انصاف کے ترازو اور ہماری قسمت

ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ دنیاوی معاملات میں مارنے والا بچانے والے سے زیادہ طاقت ور ہے۔

قانون کو ظاہری وضع قطع، کھوکھلی فصاحت اور بے عمل دانش مندی تک محدود کر کے وقتی جبر کے سامنے سر نگوں کرنے والے یہ نظام بظاہر انصاف مہیا کرنے پر ڈٹے ہوئے ہیں (پکسابے)

پچھلے ہفتے سے عدالتوں کے کارنامے موضوع سیاسی بحث ہیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جانب سے صرف عدلیہ کو اچھی خبروں کا مخرج قرار دیے جانے کے بعد اس بیان کے سیاق و سباق، پس منظر اور آنے والے حالات پر اس کے ممکنہ اثرات ایک مباحثے میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ بظاہر چیف جسٹس کھوسہ کا بیان بس ایک بیان تھا جو دے دیا گیا اور بس۔ اس کے تِلوں میں سے خواہ مخواہ کا تیل نکالنے کی نہ تو کوئی وجہ ہے اور نہ مقصد۔ مگر چونکہ عدالتیں اور ان کے چلانے والے تاریخی طور پر بہت کم سادہ اور غیر متنازع زندگیاں بسر کرتے دیکھے گئے ہیں، لہذا چہ مگوئیاں رکنے کا نام نہیں لے رہیں۔

ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ دنیاوی معاملات میں مارنے والا بچانے والے سے زیادہ طاقت ور ہے۔ تختہ دار پر لٹکانے والا تاریخ کے اوراق کی ہر اس سطر میں بطور حوالہ موجود ہے۔ جس میں بڑے تاریخی المیوں کا ذکر ہوتا ہے۔ انصاف کے ایوانوں میں لٹکے ہوئے ترازوں طاقت کے بھاؤ کے مطابق ڈھلے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ با ضمیر منصفین کے ناموں کی فہرست بھی طویل ہے لیکن اپنے پیشے اور عہدے سے بے وفائی کرنے والے ان سے کئی بڑی تعداد میں دستاویزات کا حصہ ہیں۔ ایک بڑے قانون دان نے کہا تھا کہ مقدمے کی کارروائی دراصل وہ تحریر ہے جو ججوں کے ضمیر اور اخلاقی وزن کو قانون کی زبان میں بیان کرتی ہے۔ یہ بالکل درست ہے۔ عدالتوں کا حال جاننا ہے تو مقدمے اور عدالتی کارروائی کی تفصیل پڑھ لیجیئے۔ آپ کو فرشتے اور مکار کا فرق آسانی سے پتہ چل جائے گا۔

 مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی عدالت میں موت اس حقیقت کو ایک اندوناک انداز سے بیان کرتی ہے۔ وہ کہنے کو مرحوم ہیں لیکن جن حالات میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے ان میں اور کسی مقتول میں تفریق کرنا مشکل ہے۔ جس پنجرے میں ان کی موت ہوئی اس میں دہری جالیاں اور شیشے کی دیواریں لگائی گئیں تھیں۔ کہنے کو وہ سب کو اور سب ان کو دیکھ سکتے تھے۔ لیکن اصل میں اندر سے ان کو صرف اپنا عکس نظر آتا تھا۔ آنکھوں کو جلا دینے والی روشنیوں میں وہ جب کبھی اندر لگا ہوا مائیک استعمال کرتے تو پتہ چلتا کہ ان کی آواز باہر نہیں پہنچ پا رہی۔ باہر سے دیکھنے والوں کے لیے ان کی بے آواز حرکتیں ایک نیم جنونی سٹیائے ہوئے بڈھے کی سی محسوس ہوتیں۔ جو ہاتھ ہلا ہلا کر نہ جانے کیا کہنے کی کوشش کرتا مگر کہہ نہ پاتا۔

ایک خبر کے مطابق محمد مرسی دل کا دورہ پڑنے کے بعد پندرہ بیس منٹ ہاتھ ہلاتے رہے مگر کسی نے ان پر توجہ نہ دی۔ مصر کے اس پہلے منتخب صدر کو موت اور 45 سال کی سزا سنانے کے بعد دوبارہ سے مقدمے کا جب آغاز ہوا تو اس کے بعد انہوں نے چھ سال تنہائی میں کاٹے۔ اپنے خاندان کو صرف تین مرتبہ جیل میں ملے۔ نہ خوراک وقت پر ملتی تھی اور نہ دوائی۔ اس کے برعکس ان سے پہلے 30 سال حکمرانی کرنے والے ڈکٹیٹرحسنی مبارک، جن پر 11 دنوں میں 900 افراد کو قتل کرنے کا مقدمہ بنا، 91 سال کی عمر میں ابھی بھی خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ موجودہ مصری صدر جو محمد مرسی کے وزیر دفاع تھے اور جنہوں نے منتخب صدر کا تختہ الٹا، ایک خونی مزاحمت کے بعد کرسی پر براجمان ہوئے۔ اس مزاحمت کے صرف ایک دن میں 817 کے قریب لوگ مارے گئے۔ یہ واقعہ 14 اگست 2013 میں رونما ہوا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس وقت مصر کی جیلوں میں 60 ہزار کے قریب سیاسی قیدی موجود ہیں۔ اس تمام عمل میں مصر کی عدالتوں نے ہر موڑ پر ملک کے لیے اچھی خبریں بنائیں۔ ذرائع ابلاغ نے بھی ڈفلیاں بجا بجا کر طاقت میں موجود افراد کی تعریف کی۔ ٹی وی کا ایک نیوز اینکر محمد مرسی کی موت کے بعد ایک اخباری رپورٹ کے مطابق یہ کہتا ہوا سنا گیا کہ جو بھی اس ملک کو تباہ کرنے کی کوشش کرے گا ہم اس کو دفن کر دیں گے۔ اس کا یہ پیغام محمد مرسی کے حمایتیوں کے لیے تھا۔ مرسی کو چند لوگوں کی موجودگی میں خاموشی کے ساتھ سیکیورٹی کے حصار میں ایک قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ یہ بالکل ویسے ہی ہوا جیسے پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کو عدالتی فیصلے کے ذریعے راستے سے ہٹانے کے بعد گہری تاریکی میں درگور کر دیا گیا۔

مصر میں مرسی کا مقدمہ گوانتانامو بے میں بننے والے مقدمات سے کسی طور مختلف نہیں۔ وہاں پر بھی عملاً سزا یافتہ ملزمان پر خود ساختہ مقدمات بنا کر انصاف کی پیچیدہ ضرورتوں کو پورا کیے بغیر سیدھے سادے فیصلے صادر کیے جاتے رہے۔ تمام تر بحث کے باوجود امریکیوں نے انصاف کی اس مقتل گاہ کو کسی نہ کسی قانونی حیثیت میں قبول ضرور کیا۔

قانون کی طاقتور ہاتھوں کے ذریعے درگت ہمیشہ سے ایسے ہی بنتی چلی آ رہی ہے۔ آپ کو برطانوی راج میں آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کا دلی میں مقدمہ تو یاد ہوگا۔ جس میں ہندوستان کے اس اصل وارث کو ”سابق بادشاہ“ کے طور پر کٹہرے میں کھڑا کر کے ذلیل کیا گیا۔ اور پھر سزا سنا کر رنگون میں جلا وطن کر دیا گیا جہاں پر وہ کسمپرسی کی حالت میں اپنی آل اولاد جس کے کٹے ہوئے سر اس کے سامنے رکھے گئے تھے یاد کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگیا۔

بہادر شاہ ظفر کے جنازے میں بھی اتنے ہی لوگ شریک تھے جتنے ذولفقار علی بھٹو اور محمد مرسی کی آخری رسومات میں۔ کہنے کو مصر، دہلی، اسلام آباد اور لاہور میں عدالتیں بھی لگیں تھیں۔ گواہان بھی پیش ہوئے تھے۔ دستاویزات کے انبار اور منصفین کی قانونی ادائیں تمام تر حجم اور آرائش کے ساتھ سب کے سامنے موجود تھیں۔ لیکن انصاف کے ساتھ ساتھ سازش بھی جاری تھی۔ عدالت بھی تھی اور مقتل گاہ بھی۔ منصف بھی وہیں تھے جو جلاد تھے۔

تاریخ کا یہ رخ اپنی تمام تر بد صورتی کے ساتھ ہم جیسے ان ممالک میں ابھی بھی موجود ہے جنہوں نے تاریخ سے نہ سیکھنے کا ایک غیر متزلزل ارادہ کیا ہوا ہے۔ قانون کو ظاہری وضع قطع، کھوکھلی فصاحت اور بے عمل دانش مندی تک محدود کر کے وقتی جبر کے سامنے سر نگوں کرنے والے یہ نظام بظاہر انصاف مہیا کرنے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ مگر حقیقت میں یہ ایک سوانگ ہے جو ہر اہم موڑ پر اپنا ستر کھو دیتا ہے اور پھر شرمندہ ہونے کے بجائے عینی شاہدین کی آنکھیں پھوڑنے پر جُت جاتا ہے۔ حقیقی انصاف کی قدر و منزلت منصف کے اپنے ادا کیے ہوئے الفاظ نہیں بناتے۔ نہ ہی مستعار لی شاعری اور خوب صورت نثر انصاف کی کشش کی بنیاد ہے۔ جن ممالک میں انصاف ہوتا ہے وہاں کے ہر کوچے کی وہ کیفیت نہیں ہوتی جس کا ذکر ہمارے چیف جسٹس نے اپنے اس بیان میں کیا کہ اچھی خبر ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔ جہان انصاف کے ترازو ٹیڑھے ہوں وہاں قسمت کیسے سیدھی ہو سکتی ہے؟

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر