امتحان کے نتائج میں دھاندلی ختم: خواتین مردوں سے کامیاب

گذشتہ سال جاپان میں مرد امیدواروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے نتائج میں دھاندلی کے انکشاف کے بعد ، ایک نجی میڈیکل یونیورسٹی نے روایت توڑ کر مختلف نتائج پائے۔

گذشتہ برس جاپان کے کئی میڈیکل سکولز انٹری ٹیسٹ کے نتائج میں دھاندلی کرنے میں ملوث پائے گئے تھے جس میں ان اداروں نے خواتین اور دوبارہ کوشش کرنے والے امیدواروں کے مقابلے میں مرد امیدواروں کو فوقیت دی تھی (روئٹرز)

جاپان کی ایک میڈیکل یونیورسٹی میں داخلے کے لیے امتحانات میں خواتین نے مرد امیدواروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ وہی تعلیمی ادارہ ہے جس نے اس سے قبل یہ تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے مرد امیدواروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے نتائج میں دھاندلی کی تھی۔

ٹوکیو میں واقع جونٹینڈو یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ رواں سال امتحانات میں بیٹھنے والی 1679 خواتین میں سے 8.28 فیصد کامیاب ہوئیں، جبکہ اس کے برعکس 2002 مرد امیدواروں میں سے 7.72 فیصد کامیاب ہوئے۔

جاپانی اخبار ’اساہی شمبن‘ کی رپورٹ کے مطابق اس پرائیویٹ میڈیکل یونیورسٹی میں سات برسوں کے دوران یہ پہلی بار ہوا ہے کہ خواتین امیدواروں میں کامیابی کی شرح مرد امیدواروں سے زیادہ رہی ہے۔

یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا : ’یہ نتائج خواتین امیدواروں اور دوبارہ کوشش کرنے والے امیدواروں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو روکنے کے عزم کا نتیجہ ہے۔‘

گذشتہ برس جاپان کے کئی میڈیکل سکولز انٹری ٹیسٹ کے نتائج میں دھاندلی کرنے میں ملوث پائے گئے تھے جس میں ان اداروں نے خواتین اور دوبارہ کوشش کرنے والے امیدواروں کے مقابلے میں مرد امیدواروں کو فوقیت دی تھی۔

گذشتہ برس دسمبر میں جونٹینڈو یونیورسٹی کے ڈین نے امتحانی نظام میں دھاندلی کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو جائز قرار دینے کی کوشش کی تھی۔

 انہوں نے کہا تھا کہ ’ذہنی طور پر خواتین مردوں کے مقابلے میں جلد بلوغت کو پہنچ جاتی ہیں اور ان میں رابطے کی صلاحیت بھی مردوں سے بہتر ہوتی ہے۔ اس لیے اس [دھاندلی] کا مقصد مرد امیدواروں کی مدد کرنا تھا۔‘

تاہم اب یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ اس بار امتحانات میں غیرمنصفانہ عمل کو روکنے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں جن میں امیدواروں کا انٹرویو کرنے والی ٹیم میں خواتین ٹیچرز کو شامل کیا گیا ہے۔

گذشتہ برس جاپانی اخبار ’یومی اُری شمبن‘ کی ایک رپورٹ میں اس دھاندلی کے انکشاف کے بعد پورے ملک میں غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کی ٹوکیو میڈیکل یونیورسٹی ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے نتائج میں رد و بدل کر رہی تھی۔

گذشتہ اگست میں اس سکینڈل کی تحقیق کرنے والے قانون دانوں کے پینل نے اس امتیازی سلوک کو انتہائی سنگین مسٔلہ قرار دیا تھا۔

وکیل کینجی نکائی نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ [امتیازی] سلوک حقیقت افسوسناک ہے۔‘

’جعلی بھرتی کے طریقہ کار سے انہوں نے امتحان لینے والوں، ان کے خاندانوں، ادارے کے حکام اورمعاشرے کو دھوکہ دہی کی ترغیب دینے کی کوشش کی۔‘

پچھلے سال جونٹینڈو یونیورسٹی میں داخلے کے لیے مرد امیدواروں میں کامیابی کی شرح خواتین امیدواروں کے مقابلے میں 1.93 گنا زیادہ تھی تاہم رواں برس خواتین کی کامیابی کی شرح مرد امیدواروں کے مقابلے میں 1.07 گنا زیادہ ہے۔

جاپان میں صنفی امتیازی سلوک سالوں سے ایک قابلِ بحث مسئلہ رہا ہے۔

2016 میں جاپان میں خواتین ڈاکٹروں کی شرح صرف 21.1 فیصد تھی جو او ای سی ڈی ممالک میں سب سے کم شرح ہے۔

اس مہینے کے آغاز میں جاپان کے صحت اور لیبر کے وزیر کے بیان نے نیا تنازع پیدا کر دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملازمت پیشہ خواتین کے لیے کام کے دوران اونچی ہیلز پہننا ’معاشرتی طور پر قابل قبول اور پیشہ ورانہ طور پر ضروری ہے۔‘ 

وزیر کا بیان ایک حالیہ مہم کے بعد آیا تھا جس میں اونچی ہیلز پہننے کی روایت کو چیلنج کرنے کے لیے ایک پیٹیشن پر جاپان میں 19 ہزار سے زائد افراد نے دستخط کیے تھے۔

اس مہم کو جنسی ہراسانی کے لیے استعمال ہونے والے ’می ٹو‘ ہیش ٹیگ کی طرح ’کو ٹو‘ ہیش ٹیگ کے ساتھ شروع کیا گیا تھا جو جاپانی لفظ ’کٹسو‘ پر پبنی ہے  جس کا مطلب جوتے اور تکلیف ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین