’افغانستان کو پھینٹا لگا کر چھوڑیں گے‘

ہفتے کو پاکستان اور افغانستان کا مقابلہ لیڈز میں واقع ہیڈینگلے گراؤنڈ میں ہونا ہے، میچ سے قبل ہی افغان شائقین پاکستان کو شکست دینے کے بلند و بانگ دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا اثر کرکٹ پر بھی پڑا ہے (اے ایف پی)

ایک وقت تھا جب انگلینڈ اور آسٹریلیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اور سب سے بڑھ کر پاکستان اور بھارت روایتی حریف سمجھے جاتے تھے، لیکن اب پاکستان کے ’حریفوں‘ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ نہ صرف کرکٹ بلکہ ماضی اور حال میں رونما ہونے والے سیاسی معاملات بھی ہیں۔ 

موجودہ دور میں جب بھی پاکستان افغانستان کے مد مقابل آتا ہے تو ان دونوں ملکوں کے جذباتی شائقین اس کو جنگ  کی مانند دیکھتے ہیں۔ افغان ٹیم کے کھلاڑی اور کوچنگ سٹاف پاکستان کو ’سرپرائز‘ دینے کے بیانات دے چکے ہیں جس سے گرماگرمی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

اس کا جواب دیتے ہوئے ماضی کے متنازع فاسٹ بولر شعیب اختر نے اپنے چینل پر افغانستان ٹیم کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’کل ہمارے درمیان کوئی پیار نہیں ہونے والا۔ ہم آپ کو پھینٹا لگانے والے ہیں اور پھینٹا لگا کر ہی چھوڑیں گے۔‘ 

انہوں نے مزید کہا: ’ان کے سی ای او نے کہا تھا کہ پاکستان کو چاہیے ہم سے کرکٹ سیکھے، تو کل ہم افغانستان کو سکھائیں گے کہ کرکٹ کیسے کھیلتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہفتے کو پاکستان اور افغانستان کا مقابلہ لیڈز میں واقع ہیڈینگلے گراؤنڈ میں ہونا ہے۔ یہ میچ افغانستان کے لیے تو کسی خاص اہمیت کا حامل نہیں کیوں کہ وہ پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکا ہے، البتہ پاکستان کے لیے یہ میچ جیتنا انتہائی اہم ہے۔ 

اس میچ سے قبل ہی افغان شائقین پاکستان کو شکست دینے کے بلند و بانگ دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس ٹورنامنٹ کے وارم اپ میچ میں پاکستان افغانستان سے پہلے ہی شکست کھا چکا ہے، اس لیے افغان شائقین کے حوصلے بلند ہیں۔

البتہ اگر دونوں ٹیموں کے ایک روزہ میچوں کا ریکارڈ دیکھا جائے تو 2012 سے اب تک تین میچ کھلے گئے ہیں اور تینوں پاکستان کے نام رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ورلڈکپ کی تاریخ میں ان ٹیموں کا یہ پہلا مقابلہ ہے۔

پچھلے چند برسوں میں افغانستان کی ٹیم عالمی منظرنامے پر تیزی سے ابھری ہے اور اس نے زمبابوے اور آئرلینڈ جیسی پرانی کرکٹ ٹیموں کو دھکیل کر اس ورلڈ کپ میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ اس ورلڈ کپ میں بھی افغان ٹیم نے قدرے بہتر کرکٹ کھیلی ہے جس کا سب سے بڑا مظاہرہ بھارت کے خلاف میچ میں نظر آیا۔

تاہم افغان ٹیم میں اس بار ڈسپلن کا فقدان رہا ہے اور ٹیم کے اندر سیاست اور لڑائی جھگڑے کی خبریں بھی مسلسل آتی رہی ہیں۔ وکٹ کیپر بلے باز شہزاد کا اَن فٹ ہو جانا اور پھر ان کا ویڈیو پیغام جس میں وہ مینجمنٹ سے شکایت کرتے ہوئے نظر آئے۔ ان سب محرکات نے افغانستان کی کارکردگی کو متاثر کیا اور وہ بہترین کرکٹ کھیلنے میں ناکام رہے۔

صرف افغانستان نہیں، بنگلہ دیش بھی

افغانستان کے علاوہ پاکستان کا ایک اور حریف بھی حالیہ برسوں میں سامنے آیا ہے اور وہ ہے بنگلہ دیش۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات سردمہری کا شکار ہیں جس کا اثر کھیل کے میدان پر بھی پڑا ہے۔ 

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والے 36 ایک روزہ میچوں میں 31 پاکستان نے جیتے اور پانچ میں بنگلہ دیش کامیاب ہوا۔ ان میں 2012 میں ہونے والا ایشیا کپ کا فائنل میچ بھی شامل ہے جس میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان نے بنگلہ دیش کو دو رنز سے شکست دی تھی۔  

ورلڈ کپ 1999 میں پاکستان سے واحد میچ جیتنے کے بعد ہی بنگلہ دیش کی ٹیسٹ ٹیم بننے کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ حالیہ اعدادوشمار کے مطابق بنگلہ دیش کا پلڑا بھاری ہے کیونکہ گذشتہ چار مقابلوں میں بنگلہ دیش کامیاب ہوا اور ان مقابلوں میں ستمبر 2018 میں ہونے والا ایشا کپ کا میچ بھی شامل ہے جو سیمی فائنل کی صورت اختیار کر گیا تھا۔

اس میگا ایونٹ کے سیمی فائنل تک رسائی کے لیے یہ دونوں مقابلے پاکستان کو اچھے رن ریٹ  سے جیتنا ہوں گے۔ اگر پاکستان افغانستان کو شکست دیتا ہے اور انگلینڈ اپنے اگلے دو میچوں میں سے  کسی ایک میں شکست کھا جاتا ہے تو پھر پاکستان اور بنگلہ دیش کا میچ کوارٹر فائنل کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ