انطالیہ ڈپلومیسی فورم: عالمی رہنماؤں کی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف

انطالیہ فورم کے دوران شہباز شریف نے ترکی کے صدر، قطر کے امیر، قازقستان کے صدر، آذربائیجان کے صدر اور شام کے صدر سمیت کئی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 17 اپریل 2026 کو انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر عالمی رہنماؤں کے ساتھ  ملاقاتیں کیں (اے پی پی)

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جمعے کو ترکی میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر عالمی رہنماؤں کے ساتھ  ملاقاتیں کیں جنہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو سراہا۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق فورم کے دوران شہباز شریف نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف، آذربائیجان کے صدر الہام علییف اور شام کے صدر احمد الشرع سے ملاقات کی۔

ترک صدر سے ملاقات کےدوران نے رجب طیب اردوغان  نے وزیرِ اعظم کی امن کی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ ترکی پاکستان کی اس سفارتی کوشش کی حمایت جاری رکھے گا جس کا مقصد خطے میں امن قائم کرنا ہے۔

وزیرِ اعظم نے نے ترکی کے صدر کو 5ویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کی کامیابی پر مبارکباد دی اور کہا کہ یہ فورم ایک اہم عالمی ایونٹ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے خطے، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیرِ اعظم نے صدر اردوغان کو پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت اور حوصلہ افزائی پر شکریہ ادا کیا اور جنگ بندی کو بڑھانے اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا تاکہ ایک پائیدار امن معاہدہ ممکن بنایا جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا کر خطے میں دیرپا امن قائم کیا جانا چاہیے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کوسوو کی صدر، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف، آذربائیجان کے صدر الہام علییف اور شام کے صدر احمد الشرع سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

بیان کے مطابق یہ ملاقاتیں دوستانہ اور خوشگوار ماحول میں ہوئیں، اور وزیرِ اعظم شہباز شریف ان ملاقاتوں میں شریک رہنماؤں کے درمیان ایک مرکزی رابطہ شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔

ان ملاقاتوں میں عالمی اور علاقائی صورتحال کے ساتھ ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا