شراب کیسے اسرائیل فلسطین امن قائم ہونے میں خلل بن سکتی ہے؟

مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں بننے والی شراب کی بوتلوں پر لیبلنگ کی جنگ ہزاروں میل دور یورپ میں لڑی جارہی ہے، مگر فلسطینیوں کو زیادہ تشویش ممکنہ الحاق کی ہے۔

مغربی کنارے میں ایک وائن یارڈ میں ایک مزدور انگور جمع کرتے ہوئے(روئٹرز)

یروشلم سے آدھا گھنٹہ دور مغربی کنارے میں ایک کٹے پھٹے پہاڑ کی چوٹی پر یورپی عدالت انصاف کے ساتھ ایک قانونی جنگ جاری ہے۔

جبل الطویل پہاڑ کی پیشانی پر جھومر کی طرح لٹکتی انگور کی چمکتی بیلیں فلسطین کے رملہ اور البیرہ علاقوں کے عین اوپر موجود ہیں۔ پہاڑ کی چوٹی پر موجود سرخ چھتوں والے گھر طویل القامت انجیر کے درختوں اور انگوروں کی بیلوں سے گھرے ہیں، لیکن یہ سلسلہ اچانک ہی رک جاتا ہے کیونکہ اس کے آگے خاردار تاروں نے روک لگا دی ہے۔

یہ ہے سیغٹ، ایک اسرائیلی بستی جو مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے میں قائم باقی اسرائیلی بستیوں کی طرح ہی ہے اور عالمی قوانین کے تحت غیر قانونی ہے (اسرائیل اس بات سے اتفاق نہیں کرتا)۔

1990 کی دہائی سے ہی اس علاقے میں شراب بنانے والی ایک اسرائیلی کمپنی قائم ہے جو قبضہ شدہ نجی فلسطینی زمین پر قائم وائن یارڈز میں اگنے والے انگوروں سے مہنگی شراب کشید کرتی ہے۔

اس پرسکون علاقے سے کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ یہاں ایک بڑی قانونی جنگ جاری ہے جس کا مرکز یہاں بننے والی شراب کی بوتلوں کا لیبل ہے۔ ایک ایسی جنگ جو پیرس کی کونسل ڈیتات سے لکسمبرگ میں واقع یورپی یونین کی سپریم کورٹ تک پہنچ چکی ہے۔

گذشتہ جمعرات سے اس جنگ میں مزید شدت آ چکی ہے۔ فلسطینی اور اسرائیلی مبصرین کے مطابق یہ اسرائیل فلسطین تنازع کی بڑی تصویر کا ایک ہی حصہ ہے جو دہائیوں سے اس خطے میں جاری ہے۔

یاکو برگ، ایک امیر اسرائیلی تاجر، سیغٹ کی اس شراب فیکٹری (وائنری) کے مالک ہیں۔ وہ 2015 میں یورپی یونین کی جانب سے لاگو اس ریگولیشن کا خاتمہ چاہتے ہیں جس کے تحت مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقوں سے آنے والی اسرائیلی مصنوعات پر لگے لیبل میں یہ بات واضح طور پر لکھی ہونی چاہیے کہ یہ اسرائیل نہیں بلکہ مغربی کنارے سے لائی جا رہی ہیں۔

یورپی یونین اور اقوام متحدہ مغربی کنارے میں موجود اسرائیلی بستیوں کو قانونی طور پر اسرائیل کا حصہ نہیں تسلیم کرتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 برگ تین سال کی عمر میں روس سے اسرائیل منتقل ہوئے تھے۔ وہ یورپی یونین کی لیبلنگ ریگولیشن کو ہٹلر کے دور میں نازی جرمنوں کی جانب سے یہودیوں کو پہنائے جانے والی پیلی پٹیوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔

ان کا ماننا ہے کہ یہ اسرائیل کے خلاف تعصب پر مبنی فیصلہ ہے جسے سیاسی طورپر بنایا گیا ہے تاکہ لوگوں کو ان کی مصنوعات کے بائیکاٹ پر آمادہ کیا جائے جو در حقیقت اسرائیل کا بائیکاٹ بھی ہوگا۔

امریکی قانونی فرم لا فئیر پراجیکٹ کی مدد سے برگ نے یہ مدعا پہلے پیرس میں اٹھایا جہاں سے اس کو یورپی عدالت انصاف منتقل کر دیا گیا۔ گذشتہ جمعرات کو فیصلے سے قبل عدالت کے ایڈوکیٹ جنرل نے بھی اس ریگیولیشن کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔

اپنی فیکٹری میں دی انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے برگ نے کہا: ’جب آپ کہتے ہیں ’مغربی کنارے پر موجود اسرائیلی بستی‘ تو یہ ایک سیاسی تشریح ہے جس کا جغرافیہ سے کوئی تعلق نہیں۔‘

مقدس کتابوں کے حوالے دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’دنیا کے تین ہزار سال پرانے ہر نقشے میں لکھا ہے کہ مغربی کنارہ اسرائیل ہی ہے۔ سب جانتے ہیں اسرائیل کہاں ہے۔‘

برگ کے کاروبار کو کافی نقصان ہوسکتا ہے اگر صارفین مغربی کنارے کا لیبل دیکھ کر ایسی مصنوعات نہ لینا چاہیں جو غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں بنی ہوں۔

جب یہ ریگولیشن متعارف کروایا گیا تھا تو اسرائیلی وزارت معیشت نے تخمینہ لگایا تھا کہ اس سے اسرائیلی تاجروں کو سالانہ پانچ کروڑ ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس کی زد میں آنے والی مصنوعات میں انگور، کھجوریں، شراب، مرغیاں، شہد، زیتون کا تیل اور کاسمیٹکس شامل ہیں۔

یہ رقم اسرائیلی بستیوں میں تیار کی جانے والی کُل 20 سے 30 کروڑ ڈالر کی مصنوعات کا پانچوں حصہ ہے جو یورپی یونین کو بھیجی جانے والی اسرائیلی 30 ارب ڈالر کی برآمدات کا ایک معمولی حصہ ہے۔

یاکو برگ کی وائنری میں تیار کی جانے والی سالانہ 40 ہزار بوتلوں میں سے 70 فیصد برآمد کی جاتی ہیں اور یورپ ان کا بڑا خریدار ہے۔

برگ نے کہا: ’یہ لیبلنگ نازی جرمنوں کی جانب سے یہودیوں کو پہنائے جانے والے پیلے ستارے سے بھی زیادہ بدتر ہے۔ یہ سگریٹ کی تنبیہ کی طرح ہے جو آپ کی صحت کے لیے خطرناک سمجھی جاتی ہے۔‘

دباؤ کے باوجود یورپی یونین کی سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ جرارڈ ہوگن نے گھما پھرا کے بات نہیں کی۔ انہوں نے تجویز دی کہ یورپی یونین اپنی ریگولیشن برقرار رکھے اور بستیوں کو ’عالمی قوانین کی خلاف ورزی‘  قرار دیا۔

اس کا امکان تو کم ہے مگر ایسا ہوسکتا ہے کہ عدالت جرارڈ ہوگن کے موقف کو مسترد کر دے اور مصنوعات پر مغربی کنارے کا لیبل لگانے کی ریگولیشن کو ختم کردے۔

 متنازع علاقے میں گذشتہ دو دہائیوں سے اسرئیلی بستیوں پر تحقیق کرنے والے ڈرور ایٹکس کے مطابق اگر عدالت نے ایسا کیا تو اس کا مطلب ہوگا کہ یورپی یونین نے اسرائیل کو مغربی کنارے کو لُوٹنے کی کھلی اجازت دے دی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ شراب کی بوتلوں کے لیبل کی جنگ اور سیغٹ وائنری اپنے آپ میں ہی اسرائیل فلسطین کے بڑے تنازع کو بیان کرتا ہے اور ایک ایسے وقت میں پیش آرہا ہے جب اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں مزید تجاوزات قائم کیے جانے کا خدشہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بڑے عرصے سے متوقع امن منصوبے کا سامنے آنا بس قریب ہی ہے۔ فلسطینی قیادت نے اس منصوبے کو ممکنہ طور پر اسرئیل کے حق میں ہونے کی وجہ سے پہلے ہی مسترد  کر دیا ہے۔

گذشتہ سال واشنگٹن کی جانب سے مقبوضہ شہر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد فلسطین نے امریکہ سے سفارتی تعلقات ختم کر دیے تھے۔

مارچ میں ٹرمپ نے گولان کی پہاڑیوں، جن کو اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضے میں لیا تھا، پر اسرائیلی قبضے کو بھی  قانونی تسلیم کر لیا تھا جس کے بعد یہ خدشات بھی ہیں کہ وہ مغربی کنارے کے علاقوں کے لیے بھی ایسا ہی کرسکتے ہیں۔

کچھ روز قبل اسرائیل کے لیے مقرر کردہ امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل کو مغربی کنارے کے ’حصوں‘ کو اپنے ساتھ شامل کرنے کا حق ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد فلسطینوں میں مزید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

ٹرمپ کے باقی مشیروں کی طرح فریڈمین بھی سمجھتے ہیں کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی موجودگی ضروری ہے۔

 فلسطینیوں کی جانب سے اس کو ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں امریکہ کی عدم دلچسپی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مزید فلسطینی زمین پر اسرائیل کے قبضے کا حامی ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم بیتسلیم کے امیت گیلوٹز نے کہا کہ اسرائیل پہلے ہی مغربی کنارے کے وسائل کا بے دریغ استعمال کرتا جا رہا ہے اور اکثر فلسطینی معیشت کے لیے اہم زرخیز زمین کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

تنظیم نے حالیہ دنوں میں ایک انٹرایکٹو پراجیکٹ ’کانکر اینڈ ڈیوائڈ‘ بھی ریلیز کیا ہے جس میں فلسطینی زمین پر اسرائیل کی تجاوزات کو دیکھا جاسکتا ہے جو ’علاقوں کو چھوٹے اور علیحدہ یونٹس میں بانٹ رہی ہیں اور فلسطینیوں کو ایک دوسرے اور اسرائیلیوں سے دور رکھ رہے ہیں۔‘

اس معاملے پر تحقیق کرنے والے ڈرور ایٹکس  نے کہا کہ گذشتہ 15 سالوں میں اسرائیل اور سیغٹ جیسی بستیوں میں رہنے والے اسرائیلیوں کی جانب سے فلسطینی زرعی زمین پر قبضے اور تعمیرات کا پیٹرن رہا ہے۔

سالوں سے جاری ان کی تحقیق میں جمع شدہ اعداد و شمار کے مطابق 2004 سے اسرائیل تقریباً 1000 ایکڑ فلسطینیوں کی ملکیتی زمین پر زرعی مقاصد کے لیے قبضہ کر چکا ہے۔ اس رقبے میں سے 220 ایکڑ سیغٹ جیسی وائن یارڈز کے زیر استعمال ہے۔

انہوں نے کہا: ’ایسا خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں ہو رہا ہے، جہاں سیغٹ جیسی سخت مذہبی بستیاں واقع ہیں۔‘

سیغٹ کے آس پاس رہنے والے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ان کی زمین پر ہر قبضہ ان کے لیے نقصان کو دگنا بڑھاتا ہے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس زمین پر آج یاکو برگ کا گھر اور پہلا کارخانہ واقع ہے وہ زمین 52 سالہ قنات قرآن کی ہے۔

انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’وہ (اسرائیلی) نہ صرف ہماری زمین ہر قبضہ کر رہے ہیں بلکہ ہمارے اسے استعمال کرنے پر بھی پابندی لگا رکھی ہے جس کی وجہ سے ہمیں گزر بسر کرنے میں مشکل ہو رہی ہے۔‘

’ہم اس زمین پر پیدا ہونے والی اجناس استعمال کرتے تھے لیکن اب ہمیں یہ سب کچھ باہر سے خرید کر لانا پڑتا ہے۔ ایسا ہونے سے فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات اور کم ہو گئے ہیں۔ ہم خوفزدہ ہیں کہ ہماری باقی زمین پر بھی قبضہ نہ ہو جائے۔‘

قنات اور ان کی 50 سالہ کزن کریمہ اپنے دادا کی طرف سے وراثت میں ملنے والی 2.5 ایکڑ زمین کی مالک ہیں، لیکن سیغٹ وائن یارڈ ان کے لیے بس پانچ ہندسوں کے رجسٹری نمبر سے زیادہ کچھ نہیں۔

 ان کے مطابق 1990 کی دہائی کے دوران کارخانے والوں کی جانب سے باغات کے رقبے میں اضافے کے لیے پرتشدد طریقہ اختیار کیا گیا اور پھر کچھ عرصے بعد 2003 میں اسرائیلی فوج نے قبضہ کیے گئے رقبے پر حفاظتی باڑ لگا دی۔ اس مدت کے دوران دوسرا انتفادہ بھی جاری تھا۔

برگ نے اس کی تردید کی، لیکن ان کا گھر اور سوئمنگ پول قنات قرآن کی قبضہ شدہ زمین کے کچھ حصے پر قائم ہے جس کو پارسل 233، بلاک 17 کا نام دیا گیا ہے۔

اسرائیلی حکام نے دی انڈپینڈنٹ کو تصدیق کی کہ سیغٹ کی وائن یارڈز فلسطینی شہریوں کی زمین پر قائم کی گئی ہیں۔

2003 میں خود اسرائیلی حکام کی جانب سے برگ کی تجاوزات کو منہدم کرنے کا نوٹس جاری کیا چکا ہے۔ اسرائیلی قوانین کے تحت بھی ان کی جانب سے کیے جانے والا قبضہ غیر قانونی ہے۔ لیکن اس نوٹس پر عملدرآمد ہونا ابھی باقی ہے۔

فلسطینیوں نے ان قبضوں کے خلاف اسرائیلی عدالتوں میں مقدمات لڑنے کی کوششیں بھی کی ہیں۔

69 سالہ منیف تریئش قرآن کی زمین کے پاس ایک پلاٹ کے مالک ہیں۔ انہوں نے دو بار ان کی زمین پر قائم اسرائیلی قافلے ہٹانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، عدالت نے شروع میں تسلیم کیا کہ وہ غیر قانونی طور پر قائم تھے مگر پھر 1998 میں کیس تکنیقی بنیاد پرخارج کردیا گیا۔

سیغٹ بستی اور اس کی فوجی چوکی کے سائے میں رہنے والے فلسطینی خاندانوں کے لیے ہزاروں میل دور یورپ میں جاری شراب کی بولتوں کے لیبل کی جنگ زیادہ پریشان کن مسئلہ نہیں۔ مگر ان کو یہ ڈر ضرور ہے کہ وائن یارڈز اور ان سے بننے والی شراب ان کی روز مرہ کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔

قنات نے کہا: ’شام کو سورج ڈھلنے کے بعد ہم اپنے ان بستیوں میں رہنے والوں سے خطرے کے ڈر سے گھروں سے باہر جانے سے گھبراتے ہیں۔ ہمیں ہر رات فوجیوں کی گولیوں کی آواز آتی رہتی ہے۔‘

برگ نے اس دعوے کی تردید کی کہ مقامی لوگوں پر کوئی تشدد کیا جاتا ہے۔ وہ پر اصرار تھے کہ سیغٹ وائنری بنانے میں وہ ’صرف اپنے وطن کے لیے کام کیا ہے، زمہین چوری نہیں کی۔‘

برگ نے کہا کہ الحاق اب سچائی ہے۔ ’ہم اپنے وطن واپس آئے، اسے ریگستان سے بدل کر کامیاب بنایا۔ ہماری کامیابی سے سب سے پہلے فلسطینیوں کو فائدہ ہے۔ یہ جگہ پہلے صحرا تھی، اب یہ ہری بھری ہے اور سب کے لیے کام کر رہی ہے۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا