پنجاب میں وزیر اعلی کا انتخاب، پلڑا کس کا بھاری؟

وفاق میں حکومت کی تبدیلی کے اثرات بھی پنجاب میں پڑسکتے ہیں کیوں کہ منحرف اراکین کو اندازہ ہوگیا ہے کہ شاید ان کے خلاف بھی وفاق کی طرز پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

پنجاب اسمبلی میں نئے وزیراعلی پنجاب کے عہدے کے لیے انتخاب دلچسپ بن گیا ہے۔ 

صوبہ پنجاب میں نئے وزیراعلی کے انتخاب  پر ووٹنگ کا عمل لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر آج یعنی 16 اپریل 2022 کو ہو رہا ہے۔

اس بڑے معرکے کے لیے دونوں طرف سے کامیابی کا دعوی کیا جا رہا ہے۔ فریقین میں متحدہ حزب اختلاف جس کی فی الحال وفاق میں حکومت بن گئی ہے شامل ہے اور اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف بمع اس کی اتحادی جماعتیں شامل ہیں جو فی الحال صوبہ پنجاب میں حکومت میں ہیں۔

لیکن اگر حقائق کا جائزہ لیا جائے تو پی ٹی آئی کے امیدوارچوہدری پرویز الہی اور مسلم لیگ ن کے امیدوار حمزہ شہباز کی جانب سے جوڑ توڑ کے بعد بظاہرن لیگ کے امیدوار کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے۔

اس کی بڑی وجہ پی ٹی آئی کے دو گروپوں ترین اور علیم خان گروپ نے حمزہ شہباز کی باقائدہ حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ سابق صوبائی وزیر اسد کھوکھر جو وزیر اعلی پنجاب کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے، لیگی امیدوار کے کیمپ کا انتخاب کر چکے ہیں۔

لہذا ترجمان مسلم لیگ ن پنجاب عظمی بخاری کے مطابق ان کے امیدوار کو ایوان میں 200 ارکین کی حمایت حاصل ہوچکی ہے۔

دوسری جانب چوہدری پرویز الہی نے دعوی کیا ہے کہ انہیں مسلم لیگ ن کے ناراض 6 اراکین سمیت دیگر کی حمایت حاصل ہے اور وہ با آسانی جیت جائیں گے۔

عدالتی حکم کے مطابق قائد ایوان کے انتخاب میں پریزائیڈنگ افسر کے فرائض ڈپٹی سپیکر پنجب اسمبلی دوست مزاری انجام دیں گے۔

تاہم یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ گورنر پنجاب عمر چیمہ اور عبوری وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے لہذا وہ انتخابی عمل کو متاثر کرنے کے لیے کوئی بھی قانونی اختیار استعمال کرسکتے ہیں کیوں کہ اس سے قبل بھی پنجاب اسمبلی کا اجلاس 3، 6 اور اس کے بعد 16 اپریل تک ملتوی کیا جاچکا ہے۔

سپیکر چوہدری پرویز الہی نے اپنی ہی حامی جماعت پی ٹی آئی کے ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کو چھ اپریل کا اجلاس ملتوی کرنے کی بجاہے بلانے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے پر ان کے اختیارات ختم کر دیے تھے۔

معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس امیر بھٹی کے سامنے گیا تو عدالت کی مداخلت پر ڈپٹی سپیکر کے اختیارات بحال کیے گئے اور حتمی طور پر 16 اپریل کو انتخاب کرانے کا حکم دیا گیا۔

سپیکر کی جانب سے ڈپٹی سپیکر کےاختیارات کی بحالی بھی انٹرا کورٹ اپیل کے ذریعے چیلنج کر دی گئی ہے۔

جیت کے لیے نمبر گیم؟

پنجاب اسمبلی کا ایوان 371 اراکین پر مشتمل ہے جبکہ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی امیدوار کو سادہ اکثریت سے کامیابی کے لیے 186 اراکین کی حمایت حاصل ہونا ضروری ہے۔

 2018 میں پی ٹی آئی کے سردار عثمان بزدار 194 ووٹوں سے وزیراعلی پنجاب منتخب ہوئے تھے۔ مسلم لیگ ق نے اپنے 10 ووٹوں کے ساتھ ان کو حمایت فراہم کی تھی جس کے بدلے میں پارٹی  کے صدر پرویز الہی کو پنجاب اسمبلی کا سپیکر بنا دیا گیا تھا اور دو صوبائی وزارتیں بھی دی گئی تھیں۔

تین آزاد اراکین جگنو محسن، احمد علی اولکھ اور چوہدری نثار میں سے دو نے پی ٹی آئی امیدوار کو ووٹ دیا تھا۔ ایک راہ حق پارٹی کے امیدوار معاویہ اعظم نے حمایت کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پنجاب اسمبلی کے اندر پارٹی پوزیشن یہ ہے کہ حکومتی اتحاد میں تحریک انصاف کے پاس 183 اراکین ہیں، مسلم لیگ ق کے پاس 10 اور راہ حق پارٹی کے پاس ایک رکن ہے۔

دوسری جانب متحدہ حزب اختلاف میں مسلم لیگ ن کے پاس 165 اراکین اور پیپلز پارٹی کے پاس سات ممبران ہیں۔

تین ممبران آزاد ہیں جن میں سے ایک جگنو محسن نے مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے۔

چوہدری نثار نے بطور ایم پی اے کسی جماعت کو ووٹ دینے کا اعلان نہیں کیا ہے۔

اب حکومتی امیدوار چوہدری پرویز الہی کے لیےغیریقینی صورت حال اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی کے اپنے ہی تین گروپ حمزہ شہباز کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔

پہلا گروپ جہانگیر ترین کی قیادت میں بنا جو 20 ممبران کے ساتھ ہونے کا دعوی کرتا ہے اسی طرح دوسرا گروپ آٹھ اراکین کی حمایت کے دعوے کے ساتھ علیم خان کی زیر قیادت بنا جبکہ تیسرا ہم خیال گروپ ہے جس کی قیادت ایم پی اے غضنفر چھینہ کررہے ہیں اور بظاہر ان کے ساتھ چھ اراکین ہیں۔

انہوں نے بھی حمزہ شہباز کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اس طرح متحدہ اپوزیشن مسلم لیگ ن کے اراکین کی تعداد 165 ہے، پیپلز پارٹی کے سات اراکین ہیں متحدہ حزب اختلاف کوموجودہ صورت حال سے قبل 173 اراکین کی حمایت حاصل تھی۔

متحدہ اپوزیشن کی صورت حال بھی اس لیے واضع نہیں کہ مسلم لیگ ن کے پانچ ممبران اسمبلی ناراض ہیں اور قیادت پر عدم اعتماد کرچکے ہیں۔

حکومت کی جانب سے اپنے منحرف اور اپوزیشن کے اراکین سے رابطوں کا دعوی کیا جارہا ہے اگرچہ منظر عام پر کوئی بڑی کامیابی نظر نہیں آئی ہے۔

منحرف اراکین کو فلور کراسنگ کا قانون روک سکتا ہے؟

سینیئر صحافی و تجزیہ کار سلیم بخاری نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کافی دنوں سے حزب اختلاف کے ساتھ اتحاد کا اعلان کرچکے ہیں اور چھ اپریل کو نجی ہوٹل میں ہونے والے علامتی انتخاب میں انہوں نے حمزہ شہباز کو ووٹ دیا تھا۔ جو اپوزیشن امیدوار کو 200 اراکین کی حمایت ملنے کا اعلان ہوا اس کے بعد لگتا نہیں کہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو فلور کراسنگ سے نااہلی کا کوئی خوف ہے۔

دوسری جانب ن لیگ کے چند منحرف اراکین بھی اس اجلاس میں نہیں آئے اور پرویز الہی کی اعلانیہ حمایت کر رہے ہیں تو انہیں بھی ایسا کوئی خوف نہیں۔

سلیم بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وفاق میں حکومت کی تبدیلی کے اثرات بھی پنجاب میں پڑسکتے ہیں کیوں کہ اراکین کو اندازہ ہوگیا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ حمایت کا اعلان کرنے والے حکومتی منحرف اراکین کے خلاف فی الحال کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو اس کا مطلب ان کے خلاف بھی ووٹ دینے سے پہلے کارروائی ممکن نہیں ہے۔‘

ان کے مطابق: ’پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو اپوزیشن جماعتیں ٹکٹیں دینے کی بھی یقین دہانی کرا چکی ہیں لہذا اگر انہیں ڈی سیٹ کیا جاتا ہے تو وہ دوبارہ اپوزیشن جماعتوں کی ٹکٹ پر منتخب ہونے کا یقین بھی رکھتے ہیں۔‘

سلیم بخاری کے بقول پی ٹی آئی اراکین جس طرح اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس بار بارملتوی کرنے کے باوجود بھی چوہدری پرویز الہی اپوزیشن اراکین کے کسی تگڑے گروپ کی حمایت سامنے نہیں لاسکے اس سے لگتا ہے کہ گیم ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اگر انہیں کامیابی کا یقین ہوتا تو وہ کب کا اجلاس بلا کر وزیراعلی منتخب ہوچکے ہوتے۔‘

سلیم بخاری کے مطابق: ’دوسرا یہ کہ انہوں نے اپنی ہی حمایت کرنے والے پی ٹی آئی کے ڈپٹی سپیکر کے اختیارات ختم کردیے جس سے ایک نیا دھڑا بھی شاید اب ان کی حمایت نہ کرے بہر حال صورتحال جو بھی دکھائی دے یہ سیاست ہے اس میں اندرون خانہ کیا چل رہا ہوتا ہے پھر پرویز الہی جیسا تجربہ کار سیاست دان کب کیا گر استعمال کرے انتخابی نتائج تک کچھ نہیں کہا جاسکتا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست