وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے پیش کردہ بل کے تحت ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم کرنے اور چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی آپریشنل کمان اور کنٹرول دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
2025 میں سپریم کورٹ آف پاکستان سپریم نہ رہی اور وفاقی آئینی عدالت وجود میں آ گئی۔ آئینی معاملات آئینی عدالت کے سپرد ہوئے جب کہ دیوانی و فوجداری مقدمات سپریم کورٹ کے حصے میں آئے۔