خبر رساں ادارے روئٹرز نے پیر کو ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی حکام سے ملاقات کرنے والوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع اور ترک انٹیلی جنس سربراہ شامل ہوں گے۔
حوثی مذہب کو ایک پردے کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن اگر ان کے سیاسی مقاصد پورے ہوتے ہوں تو انہیں مکہ اور مدینہ جیسے مقدس شہروں یا کسی شہری ہوائی اڈے پر موجود زائرین کو نشانہ بنانے میں کوئی عار نہیں ہوتی۔