اگر یہ سفر کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو یہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد پہلا موقع ہوگا کہ کوئی قطری ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرے گا۔
ایک جانب جہاں دوسروں نے خطے میں کشیدگی بڑھائی وہیں ریاض اور اسلام آباد نے اس پر قابو پانے کے لیے ناصرف کام کیا بلکہ یقینی بنایا کہ سفارت کاری فعال ہے۔