خواتین کو سر سے پاؤں تک برقع پہننا ہوگا: افغان طالبان

ملا ہبت اللہ کے فرمان میں کہا گیا ہے کہ گھر سے باہر نکلتے ہوئے چہرہ نہ ڈھانپنے والی خواتین کو بالآخر ملازمت سے برطرف یا جیل میں ڈال دیا جائے گا۔

سر سے پاؤں تک برقع میں ملبوس ایک افغان خاتون عید الفطر کے موقع پر یکم مئی 2022 کو کابل میں نمازیوں کو عید کی نماز ادا کرتے دیکھ رہی ہیں (تصویر: اے ایف پی)

افغان طالبان کے سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ کے ہفتے کو جاری ہونے والے ایک حکم نامے کے مطابق ملک میں خواتین کو چہرہ لازمی طور ڈھانپنے کا حکم دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نیا فرمان خواتین پر بڑھتی ہوئی پابندیوں میں اضافے کا حصہ ہے جسے عالمی برداری اور افغان شہریوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

افغانستان کی وزارت امربالمعروف و نہی عن المنکر کے ترجمان نے دارالحکومت کابل میں نیوز کانفرنس کے دوران طالبان سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا کہ خواتین کے والد یا قریبی رشتہ دار سے ملاقات کی جائے گی اور گھر سے باہر نکلتے ہوئے چہرہ نہ ڈھانپنے والی خواتین کو بالآخر ملازمت سے برطرف یا جیل میں ڈال دیا جائے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ چہرے کو ڈھاپنے کا مثالی طریقہ ایسے برقعے کا استعمال ہے جو پورے جسم کو ڈھانپے۔

اس قسم کا برقع 1996 سے 2001 تک قائم رہنے والی سابق طالبان حکومت کی عالمی سطح پر علامت بن گیا تھا۔

افغانستان میں زیادہ تر خواتین مذہبی وجوہات کی بنا پر سر پر دوپٹہ لیتی ہیں لیکن کابل جیسے شہری علاقوں میں بہت سی خواتین اپنا چہرہ نہیں ڈھانپتیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طالبان کو مغربی حکومتوں کی قیادت عالمی برداری کے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم افغان خواتین کے حقوق پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی وجہ سے کچھ علما اور اسلامی ممالک بھی اس ردعمل کا حصہ بنے ہیں۔

مارچ میں حیرت انگیز یو ٹرن لیتے ہوئے طالبان نے لڑکیوں کے ہائی سکولز کو اس صبح بند کر دیا  تھا جس روز وہ انہیں کھولنے والے تھے۔

ان کے اس اقدام پر عالمی برداری نے برہمی کا اظہار کیا اور امریکہ نے افغانستان کا مالی بحران  کم کے لیے منصوبہ بندی کی خاطر مجوزہ ملاقاتیں منسوخ کر دیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ملا ہبت اللہ اخوندزاہ کے فرمان میں کہا گیا ہے کہ ’خواتین چدوری اوڑھیں (سر سے پاؤں تک ڈھاپنے والا برقع) کیوں کہ یہ روایتی اور محترم ہے۔‘

طالبان سربراہ کے حکم نامے کے مطابق: ’ایسی خواتین جن کی عمر زیادہ نہیں ہے یا وہ نوجوان ہیں انہیں شریعت کے احکامات کے مطابق آنکھوں کے سوا اپنا چہرہ لازمی طور پر ڈھانپنا ہو گا تا کہ نامحرم مردوں (بالغ یا قریبی مرد رشتہ داروں) سے ملاقات کے وقت اشتعال انگیزی سے بچا جا سکے۔‘

فرمان میں مزید کہا گیا ہے کہ خواتین کو گھر سے باہر کوئی ضروری کام نہیں تو’بہتر ہے کہ وہ گھر پر ہی رہیں۔‘

ادھر افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ ’برقع حجاب کی ایک قسم ہے، صرف یہی حجاب نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر حجاب ہیں جو تسلیم کیے جا سکتے ہیں اگر وہ جسموں کو مکمل طور پر ڈھانپ لیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین