قدس پریس کے مطابق اسرائیلی حملے کا ہدف مذاکرات کے لیے دوحہ میں موجود حماس رہنما تھے جو محفوظ رہے۔
وائٹ ہاؤس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ’محکمہ جنگ‘ کا نام ’محکمہ دفاع‘ کے مقابلے میں زیادہ طاقتور پیغام دیتا ہے اور ’امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے دشمنوں کو واضح اشارہ فراہم کرتا ہے کہ امریکہ جنگ کے لیے تیار ہے۔‘