پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بدھ کو سعودی عرب کے اہم دورے پر روانہ ہوئے جہاں سے وہ قطر اور پھر ترکی بھی جائیں گے۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ 15 اپریل سے 18 اپریل تک سعودی عرب، قطر اور ترکی کا دورہ کریں گے۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔
ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم سعودی عرب اور قطر ممالک کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جس میں جاری دوطرفہ تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و سلامتی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزیراعظم پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کے لیے ترکی کا بھی دورہ کریں گے۔ فورم کے دوران، وزیر اعظم دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ، فورم میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے ’لیڈرز پینل‘ میں شرکت کریں گے۔ فورم کے موقع پر وزیراعظم کی صدر رجب طیب ایردوان اور دیگر اہم عالمی رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں متوقع ہیں۔
|
گذشتہ ایک سال (مارچ 2025–اپریل 2026) کے دوران اہم دورے یہ ہیں: 19-22 مارچ 2025: جدہ کا چار روزہ سرکاری دورہ، جس میں ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقاتیں شامل تھیں۔ 5-6 جون 2025: عمرہ ادا کرنے اور سعودی قیادت سے ملاقات کے لیے سرکاری دورہ۔ 17-18 ستمبر، 2025: تعاون کو رسمی شکل دینے اور سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کے لیے دورہ۔ 26-29 اکتوبر 2025: ریاض کا دورہ تاکہ نویں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو میں شرکت کی جا سکے۔ 10-11 نومبر 2025: دوسرے مشترکہ عرب-اسلامی سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ 3-4 دسمبر 2025: ریاض میں 'ون واٹر سمٹ' میں شرکت کی۔ 12 مارچ 2026: جدہ میں ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات۔ 15 اپریل 2026: تازہ سرکاری دورے کے لیے روانگی کا شیڈول ہے، جو قطر اور ترکی سمیت تین ممالک کے دورے کا حصہ ہے |
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ اور اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے تناظر میں یہ دورے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان سیز فائر کے بعد اسلام آباد میں اہم مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو ہوا تھا جو بنا کسی معاہدے کے ختم ہوا، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی رواں ہفتے اسلام آباد میں ہی ہو گا۔
اس جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اشارہ کر چکے ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم آفس سے بدھ کو جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب اور قطر دو طرفہ تناظر میں ہوگا جہاں وہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
دوسری جانب وزیراعظم ترکی کا دورہ بھی کریں گے جہاں وہ پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے۔
بیان کے مطابق فورم کے دوران وزیراعظم دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ لیڈرز پینل میں شرکت کریں گے اور فورم میں پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس دوران وزیراعظم شہباز شریف کی رجب طیب اردوغان سے بھی ملاقات ہو گی۔
اس سے قبل دونوں اسلامی ممالک کے درمیان 17 ستمبر 2025 کو ایک سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر اعظم شریف نے دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان نے گذشتہ دنوں فوجی سازوسامان سعودی عرب بھیجا ہے۔
یہ دورہ مشرق وسطیٰ خطے کی صورت پر حال ہی ہونے والے متعدد مشاورتی اجلاسوں کے بعد ہو رہا ہے جن میں گزشتہ ماہ اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کا چار فریقی اجلاس بھی شامل ہے۔
ان چاروں ممالک کے سینیئر حکام نے اس ہفتے بھی اسلام آباد میں ایک اور اجلاس منعقد کیا۔
پاکستان خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورت حال کے پیش نظر اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ حکام کے مطابق وزیرِ اعظم کا یہ دورہ اسلام آباد کے مکالمے، کثیرالجہتی تعاون اور علاقائی استحکام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
اس دورے سے قبل پاکستان کے وزیر خزانہ اور محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزیر خزانہ نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب نے 3 ارب امریکی ڈالر کے اضافی ڈپازٹس کا وعدہ کیا ہے جس کی فراہمی آئندہ ہفتے متوقع ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ 5 بلین امریکی ڈالر سعودی ڈپازٹ اب پہلے کے سالانہ رول اوور انتظامات سے مشروط نہیں رہے گا اور اس کی بجائے اسے طویل مدت تک بڑھایا جائے گا۔
سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ یہ مدد پاکستان کی بیرونی مالیاتی ضروریات کے لیے ایک نازک وقت پر آتی ہے اور اس سے زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت دینے اور ملک کے بیرونی کھاتے کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے مارکیٹوں کے لیے اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اور آئی ایم ایف کے تعاون سے چلنے والے پروگرام کے تحت ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا، جس میں مالی سال کے اختتام تک تقریباً 3.3 ماہ کے درآمدی احاطہ کے برابر تقریباً 18 ارب امریکی ڈالر کے ذخائر حاصل کرنے کا مقصد بھی شامل ہے۔