطمہ بتاتی ہیں کہ ’موٹر سائیکل سیکھنے کا عمل تو آسان ہے لیکن بھرے بازار میں مردوں کی نظروں اور کسی جانے والی آوازیں سننا نہایت مشکل ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عروج فاطمہ اور ان کی بہن جیسی باہمت خواتین کی وجہ سے ہی ماضی کے مقابلے میں آج خواتین تقریباً ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں، سکول کالج ہو یا سائنس و ٹیکنالوجی، خواتین اپنا کردار بخوبی نبھا رہی ہیں۔

عروج نے مزید بتایا کے ہمارے پاس ٹیکنالوجی تو بہت ہے لیکن اُس کا ستعمال صحیح سے نہیں کیا جاتا جیسے کہ موٹرسائیکل ہماری زندگی کے لیے بہت اہم ہے تو وہیں تعلیم کو گھر گھر پہنچانا بھی انتہائی ضروری ہے۔

’ہم صحرائے تھر کے رہائشی ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے ہونے پر افسوس ضرور کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہمیں امید ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس چیلنج پر سبقت پالیں گی۔‘

عروج کہتی ہیں: ’سندھ کی زمین سونا ہے۔ ہمارے پاس پُرجوش جوان ہیں اور ہمیں انہیں پڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنی یوتھ کو تعلیم نہیں دیں گے تو ہماری قوم کا مستقبل تاریک ہی رہے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین