ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا، اور پاکستان پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے اپنا ثالثی کا کردار ادا کرنا جاری رکھے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ امن برقرار رہے۔
شورش کی دھار کند کرنے کے لیے طاقت کا استعمال ناگزیر ہے، لیکن اس کے بعد ضروری سیاسی عمل کا ہونا لازمی ہے تاکہ نظریاتی طور پر سخت گیر عناصر کو الگ کیا جا سکے۔