اسرائیلی حملے کا خدشہ، ایرانی وفد کو پاکستان کے فضائی حصار میں وطن پہنچایا گیا: رپورٹ

ایک علاقائی سفارت کار نے کہا کہ اگرچہ ایرانی وفد نے اسرائیلی خطرے کو ’فرضی‘ قرار دیا، تاہم پاکستان نے انہیں سکیورٹی سکواڈرن فراہم کرنے پر زور دیا۔

 11 اپریل 2026 کو پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے لی گئی اور جاری کی گئی تصویر میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار (دائیں سے دوسرے) اور آرمی چیف سید عاصم منیر (بائیں سے دوسرے) امریکہ سے مذاکرات کے سلسلے میں آنے والے ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی (درمیان سے بائیں) اور ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف (درمیان سے دائیں) کے ہمراہ اسلام آباد کے قریب راولپنڈی میں نور خان ایئر بیس پر آمد کے موقع پر پیدل چل رہے ہیں (پاکستان کی وزارت خارجہ ) 

خبر رساں ادارے روئٹرز نے تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کے بعد پاکستان کی فضائیہ نے حفاظتی حصار میں ایرانی وفد کو وطن پہنچایا کیونکہ ایرانیوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اسرائیل انہیں نشانہ بنا کر قتل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

دو پاکستانی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ اس آپریشن میں تقریباً دو درجن پاکستانی جنگی طیارے شامل تھے جبکہ فضائی نگرانی کے لیے ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی استعمال کیا گیا تاکہ اسلام آباد سے روانہ ہونے والے وفد کی مکمل حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

مذاکرات میں شامل ایک تیسرے ذرائع نے بتایا کہ آئندہ ممکنہ مذاکرات کے پیشِ نظر پہلے ہی حفاظتی اقدامات پر کام جاری ہے جو ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں ہو سکتے ہیں۔

ذرائع نے کہا کہ اگر ایرانی آئندہ مذاکرات کے لیے درخواست کریں تو انہیں اسی نوعیت کی سکیورٹی فراہم کی جائے گی اور پاکستانی طیارے انہیں ملکی حدود میں اپنے حصار میں لیں گے

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

’انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے‘

تہران سے بریفنگ لینے والے ایک علاقائی سفارت کار نے کہا کہ اگرچہ ایرانی وفد نے اسرائیلی خطرے کو ’فرضی‘ قرار دیا، تاہم پاکستان نے انہیں سکیورٹی سکواڈرن فراہم کرنے پر زور دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرانی وفد کے ساتھ سفر کے دوران ممکنہ خطرات اور ایران تک پاکستانی فضائی حفاظتی حصار کی موجودگی کی تفصیلات اس سے قبل رپورٹ نہیں ہوئیں۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر، جینیوا میں ایران کے مستقل مشن، پاکستان کی فضائیہ اور فوج اور امریکہ کے سفارت خانے نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ایک سکیورٹی ذرائع نے کہا: ’جب مذاکرات بے نتیجہ ہوئے تو ایرانی حکام کو تشویش ہوئی کہ معاملات درست نہیں جا رہے۔ انہیں شبہ تھا کہ انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’پائلٹ کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ ایک بڑا آپریشن تھا۔ آپ ایک ایسے وفد کی ذمہ داری لے رہے ہیں جو مذاکرات کے لیے آیا ہے، آپ انہیں فضائی تحفظ فراہم کر رہے ہیں اور کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

مذاکرات میں شامل ایک اہلکار نے، جو 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط میں سے ایک تھے، فضائی سکیورٹی کی تصدیق کی تاہم آپریشن کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

انہوں نے کہا: ’ہم انہیں مکمل طور پر تہران تک لے کر گئے۔ ان کی سکیورٹی یہاں قیام کے بعد بھی ہماری ذمہ داری تھی۔‘

ایک اور اہلکار کے مطابق اتوار کے اس مشن میں چینی ساختہ جے 10 سی  طیارے بھی شامل تھے، جو پاکستانی فضائیہ کے جدید ترین جنگی طیاروں میں شمار ہوتے ہیں۔

اسرائیلی ’ہٹ لسٹ‘

ذرائع کے مطابق ایرانی وفد، جس کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کر رہے تھے، نے سکیورٹی سکواڈرن کی درخواست کی، جو معمول کے پروٹوکول سے کہیں زیادہ ہے۔

تاہم ایک علاقائی سفارت کار نے کہا کہ ایرانیوں نے اس کی باضابطہ درخواست نہیں دی، لیکن اس امکان کو بھی رد نہیں کیا کہ اسرائیل ان  کے طیارے کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس کے بعد پاکستان نے سکیورٹی فراہم کرنے پر زور دیا۔

سفارت کار کے مطابق وفد تہران میں نہیں اترا، تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ اصل میں انہوں نے کہاں لینڈ کیا۔

ذرائع کے مطابق اسرائیل نے عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف کو ممکنہ اہداف کی فہرست میں شامل کیا ہوا تھا، تاہم پاکستان نے امریکہ سے مداخلت کی درخواست کی تاکہ انہیں فہرست سے نکالا جا سکے، کیونکہ بصورت دیگر مذاکرات کے لیے کوئی باقی نہیں رہتا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے ممکنہ طور پر ایران کا حوالہ گذشتہ ماہ دیتے ہوئے کہا تھا: ’میں دہشت گرد تنظیم کے کسی بھی رہنما کو زندگی کی ضمانت نہیں دوں گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے منصوبوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے۔

ایرانی اور امریکی وفود نے 11 اپریل کو اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات کیے تھے۔

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ جنگ ’بہت جلد ختم ہو سکتی ہے‘ اور یہ بھی عندیہ دیا کہ مذاکرات اسی ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں دوبارہ ہو سکتے ہیں اور وہ خود ممکنہ معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان آ سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان