راجہ پرویز اشرف پہلے سابق وزیراعظم جو سپیکر بنے

سپکر قومی اسمبلی کا عہدہ اسد قیصر کے مستعفی ہونے کی وجہ سے خالی ہوا تھا۔ ملکی تاریخ میں یہ چوتھا موقع ہے جب سپیکر قومی اسمبلی اپنے عہدے کی آئینی معیاد مکمل ہونے سے پہلے اس سے الگ ہو گئے۔

 سب سے پہلے 1973 کے آئین کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کا عہدہ چوہدری فضل الہی کے حصے آیا لیکن جب وہ صدر مملکت بننے تو یہ صاحبزادہ فاروق احمد خان کو ملا(تصویر: ریڈیو پاکستان)

نومنتخب سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف پہلے سابق وزیر اعظم ہیں جو اس عہدے کے لیے چنے گئے۔

 اس سے قبل سابق سپیکر ضرور صدر مملکت اور وزیر اعظم بنے ہیں۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے مقابلے میں کوئی دوسرا امید وار نہیں تھا اسی وجہ سے وہ قومی اسمبلی کے بلامقابلہ سپیکر بنے۔

سپیکر قومی اسمبلی کا عہدہ اسد قیصر کے مستعفی ہونے کی وجہ سے خالی ہوا تھا۔ ملکی تاریخ میں یہ چوتھا موقع ہے جب سپیکر قومی اسمبلی اپنے عہدے کی آئینی میعاد مکمل ہونے سے پہلے اس سے الگ ہوگئے۔

سب سے پہلے 1973 کے آئین کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کا عہدہ چوہدری فضل الہی کے حصے آیا لیکن جب وہ صدر مملکت بنے تو یہ صاحبزادہ فاروق احمد خان کو ملا۔

دوسری بار 1985 میں اُس وقت کے سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام کو عہدے سے الگ ہونا پڑا جب اُن کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد حامد ناصر چھٹہ سپیکر قومی اسمبلی چنے گئے۔

سال 2013 کے انتخابات میں ایاز صادق نے عمران خان کو شکست دی اور اسمبلی رکن بننے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی بنے۔ عمران خان کی انتخابی عذر داری پر الیکشن ٹربیونل نے بے ضابطگیوں کی بنیاد پر قومی اسمبلی کا انتخاب کالعدم دیا اور انہیں عہدہ چھوڑنا پڑا۔

 ایاز صادق دوبارہ لاہور کے اُسی حلقہ منتخب ہوئے اور نواز شریف نے انہیں دوبارہ سپیکر قومی اسمبلی بنایا۔

سردار ایاز صادق نے تحریک انصاف سے اپنی سیاست کا آغاز کیا اور اسی جماعت سے صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑا۔ تاہم بعد میں مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے اور اپنی سابق جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے مقابلہ میں انتخاب لڑا۔

تحریک انصاف کے اسد قیصر چوتھے سپیکر قومی اسمبلی ہیں جو اپنے منصب سے مستعفی ہوئے۔ وہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے اجلاس کی صدارت سے الگ ہو گئے۔

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں میں پہلی خاتون سپیکر بنے کا اعزاز سابق صدر کے قریبی دوست ذوالفقار علی مرزا کی اہلیہ فہمیدہ مرزا کو ملا۔

اس سے قبل 1977 میں ڈاکٹر اشرف عباسی خاتون ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔ ڈاکٹر اشرف عباسی پیپلز پارٹی کے رہنما صفدر عباسی کی والدہ اور بے نظیر بھٹو کی پولیٹیکل سیکریٹری ناہید خان کی ساس تھیں۔

 فہمیدہ مرزا پہلی سپیکر قومی اسمبلی ہیں جنہوں اس روایت کو بھی توڑا وہ آئندہ انتخابات میں کامیاب ہوئے۔

اس سے پہلے یہ روایت بن گئی تھی کہ آئینی مدت مکمل کرنے والی یا تحلیل ہونے والی اسمبلی کے سپیکر نئی اسمبلی کے رکن منتخب نہیں ہوسکے اور صرف قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کی صدارت اور نئے سپیکر اسمبلی کے اجلاس تک ایوان میں رہے۔

بے نظیر بھٹو نے 1988 میں جب اقتدار سنبھالا تو انہوں نے انہیں دو ارکان اسمبلی کو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی منتخب کرایا جو 1977 میں مارشل لا کے وقت قومی اسمبلی کے ان دو عہدوں پر تعینات تھے۔

اس طرح ملک معراج خالد 1988 میں دوسری بار سپیکر قومی اسمبلی اور ڈاکٹر اشرف عباسی ڈپٹی سپیکر بنیں۔

نواز شریف جب پہلی مرتبہ وزیراعظم بنے تو انہوں نے سابق فوجی صدر ایوب خان کے بیٹے کیپٹن ریٹائرڈ گوہر ایوب کو سپیکر قومی اسمبلی بنایا لیکن وہ 1993 میں میں منتخب ہونے والی اسمبلی کے رکن نہ بن سکے۔

پیپلز پارٹی کی سابقہ سربراہ بے نظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دور حکومت میں یوسف رضا گیلانی کو سپیکر بنایا۔ نیب نے ان کی سبکدوشی کے بعد اسمبلی میں غیر قانونی تقرر کرنے پر ریفرنس بھی بنایا۔ وہ پہلے سیاست دان تھے جو سپیکر رہنے کے بعد 2008 میں ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

سید یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کی وجہ سے اپنی میعاد مکمل نہ کرسکے اور انہیں عدالتی سزا کی وجہ سے نااہلی کا سامنا رہا۔

بزرگ سیاست دان ملک معراج خالد بھی دو مرتبہ سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم بنے لیکن وہ نگران حکومت میں وزیراعظم تھے۔

صدر سردار فاروق احمد خان لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کی تو ملک معراج خالد کو نگران وزیراعظم بنایا گیا۔

 معراج خالد اور فاروق پرانے دوست تھے بلکہ دونوں کا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے تھا۔ ایک تقریب میں معراج خالد نے فاروق لغاری کو دل کا جانی کہا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 نواز شریف نے 1997 میں اپنے دوسرے دور اقتدار میں سابق سپیکر کیپٹن ریٹائرڈ گوہر ایوب کو دوبارہ سپیکر بنانے کے بجائے سپیکر قومی اسمبلی کا عہدہ الہی بحش سومرو کو دیا جبکہ سابق وزیر اعظم نے گوہر ایوب کو وزارت خزانہ کا قلمدان دیا تھا۔

 الہی بخش سومرو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دوست رہے تھے۔ وہ پہلے سپیکر قومی اسمبلی تھے جن کا تعلق صوبہ سندھ سے تھا۔

سال 2002 کے انتخابات میں الہی بخش سومرو کامیاب نہ ہوسکے لیکن روایت اور رولز کے مطابق افتتاحی اجلاس کی صدارت کی۔

 قومی اسمبلی میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے جنرل پرویز مشرف کے پی سی او کے تحف حلف اٹھانے سے انکار کر دیا۔ اس پر الہی بخش سومرو نے انہیں باور کرایا کہ وہ ارکان سے 1973 کے آئین کے تحت حلف لے رہے ہیں جس میں فوجی صدر کا جاری کردہ پی سی او شامل نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ارکان قومی اسمبلی نے سبکدوش ہونے والے سپیکر الہی بخش سومرو کی یقین دہانی اور رولنگ پر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

سال 2002 کی حکمران جماعت مسلم لیگ ق نے سپیکر کے عہدے کے لیے سابق وزیر قانون چوہدری امیر حسین کو سپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا اور ان کا مقابلہ حزب مخالف کی پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر قانون بیرسٹر اعتزاز احسن سے ہوا۔

سابق وزرائے قانون کے درمیان ہونے والے اس مقابلے میں کامیابی چوہدری امیر حسین کے ہاتھ آئی وہ سپیکر قومی اسمبلی بنے لیکن 2008 میں منتخب ہونے والی قومی اسمبلی کے رکن نہ بن سکے۔

سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے مستعفی ہونے کے بعد سابق سپیکر قومی اسمبلی نے چیئرمین پینل میں شامل ہونے پر نا صرف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کرائی بلکہ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے اجلاس کی صدارت بھی کی۔ ایاز صادق نے نئے سپیکر قومی راجہ پرویز اشرف سے حلف بھی لیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ