نرسوں کا عالمی دن: ’ہمیں بھی ڈاکٹروں جتنی عزت ملنی چاہیے‘

نرسوں کے عالمی دن کے موقع پر بلوچستان کی ایک نرس کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اتنی عزت دی جانی چاہیے جتنی ڈاکٹروں کو دی جاتی ہے۔ کیوں کہ مریض کے پاس ہمہ وقت ڈاکٹر نہیں بلکہ نرس ہوتی ہے۔‘

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ہسپتالوں میں نرسوں کی تعداد محدود ہونے کی وجہ سے ایک نرس پورے وارڈ کو سنبھالنے پر مجبور ہے۔

بارہ مئی کو دنیا بھر میں نرسوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر انڈپینڈنٹ اردو نے کوئٹہ کے سول ہسپتال کے دل کے امراض کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں کرنے والی ایک نرس سے بات کی ہے۔

نرس حیدر عفت نے کوئٹہ میں ہسپتالوں کی صورتحال کے بارے میں کہا کہ ’یہاں پر مریضوں کے ساتھ ان کے تیمارداروں کو بھی سنبھالنا ایک مشکل اور صبر آزما کام ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دل کے امراض کا یونٹ چونکہ انتہائی حساس ہے، اس لیے یہاں پر انتہائی نازک حالت والے مریضوں کو لایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ایمرجنسی کے مریض بھی آتے ہیں۔‘

عفت کہتی ہیں کہ ’اس یونٹ میں 15 بیڈز ہیں جبکہ نرسوں کی تعداد صرف دو ہے۔ جو ان سب کی دیکھ بھال کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’بلوچستان میں نرسوں کو وہ عزت بھی نہیں دی جاتی جو ان کو ملنی چاہیے۔‘

’80 فیصد لوگ ایسے ہیں جن کی نظر میں نرس کی کوئی عزت نہیں ہے۔ اس کے باوجود کہ ان سب لوگوں کے مریضوں کی دیکھ بھال یہی نرسیں کرتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اتنی عزت دی جانی چاہیے جتنی ڈاکٹروں کو دی جاتی ہے۔ کیوں کہ مریض کے پاس ہمہ وقت ڈاکٹر نہیں بلکہ نرس ہوتی ہے۔‘


سول ہسپتال کوئٹہ کے نرسنگ سپرٹنڈنٹ بابر اںصاری سمجھتے ہیں کہ ’معیار تو چھوڑیں ضرورت کے مطابق بھی نرسیں یہاں پر نہیں ہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بابر انصاری نے بتایا کہ ’بلوچستان میں نرسوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں دو بیڈ پر ایک نرس کا ہونا لازمی ہے لیکن یہاں پر پورے وارڈ میں ایک نرس ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’سنڈیمن سول ہسپتال کے 72 یونٹس ہیں جبکہ یہ جلد ایک ہزار بیڈ کا ہسپتال بننے جارہا ہے۔ یہاں پر نرسوں کی کل تعداد 186 ہے۔‘

’پورے بلوچستان میں نرسوں کی کل تعداد 800سے زائد ہے جبکہ اس وقت ہمیں چھ سے آٹھ ہزار نرسوں کی ضرورت ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اگر شہر میں کوئی ایمرجنسی ہوجائے جیسے دھماکہ وغیرہ تو اس صورت میں تمام بوجھ اس کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں پر نرسوں کی تعداد زیادہ ہونی چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ پہلے نرسیں پنجاب سے آتی تھیں۔ اب کوٹہ ختم ہونے کی صورت میں نہیں آرہی ہیں۔ دوسری طرف جب یہاں پر نئی آسامیاں نہ ہونے کے باعث تربیت یافتہ نرسیں پنجاب اور خیبر پختونخوا جارہی ہیں۔

اس وقت صوبہ بلوچستان میں نرسنگ کالج سنڈیمن صوبائی ہسپتال میں پوسٹ کارڈیک کے لیے 25، انستھیزیا 20، سائیکاٹری 20 ، بیسک میڈیکل 25 اور بیسک سرجیکل فیکلٹی کے لیے 25 نشستیں مختص ہیں۔

نرسنگ کالج سنڈیمن صوبائی ہسپتال کی پرنسپل استر نوین کہتی ہیں کہ اگر ہم سروسز کی بات کریں تو اس ضمن میں نرسوں کی تعداد بہت کم ہے۔

استر نوین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’مریضوں کی تعداد کے حساب سے ہمیں جتنی نرسوں کی ضرورت ہے یا پھر پاکستان نرسنگ کونسل کا جو معیار ہے ، اس حساب سے ہمارے پاس نرسیں کافی نہیں ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم نرسنگ کالج کا موازنہ میڈیکل کالج سے کریں تو ہمارےپاس 25 فیصد سہولیات بھی نہیں ہیں۔ پھر سرکاری کالج ہو تو اس کے کام بھی دھکے سے چلانے پڑتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین