اسلام آباد کلب کو ختم کیجیے

نیشنل پارک کے جنگل میں اسلام آباد کلب نام کا نو آبادیاتی افسر شاہی کا یہ عشرت کدہ موجود ہی کیوں ہے؟

اسلام آباد کلب  1952 کنال رقبے کے  سالانہ 26 سو روپے سالانہ ادا کرتا ہے، یعنی ایک روپیہ 37 پیسے فی کنال (اسلام آباد کلب)

مارگلہ نیشنل پارک کے جنگل میں واقع اسلام آباد کلب کے سامنے سے گزرتا ہوں  تو دل اترتی شام کی جھیلوں کی طرح اداس ہو جاتا ہے۔ 

ایک ہی سوال ہے جو برسوں سے  دیوار دل سے لپٹا پڑا ہے کہ نیشنل پارک کے جنگل میں اسلام آباد کلب نام کا  نو آبادیاتی افسر شاہی کا یہ عشرت کدہ موجود ہی کیوں ہے؟ یہ کیوں بنا؟ اوراس کے بننے اور باقی رہنے کا  کیا کوئی ایک قانونی یا اخلاقی جواز موجود ہے؟

یہ دو یا چار کنال کا معاملہ نہیں ہے ۔ دستیاب نقشوں کے مطابق نیشنل پارک کی 244 ایکڑ زمین صرف 11 روپے فی ایکڑ سالانہ کی قیمت پر افسر شاہی کے اس عشرت کدے کو عطا فرمائی گئی ہے۔ ( جو اب بڑھ کر 352 ایکڑ ہو چکی ہے) ۔ کیا دنیا میں کہیں کوئی ایسی مثال موجود ہے کہ کوئی حکومت اپنے نیشنل پارک کے  سینکڑوں ایکڑ اٹھا کر افسر شاہی کو دان کر دے کہ لو مزے کرو۔

انڈپینڈنٹ اردو کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد کلب کی رکنیت کے لیے عام آدمی سے 70 لاکھ روپے لیے جاتے ہیں اور پارلیمنٹیرین اور حاضر سرکاری افسر کے لیے یہ رقم صرف چھ لاکھ روپے ہے۔  70 لاکھ اور چھ لاکھ کے فرق کو فی الحال ایک طرف رکھ دیجیے اور نو آبادیاتی افسر شاہی کی ڈکشن پر غور کیجیے۔ رکن پارلیمنٹ، سرکاری ملازم اور عام آدمی۔ یہ بالکل وہی ترتیب ہے جو ہمارے نو آبادیاتی قانونی حلقوں میں استعمال ہوتی ہے۔ معزز جج صاحبان ، فاضل وکلا اور سائلین۔ جو شہری ہیں وہ  آج بھی صرف رعایا ہیں ۔ وہ معزز نہیں ہو سکتے ۔ وہ آج بھی سائل اور عام آدمی ہی کہلاتے ہیں۔

کبھی آپ نے سوچا ہے یہ عام آدمی کیا ہوتا ہے؟ اسے ہر جگہ حقارت سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟ اوریہ پارلیمنٹیرین اور افسر شاہی کو کیا سرخاب کے پر لگے ہوتے ہیں کہ یہ عام آدمیوں میں شمار  نہیں ہوتے؟ عام آدمی کے دو ہاتھ دو پاؤں اور ایک سر ہوتا ہے ، کیا افسر شاہی اور پارلیمنٹیرینز کے پاس یہ سب کچھ دگنی مقدار میں ہوتا ہے؟ عام آدمی گندم کی روٹی کھاتا ہے تو کیا یہ افسر شاہی سٹین لیس سٹیل سے ناشتہ کر کے نکلتی ہے؟ افسر شاہی کا اپنے لیے نیشنل پارک کی زمین پر ایک ناجائز کلب بنا کر ، شہریوں کو ’عام آدمی‘ قرار دے کر ان سے 12 گنا زیادہ فیس کا مطالبہ کرنا اصل میں وہ نوآبادیاتی خراج یا لگان  ہے جو دور غلامی میں برطانوی عمال حکومت وصول کیا کرتے تھے۔ برطانوی راج ختم ہو گیا افسر شاہی کی یہ رعونت ختم نہیں ہوئی۔

یہ کلب اصل میں صرف نو آبادیاتی افسر شاہی کے لیے ہے۔ سرکاری ملازمین کی اصطلاح صرف دھوکہ ہے۔ کالجز اور یونیورسٹیوں کے پروفیسرز بھی سرکاری ملازمین ہیں لیکن کیا انہیں رکنیت اسی قیمت پر اسی آسانی سے ملتی ہے جیسے یہ نو آبادیاتی افسر شاہی یا جج صاحبان کو مل جاتی ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ صرف عام آدمی ہی عام آدمی نہیں، بہت سارے سرکاری ملازمین بھی حقیقت میں وہی عام آدمی ہی ہیں۔ قابل نفرت، حقیر، نو آبادیاتی بندوبست میں کیڑے مکوڑوں جیسے۔

مزید غور کیجیے۔ عام آدمی اتنا قابل نفرت ہے کہ وہ 70 لاکھ دے گا تو کلب کا رکن بن سکتا ہے لیکن عام آدمی کا نمائندہ جو پارلیمان میں بیٹھا ہے وہ خاص آدمی ہے اور اسے چھ لاکھ میں رکنیت دے دی جاتی ہے تا کہ وہ بد مزہ ہو کر کوئی قانونی مسئلہ نہ کھڑا کر دے اس لیے اپنا حصہ لے اور خاموش ہو جائے۔ چناں چہ شام ہوتی ہے تو اسلامی ، غیر اسلامی، عوامی، ہر طرح کے انقلاب کا بھاشن دینے والے عوامی نمائندے اس کلب کا رخ کرتے ہیں اور کسی نے کبھی سوچا تک نہیں کہ کیا نیشنل پارک میں کلب بن سکتا ہے۔

کہنے کو یہ اس شہر کا کلب ہے۔ اسلام آباد کلب ، لیکن فیس کی رعایت صرف نو آبادیاتی افسر شاہی اور بالادست طبقات کے لیے ہے۔  اس شہر کا  کوئی طالب علم چاہے دنیا میں قابلیت کے جھنڈے گاڑ آئے۔ یہاں کا کوئی استاد  چاہے اپنے فن میں کمال پر پہنچ جائے۔  اس شہر کا کوئی فن کار، گلوکار  چاہے دنیا میں نام کما لے۔ کوئی آرٹسٹ چاہے ملک کی شناخت بن جائے اور یہاں کا  کوئی تاجر بھلے کتنا ہی ٹیکس کیوں نہ دیتا ہو ان کے لیے کوئی رعایتی پیکج نہیں ہے۔ یہ سب جو بھی ہیں ہیں تو عام آدمی نا۔ ان کی کیا اوقات کہ نوآبادیاتی بندوبست میں ان کا وجود بھی تسلیم کیا جائے۔

عام آدمی سے اگر 12 گنا زیادہ فیس لی جاتی ہے تو اس پر بھی عام آدمی کو شکر کرنا چاہیے ورنہ جیسے کلب کے لان میں بورڈ لگا ہوتا تھا کہ یہاں سے آگے میڈ اور سرونٹ کا جانا منع ہے۔ ایسے ہی یہ بورڈ بھی لگایا جا سکتا تھا کہ عام آدمیوں کا داخلہ منع ہے۔  یہ تو نوآبادیاتی افسر شاہی کی رعایا پروروی ہے کہ رعایا کو 12 گنا لے کر ہی سہی، داخلے کی اجازت تو دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلام آباد وائلڈ لائف پروٹیکشن آرڈی ننس کے تحت یہ سارا علاقہ نیشل پارک کا ہے۔ نیشنل پارک میں کوئی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ نیشنل پارک جانوروں کی قیام گاہ ہے۔ قانون میں جانوروں کی پناہ گاہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ یہاں انسان صرف تین مقاصد کے لیے جا سکتے ہیں ۔ تفریح کے لیے ، تعلیم کے لیےا ور تحقیق کی خاطر۔ یہاں افسر شاہی کے عشرت کدے کے نام پر کنکریٹ کا کلب کھڑا کر دینے کی کوئی قانونی گنجائش سرے سے موجود ہی نہیں۔

اسلام آباد کے نیشنل پارک کو اسلام آباد کلب نام کے کسی ناسور کی ضرورت نہیں ہے۔ افسر شاہی اور اشرافیہ کو  اپنے لیے کوئی عشرت کدہ چاہیے تو اپنے پیسوں سے اپنی زمین خرید کر اس پر بنا لے۔ نیشنل پارک کے جنگل کی ، سرکاری زمین پر اس کا کوئی حق نہیں ہے۔

تو کوئی ہے جو اس لاوارث شہر کے نیشنل پارک کے جنگل کے لیے آواز اٹھائے۔ کوئی منصف ، کوئی پارلیمنٹیرین، کوئی سیاست دان، کوئی انقلابی ، کوئی قانون دان ، کوئی صحافی ،  کوئی سول سوسائٹی والا ۔

اس شہر پر رحم کیجیے ، یہ مال غنیمت نہیں ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر