’نقصان عام شہریوں کا ہو رہا ہے‘: مشرقی یوکرین میں شیلنگ میں اضافہ

مشرقی یوکرین میں شیلنگ اور گولہ باری کے حوالے سے یوکرینی فوج اور علیحدگی پسند فورسز کے الزامات جاری ہیں، وہیں مغربی رہنما روس کی طرف سے ’فالس فلیگ‘ آپریشن کے حوالے سے فکرمند ہیں۔

19 فروری 2022 کی اس تصویر میں نوولوہانسکے گاؤں میں گولہ باری کے دوران یوکرین کے فوجی ایک پناہ گاہ میں چھپے ہوئے ہیں (تصویر: اے پی)

گولہ باری سہ پہر تین بجکر 40 منٹ پر شروع ہوئی اور یکے بعد دیگرے مارٹرز سے چھوٹے سرحدی شہر نوولوہانسے کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک فوجی شدید زخمی ہوا جبکہ صبح کے وقت دو فوجی ہلاک ہوگئے۔ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جس نے پچھلے تین دنوں میں مستقل شیلنگ کا سامنا کیا ہے۔

حملوں میں اس وقت اضافہ ہوا جب ڈونیٹسک اور لوہنسک کی ’عوامی جمہوریہ‘کی علیحدگی پسند قیادت بار بار دعوے کر رہی ہے کہ یوکرینی حکومت مغرب کی حمایت سے جارحیت شروع کرنے والی ہے۔

 یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ علیحدہ ہوجانے والے علاقوں میں بمباری ہوئی ہے اور حکام نے مبینہ طور پر بڑھتے ہوئے خطرے کی وجہ سے آبادی کو روس منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ، برطانیہ اور ان کے مغربی اتحادیوں کے مطابق یہ اقدام ایک’جھوٹے آپریشن‘ کا حصہ ہیں، جس میں ولادی میر پوتن کے لیے اس وقت یوکرین پر حملہ کرنے کا جواز بنایا گیا ہے، جب انہوں نے یوکرینی سرحد پر ایک لاکھ 30 ہزار سے ایک لاکھ 50 ہزار کے درمیان فوج جمع کرلی ہے۔

امریکہ کے صدر جوبائیڈن کے مطابق انہیں یقین ہے کہ ولادی میر پوتن فوجی کارروائی کا حکم دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ ’تمام علامات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ روس یوکرین پر مکمل حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔‘

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے دعویٰ کیا کہ ’روس 1945 کے بعد یورپ میں سب سے بڑی جنگ کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔‘

’لائن آف کنٹرول‘ کے ساتھ منسلک نوولوہانسکے پر اس وقت حملہ کیا گیا جب  یوکرین کے وزیر داخلہ ڈینیس مونسٹیرسکی نے صحافیوں کے ایک گروپ کو فرنٹ لائن کا دورہ کروایا، تاکہ وہ ’ماسکو کی جانب سے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزیاں‘ دکھا سکیں۔

جیسے ہی فائرنگ شروع ہوئی تو وزیر، جنہوں نے جنگی لباس پہن رکھا تھا، فوجی اہلکار اور صحافی حفاظتی مقام کی طرف بھاگے۔ اس فائرنگ سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔

اس کے بعد  یوکرینی وزیر داخلہ مونسٹیرسکی نے کہا کہ ’جو کچھ ہوا وہ اس بات کی ایک مثال ہے کہ یہاں کے آس پاس کے لوگوں کو ہر روز کیا سہنا پڑتا ہے۔ روسی جھوٹی کہانیاں گھڑ رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس طرح کی شیلنگ بھی کر رہے ہیں۔‘

مونسٹیرسکی اس بات پر ’حیران‘ تھے کہ روس اُس وقت حملہ کردے گا جب اسے یقین تھا کہ بین الاقوامی میڈیا قصبے میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا: ’اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بے شرم ہیں اور انہیں بین الاقوامی رائے کی کوئی پروا نہیں۔‘

ایک نوجوان افسر وزیر داخلہ کی حیرانی پر حیران رہ گئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’روس میں اپنے ہی صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے تو پھر وہ غیر ملکی صحافیوں کی کیوں فکر کریں؟‘

 یوکرین میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کے متعلق پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ’روسیوں یا ان کے ایجنٹوں نے انہیں قتل کیا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’لیکن یہاں کچھ برے لوگ بھی ہیں اور انہیں روسی بھی استعمال کر سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم پریشان ہیں کہ یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے، یہ ایک بہت خطرناک وقت ہے۔‘

ہفتے کے روز ہلاک ہونے والے دو فوجیوں میں تین بیٹیوں کے والد 35 سالہ اینٹن سیدوروف اور ایک نوجوان بیٹے کے والد 34 سالہ ڈینس کونونینکو شامل ہیں۔ یوکرینی فوج نے کہا کہ یہ دونوں ہلاکتیں ہوویٹزر اور مارٹر فائر سے ہوئی ہیں۔

کیپٹن سیدوروف ٹیلی ویژن پر روسی زبان میں جنگ کے غم کے بارے میں ’برادرز اِن آرمز‘ نامی گیت ترتیب دینے اور گانے کے بعد عوام میں مقبول ہوئے تھے۔ ان کے کمانڈنگ آفیسر بریگیڈیئر جنرل میخائل ڈراپتی جو علاقے میں مشترکہ افواج کی کارروائیوں کے نائب سربراہ ہیں، نے ’بلا اشتعال جارحیت‘ کی مذمت کی، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل ڈراپتی نے کہا کہ 2014 میں علیحدگی پسند جنگ کے بعد سے وہ اپنے ’درجنوں‘ ساتھیوں کو کھو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب آپ کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ آپ کے ساتھی فوجی کبھی زخمی ہو جائیں گے یا جنگ میں مر جائیں گے، لیکن پھر آپ انسانیت کی سطح پر اینٹن سیدوروف جیسے کسی شخص کے بارے میں سوچتے ہیں،  جو جنگ بندی میں مارے جاتے ہیں، جن کی بیوی اور چھوٹے بچے ہیں، تو  پھر آپ غمگین اور تھوڑا غصہ محسوس کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بریگیڈیئر جنرل ڈراپتی نے کہا کہ اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ روس کی جنگ جوئی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا: ’وہ اپنے لوگوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں اور انہیں روس جانے کے لیے اپنے گھروں سے باہر نکلنے کے لیے کہہ رہے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا: ’آپ کو سرحد کے اس طرف ایک بڑی فوج حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کرتی نظر آتی ہے؟ نہیں، یہ روس ہے، ہم روس سے لڑ رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ روس حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ‘

یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی کی جماعت سرونٹ آف دی پیپل کے رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ ارخامیا جنہوں نے اتوار کے روز مزید جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا، روسی حملے یا یہاں تک کہ دراندازی کے امکان کے خلاف بحث کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ماسکو کی نفسیاتی جنگ سمیت غیر متناسب ہے۔

 ارخامیا نے روسی پراپیگنڈے سے موازنہ کرتے ہوئے غیرملکی تنظیموں بشمول بعض ذرائع ابلاغ کو تنازعہ کی وارننگ کے بارے میں’کھلم کھلا جعلی خبریں‘ پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

فرنٹ لائن کے دورے کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ اب’50 فیصد‘ زیادہ قائل ہیں کہ صورتحال بہت سنگین ہے، تاہم وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ ان کا خاندان ابخازیا سے تعلق رکھتا ہے جو روسی مداخلت کے بعد جارجیا سے الگ ہو گیا تھا اور وہ جانتے تھے کہ ’یہ چیزیں کیسے چلتی ہیں۔‘

رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ان کی اہلیہ اور بچے کیف میں تھے اور وہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت پر حملہ نہیں ہوگا۔

ہفتے کو جو کچھ ہوا وہ نوولوہانسکے کے رہائشیوں کے لیے روز کا ایک معمول بن گیا ہے۔تین بچوں کی والدہ 46 سالہ ٹیٹیانا اومیلخینکو نے کہا: ’یہ تشہیر صرف اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ یہ سیاست دان اور غیر ملکی صحافی یہاں موجود ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہم آٹھ سال سے تشدد دیکھ رہے ہیں، یہ کم ہوا اور اب یہ بدتر ہوگیا ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ روسی اور تمام غیر ملکی رہنما ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہے ہیں، لیکن یہ عام شہری ہیں، جن کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ڈونیٹسک میں ہمارے رشتہ دار ہیں جو فرار ہو چکے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ جنگ ہوگی اور اب یہاں کے لوگ بھی خوفزدہ ہو رہے ہیں۔ ہم نے سوچا تھا کہ کچھ غیرملکی لوگ ہیں، جو لڑائی روکنا چاہتے ہیں، ان کا کیا ہوا؟‘

یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھنے والوں نے ہفتے کو جنگ بندی کی 1500 سے زائد خلاف ورزیوں کی اطلاع دی جو اس سال میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

یوکرینی مشترکہ افواج کی کمان نے بتایا کہ اتوار کو دوپہر تک زخمی فوجیوں کی تعداد پانچ تھی، جبکہ یوکرین کے زیر انتظام 10 دیہات اور قصبوں پر توپوں سے حملے کیے گئے ہیں۔ شدید گولہ باری کی وجہ سے ڈنباس کے علاقے میں سات چیک پوسٹوں میں سے ایک پر آپریشن معطل ہوگیا۔

دوسری جانب لوہنسک میں’عوامی جمہوریہ‘ سے تعلق رکھنے والے علیحدگی پسندوں نے کہا کہ یوکرینی حملے کے نتیجے میں پیونرسکوئے گاؤں کے قریب دو شہری ہلاک ہوگئے۔

امریکہ اور برطانیہ نے بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کا الزام روسیوں پر لگایا ہے، تاہم دونوں ممالک نے مانیٹرنگ مشن سے اپنے عملے کو نکال لیا ہے، اپنے سفارت خانے مغربی یوکرین کے علاقے لویو منتقل کر دیئے ہیں اور اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اس ملک کو چھوڑ دیں۔

لوہنسک حملے کے بعد، یوکرین کی نائب وزیراعظم برائے عارضی مقبوضہ علاقہ جات کا دوبارہ انضمام، ایرینا ویریسچک سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ اور برطانیہ کو اپنا عملہ او ایس سی ای کے ساتھ نہیں رکھنا چاہیے تھا؟

انہوں نے کہا: ’جی ہاں، ہم چاہیں گے کہ ہمارے بین الاقوامی شراکت دار ہمارے ساتھ رہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ روسی کس طرح اس کو توڑ رہے ہیں جس پر انہوں نے اتفاق کیا تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نارمنڈی فارمیٹ (یوکرین تنازعہ کے لیے قائم کردہ ایک بین الاقوامی رابطہ گروپ) میں اپنے تمام شراکت داروں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ روسی اقدامات کا جائزہ لے۔ ہمیں بہت مشکل وقت کا سامنا ہے اور ہمیں اپنے دوستوں کی ضرورت ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا