امریکہ، فرانس اور جرمنی کا روسی اقدام پر ’جواب‘ دینے کا فیصلہ

امریکی، فرانسیسی اور جرمن رہنماؤں نے روسی صدر ولادی پوتن کے مشرقی یوکرین میں دو خود ساختہ جمہوری ریاستوں کی آزادی کو تسلیم کرنے کے فیصلےکی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’اس اقدام کا جواب دیا جائے گا۔‘

مغربی طاقتوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن کی جانب سے مشرقی یوکرین میں دو خود ساختہ جمہوری ریاستوں کی آزادی کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر فوری رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ماسکو کی مذمت کی ہے اور ماسکو کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن، فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون اور جرمن چانسلر اولاف شولز نے روسی صدر پوتن کے اس اقدام کو منسک امن معاہدوں کی ’واضح خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔

جرمن چانسلر نے ایک بیان میں کہا کہ ’فرانسیسی صدر میکرون، جرمن چانسلر اولاف شولز اور امریکی صدر جو بائیڈن نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس اقدام کا جواب دیا جائے گا۔‘ 

امریکہ کا کہنا ہے کہ پوتن ’جنگ کا بہانہ‘ بنا رہے ہیں- امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے پوتن کے اس دعوے پر طنز کرتے ہوئے کیا کہ روسی فوجی ’امن قائم کرنے‘ کا کردار ادا کریں گے۔ 

امریکی ایلچی نے کہا کہ ’یہ بکواس ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ واقعی کیا ہیں۔‘

اس سے قبل روس کے صدر ولادی میر پوتن نے ٹیلی وژن پر اپنے خطاب کے دوران یورپ اور امریکہ کی امیدوں کے خلاف یوکرین سے علیحدہ ہونے والی مشرقی ریاستوں دونیتسک اور لوہانسک کی آزادی اور خود مختاری کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اے ایف پی کے مطابق اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے روسی صدر پوتن کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ ضروری ہے کہ عوامی جمہوریہ دونیتسک اور عوامی جمہوریہ لوہانسک کی آزادی اور خود مختاری کو تسلیم کرنے کا دیرینہ فیصلہ کیا جائے۔‘

روسی صدر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’میں روسی فیڈریشن کی اسمبلی سے کہتا ہوں کہ اس فیصلے کی حمایت کریں اور پھر دونوں ریاستوں سے دوستی اور مشترکہ تعاون کے معاہدے کی بھی توثیق کریں۔‘

مشرقی یوکرین کی خود مختار ریاستوں سے روس کے معاہدے کی اساسیت تو فی الوقت میسر نہیں لیکن صدر پوتن نے اپنے خطاب میں زور دے کر کہا تھا کہ ’یہ دونوں دستاویزات جتنا جلد ممکن ہو تیار کر کے دستخط کیے جائیں گے۔‘

روسی صدر نے دونیتسک اور لوہانسک کو آزاد ریاستیں تسلیم کرنے کے بعد روسی فوج کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ ان خطوں میں جائیں اور وہاں امن کے قیام کے لیے اقدامات کریں۔

 روس کے اس اقدام پر مغربی ممالک نے ابتدائی طور پر سخت رد عمل دیا ہے۔

اے ایف پی کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن ایک پریس کانفرنس کے دوران کہہ رہے ہیں کہ ’یہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ یوکرین کی خود مختاری اور سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘

اسی طرح امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے روسی صدر پوتن کے اس اقدام پر اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’اس کا جلد اور مضبوط جواب دیا جائے گا۔‘

نیٹو کے سربراہ جینز سٹولٹن برگ نے روسی صدر پوتن کے اس قدم کو ’منسک معاہدے کی خلاف ورزی‘ اور ’یوکرین تنازع کو مزید بڑھاوا دینے کے مترادف‘ قرار دیا ہے۔

تاہم روسی صدر پوتن کسی بھی قسم کے ممکنہ جنگی تنازع اور اس کے بعد ہونے والے نقصان کی ذمہ داری مغربی یوکرین کی حکومت پر ڈالنا چاہتے ہیں۔

اپنے خطاب میں انہوں نے واضح کر دیا کہ ’جہاں تک کیئف میں مقتدر لوگوں کا تعلق ہے تو ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوراً فوجی کارروائی ختم کر دیں ورنہ ممکنہ خون ریزی کی تمام تر ذمہ داری یوکرین میں موجود حکومت پر عائد ہو گی۔‘

روسی صدر ولادی میر پوتن نے مغرب کی جانب سے پابندیوں کی پرواہ کیے بغیر روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسند ریاستوں میں اپنی فوجیں اتار دی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹ کے مطابق دو علیحدہ احکامات میں روسی صدر پوتن نے وزارت دفاع کو تاکید کی ہے کہ دونیتسک اور لوہانسک میں امن و امان بحال رکھیں اور وزارت خارجہ کو دونوں ریاستوں سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے اپنے 65 منٹ کے خطاب میں مغربی یوکرین میں موجود حکومت کو کئی مرتبہ ایک ناکام ریاست اور مغرب کی کٹھ پتلی کہہ کر مخاطب کیا۔

یورپی یونین کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’جو بھی اس غیر قانونی کام میں ملوث ہے اس پر پابندی عائد کی جائے گی۔‘

اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں اور جرمن چانسلر نے ایک دوسرے سے فون پر بات کرنے کے بعد واضح کیا ہے کہ ’ماسکو کے اس اقدام کا جواب دیا جائے گا۔‘

امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرینی صدر ولادی میر زیلینسکی سے وعدہ کیا ہے کہ واشنگٹن یوکرین کی جغرافیائی سالمیت کا حامی تھا اور اس کا دفاع کرتا رہے گا۔

اے ایف پی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ روس کے اس نئے اقدام کی وجہ سے یوکرین تنازع پر پہلے سے ہی سست روی کا شکار امن عمل رک گیا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کے نام ایک خط ملا ہے، جس کے مطابق امریکہ نے اقوام متحدہ کو مطلع کیا ہے کہ اس کے پاس قابل اعتماد معلومات ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو ’فوجی قبضے کے بعد مارے جانے یا کیمپوں میں بھیجے جانے والے یوکرین کے شہریوں کی فہرستیں مرتب کر رہا ہے۔‘

خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ ماسکو کی حملے کے بعد کی منصوبہ بندی میں تشدد، جبری گمشدگی اور ’بڑے پیمانے پر انسانی تکالیف‘ شامل ہوں گی۔ 

پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے مذکورہ خط میں کیے گئے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا: ’کیا آپ کو احساس ہے کہ یہ سراسر جھوٹ ہے؟ یہ مطلق افسانہ ہے۔ ایسی کوئی فہرست نہیں ہے۔ یہ ایک جعلی ہے۔‘

دورہ روس کی دعوت یوکرین تنازع سے پہلے دی گئی: عمران خان

ادھر وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ دورہ روس کی دعوت یوکرین تنازع سے پہلے دی گئی جبکہ پاکستان کسی کیمپ کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا۔ 

مقامی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نے دورہ روس کی تیاریوں سےمتعلق اجلاس  میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس دورے کا مقصد باہمی مفادات بالخصوص معیشت پر ماسکو سے روابط بڑھانا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ دورہ عالمی طاقتوں کے ساتھ باہمی مفادات پر مبنی تعلقات قائم کرنے کی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا عکاس ہے، پاکستان اور روس روابط میں بے پناہ معاشی امکانات ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا