بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے رستے سے جو پانی پاکستان کی طرف آ رہا ہے وہ پانی انڈیا کی ملکیت ہی نہیں ہے۔ وہ دریا اور ان کا پانی اور یہ سارے وسائل کشمیریوں کے ہیں۔
آج آئینی عدالت بنی ہے ہو سکتا ہے کل کو ’وجوہاتی عدالت‘ بھی بنانا پڑ جائے تاکہ ساتھ ہی قوم کو بروقت پتہ چلتا رہے کہ کون سا جرم کس چیز کا براہ راست نتیجہ تھا۔