سرحدی کشیدگی: ’بھارت چین تعلقات معمول پر نہیں آسکتے‘

بھارت کے وزیرخارجہ ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ دہلی اور بیجنگ کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مزید کام کی ضرورت ہے۔

جمعہ کو چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ تین گھنٹے طویل ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں جے شنکر نے کہا کہ انہوں نے ہمالیہ کے خطے میں تقریباً دو سال سے جاری سرحدی کشیدگی کے متعلق بھارتی معاملات پر وانگ یی کے ساتھ ’بہت سچائی‘ کے ساتھ تبادلہ خیال کیا (تصویر: جے شنکر ٹوئٹر)

بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ چین کے ساتھ ان کے ملک کے تعلقات معمول پر نہیں آسکتے کیونکہ متنازعہ سرحدی علاقے کی وجہ سے دو طرفہ تعلقات ’خرابی‘ کا شکار ہیں۔

جمعہ کو چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ تین گھنٹے طویل ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں جے شنکر نے کہا کہ انہوں نے ہمالیہ کے خطے میں تقریباً دو سال سے جاری سرحدی کشیدگی کے متعلق بھارتی معاملات پر وانگ یی کے ساتھ ’بہت سچائی‘ کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔

ڈاکٹر جے شنکر نے کانفرنس میں کہا: ’اپریل 2020 سے چین کی فوجی تعیناتیوں سے پیدا ہونے والی کشمکش، کشیدگی کی وجہ سے دو ہمسایوں کے درمیان معمول کے تعلقات نہیں ہوسکتے۔ دورے پر آئے چینی وزیر خارجہ اس پریس کانفرنس میں شامل نہیں ہوئے۔

دونوں ایشیائی طاقتوں نے جون2020 میں شمالی ہمالیہ کے علاقے لداخ میں متعدد مقامات پر ہتھیار اور فوجی اکٹھے کیے تھے۔

یہ کشیدگی پرتشدد جھڑپوں کے سلسلے میں تبدیل ہوچکی ہے۔

50 برسوں میں ان دونوں ممالک کے درمیان دشمنی میں بدترین اضافے سے  وادی گالوان میں ایک خونریز تصادم ہوا جس میں 20 بھارتی اور چار چینی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

وانگ یی بھارت کے روایتی حریف پاکستان اور افغانستان کا دورہ کرنے کے بعد جمعرات کی شام نئی دہلی پہنچے تھے۔ ان کا جنوبی ایشیا کا تین روزہ دورہ نیپال میں اختتام پذیر ہوگا۔

بھارت کے وزیرخارجہ ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ دہلی اور بیجنگ کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مزید کام کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا:’اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ کیا آج ہمارے تعلقات معمول پر  ہیں تو میرا جواب ہے نہیں، یہ معمول پر نہیں ہیں۔ آج ہماری کوشش یہ ہے کہ اس مسئلے کو مکمل طور پر حل کیا جائے۔‘

وزیر خارجہ کی جانب سے سرحد پر کشیدہ صورتحال کا اعتراف اس وقت سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام ہے کہ وہ اس کشیدگی کو براہ راست حل کرنے میں ناکام اور اپنے عوامی بیانات میں چینی جارحیت کو کم اہمیت دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا:’ آج ہماری بات چیت یہ رہی کہ اسے  کس طرح آگے بڑھایا جائے۔ جب تک سرحدی علاقوں میں بھاری افواج تعینات ہیں، صاف ظاہر ہے سرحدی علاقے کی صورتحال معمول پر نہیں ہے۔ ہمیں وہاں ایک ایسی صورتحال کا سامنا ہے جو معمولی نہیں ہے۔ سٹیٹس کو کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوششیں نہیں ہونی چاہئیں۔‘

چین کے وزیرخارجہ وانگ یی نے ایک بیان میں بھارت اور چین پر زور دیا کہ وہ دنیا کو سنانے اور اختلاف کو حل کرنے کے لیے ہم آواز ہو کر بات کریں۔

ان کا دورہ خفیہ رکھا گیا تھا کیونکہ بھارت کے وزارت خارجہ نے اس کا اعلان نہیں کیا تھا جیسا کہ عام طور پروٹوکول ہے۔

بھارت کے وزیرخارجہ نے کہا کہ:’کسی بھی وجہ سے چینی نہیں چاہتے تھے کہ اس دورے کا اعلان پہلے کیا جائے۔ چونکہ ہمارے درمیان باہمی افہام و تفہیم نہیں تھی اس لیے اس کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔‘

دونوں فریقوں نے یوکرین پر روس کے حملے سے نمٹنے کے لیے اپنے اپنے نقطہ نظر پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ:’ہم دونوں نے فوری جنگ بندی کی اہمیت کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کے دوبارہ آغاز پر بھی اتفاق کیا۔

چین اور بھارت دونوں روس کو اتحادی سمجھتے ہیں اور انہوں نے روس کے حملے کی مذمت کے لیے مغربی دباؤ کو مسترد کر دیا ہے۔ اس دباؤ میں اقوام متحدہ کی وہ قراردادیں بھی شامل ہیں جن میں ولادی میر پوتن سے یوکرین سے فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا