موٹرسائیکل پر سعودی عرب پہنچنے والے پاکستانی کی ویڈیو وائرل

دو سعودی عورتوں کی موٹر سائیکل پر پاکستان سے سعودی عرب پہنچنے والے ایک پاکستانی سے دلچسپ گفتگو کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔

ابرار کئی ممالک کے راستے اب سعودی عرب پہنچے ہیں۔ 20 فروری کو ابرار کے فیس بک پیچ پر پوسٹ ہونے والی تصویر (وائلڈ لینز بائی ابرار فیس بک پیج)

سعودی عرب کی دو خواتین اور ایک پاکستانی مسافر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک پاکستانی مسافر ابرار حسن کئی ملکوں کا زمینی سفر کرتے ہوئے حرمین شریفین کی زیارت کے لیے سعودی عرب پہنچے ہیں۔

العربیہ اردو کے مطابق وہ ریاض اور رماح کے درمیان شاہراہ پر موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ایک جگہ رکے جہاں خواتین کافی فروش کا ایک ’ٹی سٹال‘ ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ابرار حسن اپنی ٹوٹی پھوٹی عربی میں خواتین سے بات کرتے ہیں۔ جواب میں وہ ان سے شہریت پوچھتی ہیں جس پر وہ بتاتے ہیں کہ وہ پاکستانی شہری ہیں۔

خواتین انہیں مشہور عربی قہوہ پیش کرتی ہیں۔ وہ اس کے عوض انہیں ادائیگی کرنا چاہتے ہیں مگر خواتین اس کی قیمت لینے سے انکار کر دیتی ہیں۔

ان کے درمیان مکالمہ ہوا اور دونوں عورتوں نے اس سے پوچھا کہ ’آپ مسافر ہو؟‘ اثبات میں جواب پر وہ حیران رہ گئیں کہ ابرار موٹر سائیکل پر پاکستان سے یہاں پہنچے ہیں۔ ابرار نے جب ان سے پوچھا کہ یہ راستہ مکہ کو جاتا ہے تو ان میں سے ایک نے کہا: ’مکہ ہی کو جاتا ہے امریکہ تو نہیں جاتا۔‘

دونوں خواتین نے ان سے کہا کہ وہ پاکستان واپسی پر ان کی دکان پر دوبارہ ضرور آئیں۔ ایک سعودی کمپنی کے ٹوئٹر اکاونٹ سے شیئر کی گئی اس ویڈیو کو چار لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جاچکا ہے۔

پاکستانی مسافر کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوئی۔اس پر صارفین نے دونوں خواتین کے اخلاق اور حسن سلوک کی تعریف کی۔ صارفین کا کہنا ہے کہ خواتین نے سعودی قوم کی غیر ملکیوں سے سخاوت اور مہمان نوازی کی مثال زندہ کی ہے۔

ابرار نے خشکی کے راستے سفر کا آغاز موٹر سائیکل پر کیا۔ وہ پاکستان سے ایران، عراق اور کویت سے ہوتے ہوئے سعودی عرب پہنچیں ہیں۔ ابرار حسن مکہ معظمہ کی زیارت کے دورہ عمرہ کی سعادت حاصل کریں گے اور روضہ رسول پر حاضری کے لیے مدینہ منورہ بھی جائیں گے۔

اپنے سفر کے دوران وہ ان ممالک کے سفر کی دلچسپ معلومات اپنے ویڈیوز یوٹیوب چینل ’وائلڈ لنز بائی ابرار‘ میں شیئر کر رہے ہیں۔ اس چینل پر ان کی فالونگ ساڑھے سات لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ