ٹوئٹر کی فروخت: سعودی شہزادے کی ایلون مسک کی پیشکش مسترد

سعودی شہزادے الولید بن طلال، جو ٹوئٹر کے بڑے شیئر ہولڈر بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ ایلون مسک کی جانب سے سوشل میڈیا کمپنی خریدنے کے لیے پیش کی جانے والی 43 ارب ڈالر کی پیشکش مسترد کر دیں گے

اس تصویر میں ایک فون سکرین ایلون مسک کا ٹوئٹر اکاؤنٹ دکھا رہی ہے جس کے پس منظر میں 14 اپریل 2022 کو واشنگٹن ڈی سی میں ایلون مسک کو بھی دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

سعودی شہزادے الولید بن طلال، جو ٹوئٹر کے ایک بڑے شیئر ہولڈر بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ ایلون مسک کی جانب سے سوشل میڈیا کمپنی خریدنے کے لیے پیش کی جانے والی 43 ارب ڈالر کی پیشکش مسترد کر دیں گے۔

الولید بن طلال نے اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی فروخت کے لیے ارب پتی مسک کی پیشکش کو مسترد کر رہے ہیں کیونکہ یہ بہت کم ہے۔

انہوں نے لکھا: ’میرا نہیں خیال کہ ایلون مسک کی مجوزہ پیشکش (54.20 فی حصص) اس (ٹوئٹر) کی ترقی کے امکانات کے پیش نظر حقیقی قدر سے قریب تر ہے۔ ٹوئٹر کے سب سے بڑے اور طویل مدتی شیئر ہولڈرز میں سے ایک ہونے کے ناطے میں اور کنگڈم ہولڈنگ کمپنی اس پیشکش کو مسترد کرتے ہیں۔‘

شہزادہ ولید سعودی عرب میں قائم کنگڈم ہولڈنگ کمپنی (کے ایچ سی) کے مالک ہیں۔ انہوں نے 2015 کی ایک ٹویٹ بھی شیئر کی جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے ٹوئٹر میں اپنا شیئر بڑھا کر 5.7 فیصد کر دیا ہے۔

ایلون مسک، جو 9.2 فیصد حصص کے ساتھ کمپنی کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر ہیں، نے جمعرات کی صبح سویرے ٹوئٹر کو ٹیک اوور کرنے کے لیے اپنی بولی کا اعلان کیا تھا۔

ایلون مسک نے ٹوئٹر بورڈ کے چیئرمین بریٹ ٹیلر کو ایک خط میں کہا کہ ’میں ٹوئٹر کے تمام شیئرز 54.20 ڈالر فی حصص میں خریدنے کی پیشکش کر رہا ہوں جو میرے ٹوئٹر میں سرمایہ کاری شروع کرنے سے ایک دن پہلے کا 54 فیصد پریمیم اور میری سرمایہ کاری کا عوامی طور پر اعلان کرنے سے پہلے دن کے دوران 38 فیصد پریمیم ہے۔‘

بلومبرگ کے مطابق مسک کی ذاتی دولت کی مالیت تقریباً 260 ارب ڈالر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ٹوئٹر کے لیے جو ضروری تبدیلیاں سمجھتے ہیں ان کے تحت اس کو پرائیوٹ ہونا چاہیے۔

مسک نے اپنے خط میں مزید کہا: ’میں نے ٹوئٹر میں سرمایہ کاری کی کیونکہ میں اس کے دنیا بھر میں آزادانہ اظہار رائے کا پلیٹ فارم بننے کی صلاحیت پر یقین رکھتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ آزادی رائے ایک فعال جمہوریت کے لیے ایک سماجی ضرورت ہے۔ ٹوئٹر میں غیر معمولی صلاحیت ہے۔ میں اسے سب کے سامنے لاؤں گا۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر ان کی پیشکش قبول نہیں کی جاتی ہے تو اسے ’شیئر ہولڈر کے طور پر میری پوزیشن پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہوگی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مبینہ طور پر ٹوئٹر کا بورڈ جمعرات کو اس پیشکش پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھا تھا اور کمپنی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اپنے عملے کے ساتھ بھی ہمہ وقت ملاقاتیں کر رہی تھی۔

دریں اثنا وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم خریدنے کے لیے ایلون مسک کی بولی پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔

وائٹ ہاؤس کی پرنسپل ڈپٹی پریس سکریٹری کرائن جین پیئر نے ایئر فورس ون میں موجود نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’یہ ایک نجی سرمایہ کاری کی پیشکش ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا